بھارتی ریاستوں میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے نتائج نے ایک بار پھر مذہبی بنیاد پر سیاسی تقسیم کو اجاگر کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتخابات کے نتائج ہندوؤں اور مسلمانوں میں واضح اختلافات کو ظاہر کر رہے ہیں۔
حالیہ انتخابات کے نتائج کے مطابق مسلمان ووٹرز نے کانگریس، دیگر اپوزیشن جماعتوں یا مقامی جماعتوں کی حمایت کی ہے جب کہ ہندو ووٹرز نے بڑے پیمانے پر حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حمایت کی ہے۔
مسلمان ووٹرز بڑی اپوزیشن جماعتوں، خاص طور پر کانگریس کے ساتھ اس لیے اتحاد کر رہے ہیں، کیونکہ وہ کانگریس کو ایک سیکولر سیاسی جماعت کے طور پر دیکھتے ہیں۔
دوسری جانب، بی جے پی کو ہندو ووٹرز کی زبردست حمایت اس لیے حاصل ہے، کیونکہ یہ پارٹی ہندو قوم پرست سیاسی وژن کو فروغ دیتی ہے اور 2014ء سے قومی اور ریاستی سیاست میں غالب رہی ہے۔
یہاں تک کہ بی جے پی نے تو بھارت کی کئی ریاستوں میں انتخابات میں مسلمان امیدواروں کو کھڑا کرنے سے بھی گریز کیا ہے۔
اس حوالے سے بی جے پی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کی یہ حکمتِ عملی سیاسی حقائق اور ووٹرز کی ترجیحات کی عکاسی کرتی ہے۔
بی جے پی کی اس حکمت عملی پر حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی حکمتِ عملی سے اقلیتی ووٹرز کی نمائندگی اور ان کے سیاسی تحفظ کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے۔
یہ رجحان بھارت کی کئی ریاستوں میں دیکھا گیا ہے اور اس حوالے سے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بھارتی سیاست میں گہری نظریاتی تقسیم کو ظاہر کرتا ہے۔
سیاسی مبصرین کا بھارت کی موجودہ سیاسی صورتِ حال کو ’ریورس پولرائزیشن‘ سے تعبیر کرتے ہوئے کہنا ہے کہ ووٹرز تیزی سے مذہبی اور نظریاتی بنیاد پر تقسیم ہوتے نظر آ رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذہب اور نظریات کی بنیاد پر تقسیم کے اس رجحان کو بدلنے کی کوشش نہیں کی گئی تو یہ رجحان مزید گہرا ہو سکتا ہے۔