مانچسٹر میں کاروان ِ ادب اور پنجابی یونین کے اشتراک سے دوسری عالمی پنجابی کانفرنس منعقد ہوئی۔ یہ محض ایک کانفرنس نہیں تھی، بلکہ بکھری ہوئی آوازوں کا اکٹھ تھا۔ ان لوگوں کا اجتماع جو جانتے ہیں کہ زبان صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی، وہ ایک پورا موسم ہوتی ہے، ایک تہذیب، ایک حافظہ، ایک نسل کی سانس۔تقریب کا آغاز مدثر اقبال اور صابر رضا کی”پگ وٹائی “ سے ہوا۔ میں دیر تک اس منظر کو دیکھتا رہا۔ دو پگڑیاں تھیں، مگر اصل میں وہ دو انسانوں کے درمیان اعتماد، محبت اور روایت کی منتقلی تھی۔ جیسے کوئی بزرگ اپنے ہاتھوں سے چراغ دوسرے ہاتھ میں دے رہا ہو۔کانفرنس میں بہت سے موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ ادب پر، تاریخ پر، ثقافت پر، ہجرت پر۔ مگر ایک موضوع ایسا تھا جس نے محفل کی ہوا بدل دی۔ موضوع تھا: ”پنجابی زبان اور اس کے لہجے“۔وہیں ایک سوال اٹھا”کیا اردو زبان دراصل پنجابی زبان کا ایک لہجہ ہے؟“اس میں کوئی شک نہیں کہ اردو زبان برصغیر کی تہذیبی آمیزش کا حاصل ہے، مگر جب اس کے ظاہری لباس کو ہٹا کر اس کے اندرونی ڈھانچے کو دیکھا جائے تو اس کی بنیادیںپنجابی کے سانچے سے گہری مشابہت رکھتی محسوس ہوتی ہیں۔ زبان کی اصل شناخت صرف الفاظ سے نہیں ہوتی بلکہ اس کی گرائمر، جملوں کی ترتیب، افعال کی ساخت، ضمیروں کے استعمال اور صوتی آہنگ سے ہوتی ہے۔ اور انہی مقامات پر اردو اور پنجابی ایک دوسرے سے اس قدر قریب دکھائی دیتی ہیں کہ دونوں کے درمیان فرق کئی بار صرف لہجے کا محسوس ہوتا ہے۔وہ الفاظ جنہیں آج ہم اردو کے الفاظ کہتے ہیں، ان میں سے بیشتر پنجاب کی صدیوں پرانی مٹی سے اٹھے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ پنجابی صدیوں سے” کن، نک، اکھ“ بولتی آئے ہیں۔ اردو نے انہیں کان، ناک، آنکھ بنا دیا۔ مگر یہ تبدیلی زبان کی نہیں، صرف آواز کی ہے۔ جیسے ایک ہی دریا کبھی پتھروں سے ٹکرا کر شور مچائے اور کبھی میدانوں میں اتر کر خاموش بہنے لگے۔پنجابی میں جمع بنانے کیلئے” آں“کا استعمال صدیوں سے موجود ہے: اکھیاں، چڑیاں، بچیاں، باریاں۔ اردو نے بھی یہی طریقہ اپنایا، صرف آواز کو نرم اور ہموار کر لیا۔ میں نے سوچا، شاید زبانیں بھی انسانوں کی طرح وقت کے ساتھ اپنے لہجے بدل لیتی ہیں، مگر اپنی اصل عادتیں نہیں چھوڑتیں۔جملے بنانے کی ترتیب بھی بنیادی طور پر ایک جیسی ہے۔ پنجابی کہتی ہے: میں کتاب پڑھدا ہاں، اور اردو کہتی ہے: ” میں کتاب پڑھتا ہوں“۔ دونوں میں فاعل پہلے، مفعول درمیان میں اور فعل آخر میں آتا ہے۔ یہی ساخت پورے شمالی ہند اور پنجاب کے لسانی مزاج کی پہچان ہے۔افعال کی گردان میں بھی عجیب قربت ہے۔ ” اوہ جاندا اے“ اور”وہ جاتا ہے“ کے درمیان فاصلہ اتنا ہی ہے جتنا ایک ہی گیت کو دو مختلف گلوکاروں کے گانے میں ہوتا ہے۔” اوہ گئے“اور”وہ گئے“ایک ہی جڑ کی دو شاخیں محسوس ہوتے ہیں۔ پنجابی کا ’’سی‘‘ اردو میں ’’تھا‘‘ بن گیا، مگر جملے کی روح وہی رہی۔ ’’اوہ آ ریا اے‘‘ اور’’وہ آ رہا ہے‘‘ دو الگ زبانیں کم اور ایک ہی احساس کی دو آوازیں زیادہ لگتی ہیں۔نفی کے جملے بھی ایک ہی سانچے میں ڈھلے ہوئے ہیں۔’ میں نئیں جاندا ‘اور’میں نہیں جاتا‘۔ سوالیہ جملے بھی تقریباً ایک ہی انداز رکھتے ہیں: ’’تسی کتھے جا رہے او؟‘‘ اور ’’تم کہاں جا رہے ہو؟‘‘۔ فرق صرف اتنا ہے جتنا ایک ہی گھر کے دو کمروں کی روشنی میں ہوتا ہے۔ملکیت کے اظہار میں بھی یہی قربت نظر آتی ہے۔’’میری کتاب، اوس دا گھر، انہاں دیاں اکھیاں‘‘ اور ’’میری کتاب، اس کا گھر، ان کی آنکھیں‘‘ایک ہی تہذیبی درخت کی دو شاخیں محسوس ہوتی ہیں۔ پنجابی ’’سونہڑاپن‘‘ کہتی رہی، اردو نے بچپن، اپنائیت اورسوتیلا پن جیسے لفظوں کے ذریعے اسی ذائقے کو آگے بڑھایا۔اردو کے الفاظ ’’کی “اور’’کے‘‘ بھی پنجاب کے قدیم ناموں میں آج تک سانس لیتے دکھائی دیتے ہیں۔ پتوکی اور مریدکے جیسے نام صرف مقامات نہیں، زبان کے قدیم قدموں کے نشان ہیں۔مرکب افعال میں بھی یہی مماثلت نمایاں ہے: ’’لے جانا، کر دینا، آ جانا‘‘۔ ضمیر بھی ایک دوسرے کے سائے معلوم ہوتے ہیں: ’’توں، تسی، تساں‘‘ اور’’تو، تم، آپ‘‘۔ سوالیہ الفاظ ’’کی، کتھے، کدوں، کیوں‘‘ اور ’’کیا، کہاں، کب، کیوں‘‘بھی ایک ہی لسانی فضا کی الگ الگ گونجیں محسوس ہوتے ہیں۔آٹھ سو سال پہلے جب اردو زبان کا تصور بھی پوری صورت میں موجود نہیں تھا، تب بابا فریدنے کہا تھا: پنج رکن اسلام دے، چھِیواں رکن ٹُک اور واقعی، ’ٹک‘آج بھی اردو میں ’ٹکر‘ کے مخفف کے طور پر زندہ ہے۔ یہ صرف ایک لفظ نہیں، ایک مشترک تہذیبی حافظے کی باقیات ہے۔ اس طرح کی سینکڑوں مثالیں دی جا سکتی ہیں۔مگر جب گفتگو سرائیکی کی طرف مڑی تو فضا کا رنگ بدل گیا۔ وہاں صرف آواز نہیں بدلتی، جملے کا اندرونی نظام بھی ایک نئی دنیا اختیار کر لیتا ہے۔ سرائیکی محض پنجابی کا لہجہ محسوس نہیں ہوتی بلکہ اپنی الگ نحوی ساخت، الگ صوتی آہنگ اور منفرد لسانی روح کے ساتھ سامنے آتی ہے۔جہاں اردو اور پنجابی جملے کو کھول کر بیان کرتی ہیں، وہاں سرائیکی اسے ایک لفظ میں سمیٹ دیتی ہے۔ ’’میں نے کام کیا ہے‘‘ یا ’’میں کم کیتا اے‘‘ کے مقابل ’’کیتَم‘‘ صرف مختصر اظہار نہیں بلکہ ایک الگ نحوی نظام کی علامت ہے۔ یہاں م اورس جیسے لاحقے فاعل کو اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں۔ کتیم اورکتیس جیسے الفاظ صرف لفظ نہیں، ایک الگ لسانی شعور کی دھڑکن ہیں۔مجھے یوں محسوس ہوا جیسے پنجابی اور اردو دو بہنیں ہوں، جن کے چہرے ایک دوسرے سے ملتے ہوں، مگر سرائیکی اسی گھر کی وہ تیسری بہن ہو جس کی آواز، چال اور آنکھوں کی اداسی سب سے مختلف ہو۔بہر حال دل کی گہرائی سے مدثر اقبال بٹ، صابر رضا، احسان شاہد، رضیہ چوہدری، شگفتہ گمی، زاہد حسن، عمیر منظور اور دلبیر کتھوریا کو اس کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے صرف ایک تقریب منعقد نہیں کی، بلکہ پردیس میں بکھری ہوئی زبان کی دھڑکنوں کو دوبارہ ایک جگہ جمع کر دیا۔