• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صاحب استطاعت کے ’’حج‘‘ نہ کرنے سے متعلق وعید

ڈاکٹر نعمان نعیم

’’حج‘‘ صاحب ِاستطاعت مسلمان، عاقل، بالغ، آزاد مردوعورت پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے۔ جس پر حج فرض ہوجائے، اُسے اس کی ادائیگی میں جلدی کرنی چاہیے، بلاعذر تاخیر کرنا یا ہر سال اُسے ٹالتے رہنا بہت بڑی خیر سے محرومی کا باعث ہے، اس لیے کہ نہ معلوم اُسے کوئی ایسا عذر پیش آجائے کہ جس کی وجہ سے وہ زندگی بھر حج پر نہ جاسکے، یا کوئی ایسی ضرورت پیش آجائے کہ یہ جمع شدہ سرمایہ سارا اس میں لگ جائے۔ حج کی فرضیت قرآن کریم، حدیث شریف اور اجماع امت سے ایسے ہی ثابت ہے، جیسا کہ نماز، روزہ اور زکوٰۃ کی فرضیت ثابت ہے، اس لیے جو شخص حج کی فرضیت کا انکار کرے، وہ کافر ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اور اللہ کے واسطے لوگوں کے ذمہ اس گھر کا حج کرنا ہے، یعنی اس شخص کے جو کہ طاقت رکھے ،وہاں تک کی سبیل کی اور جو شخص منکر ہو، تو اللہ تعالیٰ تمام جہاں والوں سے غنی ہے۔(سورۂ آل عمران)یہ آیت کریمہ حج کی فرضیت کے حوالے سے نصِ قطعی ہے۔

انسانی طبیعت یہ تقاضا کرتی ہے کہ انسان اپنے وطن، اہل و عیال ، دوست و رشتے داراور مال و دولت سے اُنسیت ومحبت رکھے اور ان کے قریب رہے۔ جب آدمی حج کے لیے جاتا ہے، تو اسے اپنے وطن اور بیوی و بچے اور رشتے دار و اقارب کو چھوڑ کر اور مال و دولت خرچ کرکے جانا پڑتا ہے۔ یہ سب اس لیے کرنا پڑتا ہے کہ حج کی ادائیگی شریعت کا حکم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت نے حج کے حوالے سے بہت ہی رغبت دلائی ہے، انسان کوکعبہ مشرفہ کے حج و زیارت پر ابھارا، مہبط وحی و رسالت کے دیدار کا شوق بھی دلایا ہے۔

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺسے دریافت کیا گیا کہ کون سے اعمال اچھے ہیں؟ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان لانا ۔ پوچھا گیا، پھر کونساعمل؟ فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ پوچھا گیا،پھر کونسا عمل ؟ ارشاد فرمایا: ”حج مبرور“۔(بخاری شریف)

حضرت ابو زہیر ؓ نبی کریم ﷺسے روایت کرتے ہیں۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ”حج میں خرچ کرنا اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی طرح ہے، (جس کا ثواب)سات سو گنا تک ہے“۔(مسند احمد، شعب الایمان) ابن عمرؓ فرماتے ہیں: ”حج اور عمرہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی مانگ ان کو عطا فرماتا ہے، ان کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے، ان کی سفارش قبول کرتا ہے اور ان کے لیے ہزار ہزار گنا تک ثواب بڑھایا جاتا ہے“۔

حضرت ابن عباس ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: حج یعنی فرض حج کی ادائیگی میں جلدی کرو، کیوں کہ تم میں کوئی یہ نہیں جانتا کہ اسے کیا عذر پیش آنے والاہے۔ (مسنداحمد) حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنےخطبہ ارشاد فرمایا:"اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کر دیا ہے پس تم حج کرو ۔ ایک آدمی نے کہا : کیا ہر سال اے اللہ کے رسول ﷺ ؟

آپ ﷺخاموش ہوگئے ،حتیٰ کہ اس نے یہ کلمہ تین بار کہا تو رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا :اگر میں ہاں کہہ دیتا تو حج ہر سال واجب ہو جاتا اور تم اس کی طاقت نہ رکھتے۔"(مسلم کتاب الحج،باب فرض الحج مرۃ فی العمر)ان احادیث سے معلوم ہوا کہ صاحب استطاعت پر عمر میں ایک بار حج فرض ہے۔

جس آدمی کے پاس سامان سفر اور سواری کا انتظام موجود ہو اس پر حج فرض ہے اور جو آدمی طاقت کے باوجود حج نہ کرے، وہ ایک فرض کا تارک ہے۔حضرت عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا: حضورﷺکا یہ ارشاد ہے: جو شخص صاحب حیثیت ہوتے ہوئےجج فرض ادا نہ کرےاور اس کا کوئی عذربھی نہ ہو،اب اس کی مرضی، چاہے یہودی ہوکر مرے، چاہےنصرانی ہوکر۔ (مشکوٰۃ المصابیح)

حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس سفر حج کا ضروری سامان ہو اور سواری میسر ہو جو بیت اللہ تک اسے پہنچا سکے اور پھر وہ حج نہ کرے تو کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر۔ یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :’’اللہ کے لیے بیت اللہ کا حج فرض ہے ان لوگوں پر جو اس تک جانے کی استطاعت رکھتے ہوں۔‘‘(جامع ترمذی)

حج فرض ہونے کے باوجود حج نہ کرنے والوں کو مشرکین کے بجائے یہود و نصاریٰ سے تشبیہ دینے کا راز یہ ہے کہ حج نہ کرنا یہود و نصاریٰ کی خصوصیت تھی، البتہ مشرکین عرب حج کیا کرتے تھے، لیکن وہ نماز نہیں پڑھتے تھے، اس لیے ترک نماز کو مشرکین کا عمل بتایا گیا۔

ارشاد نبویؐ میں استطاعت کے باوجود حج نہ کرنے والوں کے لیے یہ فرمایا گیا ان کے لیے یہودی و نصرانی ہو کر مرنا گویا برابر ہے۔ (معاذ اللہ) اس کے بعد حدیث میں سورۂ آل عمران کی اس آیت کا حوالہ دیا گیا جس میں حج کی فرضیت کا بیان ہے ’’للّٰہ علیٰ الناس حجّ البیت من استطاع الیہ سبیلا‘‘ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ راوی نے صرف حوالے کے طور پر آیت کا ابتدائی حصہ پڑھنے پر اکتفاء کیا، حدیث میں مذکور وعید آیت کے جس حصے سے نکلتی ہے، وہ اس کے آگے والا حصہ ہے یعنی ’’ومن کفر فانّ اللہ غنّی عن العالمین‘‘ (جس کا مطلب یہ ہے کہ اس حکم کے بعد جو کوئی کافرانہ رویہ اختیار کرے ،یعنی باوجود استطاعت کے حج نہ کرے، تو اللہ کو کوئی پروا نہیں ،وہ ساری دنیا اور ساری کائنات سے بے نیاز ہے)

اس میں استطاعت کے باوجود حج نہ کرنے والوں کے رویے کو ’’من کفر‘ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے اور ’’ان اللہ غنی عن العالمین‘‘ کی وعیدسنائی گئی ہے، اس کا مطلب یہی ہو اکہ ایسے ناشکرے اور نافرمان جو کچھ بھی کریں اور جس حال میں مریں ،اللہ کو ان کی کوئی پروانہیں۔(معارف الحدیث جلد چہارم صفحہ ۱۹۳)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس شخص نے حج کیا، اس میں نہ تو کسی شہوانی اور فحش بات کا ارتکاب کیا اور نہ اللہ کی کوئی نافرمانی کی تو وہ گناہوں سے ایسا پاک و صاف ہو کر واپس ہو گا جیسا اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پے در پے حج اور عمرہ کیا کرو، کیونکہ حج اور عمرہ دونوں فقر و محتاجی اور گناہوں کو اس طرح دور کر دیتے ہیں، جس طرح لوہار اور سنار کی بھٹی لوہے اور سونے اور چاندی کا میل کچیل دور کر دیتی ہے اور حج مبرور کا صلہ تو بس جنت ہی ہے۔(جامع ترمذی، سنن نسائی)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ’’حج اور عمرہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں۔ اگر وہ اللہ سے دعا کریں تو وہ ان کی دعا قبول فرمائے اور اگر وہ اس سے مغفرت مانگیں، تو وہ ان کی مغفرت فرمائے۔‘‘حضرت عبداللہ بن عمر ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کسی حج کرنے والے سے تمہاری ملاقات ہو تو اس کے اپنے گھر میں پہنچنے سے پہلے اسے سلام کرو اور مصافحہ کرو اور اس سے مغفرت کی دعا کے لیے کہو، کیونکہ وہ اس حال میں ہے کہ اس کے گناہوں کی مغفرت کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ (مسنداحمد)

حج کرنے میں جلدی کیجیے، لہٰذا ہر بندۂ مومن جو صاحبِ استطاعت ہو، زندگی میں اسے کم ازکم ایک مرتبہ ضرور حج کا قصد کرنا چاہیے۔ حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: حج یعنی فرض حج میں جلدی کرو، کیوں کہ تم میں کوئی یہ نہیں جانتا کہ اسے کیا عذر پیش آنے والا ہے۔(مسنداحمد،:۲۸۶۷)

حج نہ کرنے پر سخت وعید ہے۔ لہٰذا صاحب استطاعت شخص بیت اللہ کا حج ضرور کرے اور کوشش کرے کہ استطاعت کی موجودگی میں جلد حج کرے کیونکہ موت کا علم کسی آدمی کو نہیں۔ اس لیے اپنی زندگی میں اس فریضہ سے سبکدوش ہو جائے۔

اقراء سے مزید