• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نورا فتحی نے متنازع گانے پر معذرت کر لی

تصویر سوشل میڈیا۔
تصویر سوشل میڈیا۔

مراکشی نژاد کینیڈین رقاصہ، گلوکارہ اور بالی ووڈ اداکارہ نورا فتحی نے ’’سرکے چنر‘‘ گانے تنازع پر بھارتی قومی کمیشن برائے خواتین سے معذرت کر لی۔ 

جمعرات کو کمیشن کے سامنے پیش ہوکر انھوں نے کہا کہ ان کا کسی کے جذبات مجروح کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا بلکہ انھیں اس صورتحال میں ڈال دیا گیا تھا۔ وہ اس معاملے پر معذرت خواہ ہیں۔

خواتین کی غیر شائستہ عکاسی کے معاملے پر قومی کمیشن برائے خواتین کی سربراہ  وجیا راہتکار نے متنازع فلمی گانے سرکے چنر سے متعلق سماعت کی۔ واضح رہے کہ اس معاملے میں سنجے دت بھی شامل ہیں۔

جمعرات کو نورا دہلی میں کمیشن کے سامنے پیش ہوئیں۔ اس سے قبل وہ ہندی ورژن سے لاتعلقی ظاہر کر چکی تھیں اور کہا تھا کہ انہوں نے صرف کناڈا ورژن کی شوٹنگ کی تھی، جبکہ ہندی ورژن بنانے سے پہلے ان کی رضامندی نہیں لی گئی۔

کمیشن کے سامنے پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے 34 سالہ نورا نے بتایا کہ انہوں نے تحریری معافی نامہ جمع کرا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک پبلک فیگر اور فنکارہ ہونے کے ناطے وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھتی ہیں۔

نورا نے بتایا کہ بطور اصلاحی اقدام کے طور پر انہوں نے یتیم بچیوں کی تعلیم کی کفالت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ کمیشن نے بہت مہربانی اور مدد کی۔ ہمارے لیے معاشرے کو واپس کچھ دینا بہت ضروری ہے، اسی لیے میں نے فیصلہ کیا کہ چند یتیم بچیوں کی تعلیم کی ذمہ داری اٹھائی جائے۔ یہی اس معاملے کے بعد ہمارا مقصد ہے۔

گزشتہ ماہ بالی ووڈ کے سینئر اداکار سنجے دت بھی اسی تنازع کے سلسلے میں نیشنل کمیشن فار ویمن کے سامنے پیش ہوئے تھے اور تحریری معافی نامہ جمع کرایا تھا۔

اس سے قبل نورا کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہو سکی تھیں کیونکہ وہ بیرونِ ملک تھیں، جس کے باعث انہوں نے نئی تاریخ کی درخواست کی تھی۔

 واضح رہے کہ کمیشن کی سربراہ نے دوران سماعت گانے میں خواتین کی مبینہ فحش اور غیر مناسب عکاسی پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور ذمہ داری سے متعلق سوالات اٹھائے تھے۔

یاد رہے کہ گانے کا ہندی ورژن 15 مارچ کو یوٹیوب پر جاری ہوا، جس میں نورا اور سنجے دت شامل تھے، اس میں غیر اخلاقی بول شامل تھے جس کی وجہ سے شدید عوامی تنقید کی زد میں آ گیا۔ بعدازاں گانے کا ہندی ورژن یوٹیوب سے ہٹا دیا گیا، تاہم یہ دیگر پلیٹ فارمز پر گردش کرتا رہا۔ گیت نگار، گلوکار اور ہدایتکار نے بھی اس معاملے پر معذرت کی تھی۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید