فرانس میں زبان و ادب کے ایک استاد فلورن مونٹاکلیر کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے خود ہی ایک جعلی عالمی انعام بنایا اور پھر خود کو اس کا فاتح قرار دے دیا۔
دی نیوز انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق مونٹاکلیر کا دعویٰ تھا کہ مجھے 2016ء میں پیرس میں ہونے والی ایک تقریب میں ’علمِ لسانیات کے طلائی تمغے‘ سے نوازا گیا ہے، تقریب میں وزراء اور نوبیل انعام یافتہ شخصیات بھی شریک ہوئی تھیں، بعد ازاں انکشاف ہوا کہ نہ تو یہ انعام حقیقی تھا اور نہ ہی اسے دینے والا ادارہ موجود تھا۔
تحقیقات کے مطابق پروفیسر نے 2015ء میں اس منصوبے کی بنیاد رکھی تھی جبکہ مقامی اخبار نے انہیں ’نوبیل انعام کی دوڑ میں شامل شخصیت‘ بھی قرار دیا تھا۔
پولیس کے مطابق مونٹاکلیر نے اعتراف کیا ہے کہ اُنہوں نے تقریب سے پہلے 250 یورو میں خود تمغہ تیار کروایا تھا تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ دھوکا نہیں بلکہ علمی دنیا میں نیا اعزاز متعارف کروانے کی ناکام کوشش تھی۔
رپورٹس کے مطابق یونیورسٹی نے پروفیسر کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا ہے جبکہ فرانسیسی حکام اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا اس جعلی اعزاز سے ان کے تدریسی نظام کو غیر قانونی فائدہ پہنچا یا نہیں۔