• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معرکۂ حق بلا شبہ حق و باطل کے درمیان جنگ تھی۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے مطابق" اور کہو کہ حق (اسلام/ سچائی) آگیا اور باطل (کفر/ جھوٹ) مٹ گیا،بے شک باطل کو مٹنا ہی تھا". بنی اسرائیل 17:81۔یہ آیت فتح مکہ کے موقع پر نازل ہوئی جب کعبۃ اللہ بتوں سے پاک کیا گیا جو حق کے غلبے اور باطل کے خاتمے کی علامت تھی۔ یہی اٹل پیغام ربِ تعالیٰ ہے کہ سچائی کے سامنے جھوٹ قائم نہیں رہ سکتا! معرکۂ حق 2025 پاکستان دشمنوں کے خلاف 78 سالہ سازشوں سے مقابلہ ہی نہیں بلکہ برِ صغیر میں پہلے مسلمان کی آمد سے شروع دو قومی نظریے کے تحفظ کا تسلسل بھی تھا۔ ہندو اور مسلمان ندی کے دو پاٹ ہیں جو کبھی ایک دوسرے سے نہیں مل سکتے جس کی بنیادی وجہ مسلمانوں کا اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی واحدانیت پر کامل ایمان جبکہ ہندو تین کروڑ خداؤں کے ماننے والے ہیں۔وہ مسلمان ہی نہیں جو کسی کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا شریک ٹھہرائے۔ اُدھر ہندو مت میں ہر جاندار جو فائدہ یا نقصان پہنچانے کی طاقت رکھتا ہو اسے خدا مان کر پوجا کی جاتی ہے۔ ہندو کہاوت ہے کہ ہندو مت کا اتنا بڑا دل ہے کہ وہ کسی بھی تہذیب کو گلے لگا کر اپنے اندر ضم کر سکتی ہے۔ تاہم مسلمانوں سے انہیں پُرخاش ہے کہ وہ ہندوؤں میں ضم ہونے کو تیار نہیں۔ ہندو کہتے ہیں کہ ہم تو حضرت محمدؐ کا بھی بت بنا کر مندر میں رکھنے کو تیار ہیں لیکن ایسے کرنے پر مسلمان مرنے مارنے پر تیار ہو جائیں گے جو خود کو بت شکن بھی کہتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی اختلافات ہیں جو کبھی ختم نہیں ہو سکتے ۔ پاکستان کا وجود میں آنا ہندومت نظریےکی شکست ہے جو اُنہیں کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ پاکستان بننے کے وقت انگریز سرکار نے ہندو قیادت کو یقین دلایا تھا کہ محمد علی جناحؒ اور مسلمانوں کے دباؤ پر ہندوستان تقسیم کیا جا رہا ہے لیکن ایسے معروضی حالات پیدا کیے جائیں گے کہ یہ تقسیم ایک سال میں ختم ہو جائے گی اور پاکستان سر جھکائے واپس ہندوستان سے جڑنے کی درخواست کرے گا ۔ برطانوی وزیر اعظم کلیمنٹ ایٹلی اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے نجی محفلوں اور مختلف مواقع پر بیانات اور ہندو قیادت کی اپنے لوگوں کو یقین دہانیاں اس کی تصدیق کرتی ہیں۔

معرکۂ حق میں ہندوستان کو شکست ِفاش ہوئی! اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن،دنیا کی چوتھی بڑی معیشت کے دعویدار، وشو گرو (عالمگیر رہنما)، تکبر کے پہاڑ پر چڑھے ہندوستانی وزیراعظم کسی کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔ پاکستان کے حوالے سے کہتے کہ وہ خود ہی ختم ہو جائے گا، پاکستان کی معاشی زبوں حالی کی بھد اڑاتے۔ ہندوستان اور پاکستان کا نام اکٹھا لینے کی ممانعت تھی جبکہ ہندوستان کو چین کے مقابل یا برابر بتایا جاتا تھا۔ صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں ’’ہاؤڈی موڈی‘‘تحریک کا ہیوسٹن ٹیکساس اسٹیڈیم میں’’موذی‘‘کےلئے50ہزار ہندوستانیوں کا فقید المثال جلسہ، 2016،پھر 2023 میں امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاسوں میں قانون سازوں کی جانب سے 15دفعہ کھڑے ہو کر "موذی" کے حق میں نعرے اور ہر جملے پر تالیوں کی گونج(79دفعہ) کا نشہ ایسا چڑھا کہ’’موذی‘‘ اپنی اوقات ہی بھلا بیٹھا۔ پاکستان کا نام حقارت سے لیتا، انتخابات میں پاکستان کے خلاف طبلِ جنگ پیٹتا، پاکستان کو ڈراتا دھمکاتا تھا۔ ماضی کی پاکستانی قیادت کے مصلحت آمیز، مفاہمت آمیز، معذرت خواہانہ رویے نے اسےمزید شہہ دی۔ جھوٹے پلوامہ واقعے کو بنیاد بنا کر، بِنا شواہد پاکستان کوچار سال ایف اے ٹی ایف کے چنگل میں پھنسائے رکھا۔ ہمارے حکمرانوں کی کمزوریاں، ذاتی مفادات اور اقتدار میں طوالت کی خواہش نے پاکستان کو ہندوستان کے سامنے گھٹنوں کے بل گرا دیا تھا۔ حتیٰ کہ پاکستان کی جب پہلی سیکیورٹی پالیسی بنی تو نئی حکمتِ عملی کے مطابق ہندوستان سے ہر صورت، ہر قیمت پر اچھے معاشی تعلقات کا اعادہ اور ہندوستان سے سو سال تک جنگ نہ کرنے کا اعلان بھی تھا۔ پاکستان سے بہت سے وشواس گھات ہوئے، دوست نما دشمنوں نے ہمارے مفادات کے سودے کیے، قوم کے اعتبار کو لوٹا گیا جبکہ ہمارے مستقبل کو سستے داموں گروی رکھا گیا۔ سیاسی عدم استحکام اور غیر یقینی صورتِحال کی شکار قوم کو باور کرایا جاتا رہاکہ پاکستان ناکام ریاست ہے، اس کے تین ٹکڑے ہو جائیں گے، اپنا مستقبل دیار ِغیر میں تلاش کرو! پاکستان سے جان بچا کر بھاگ! یہ ملک رہنے کے لائق نہیں۔بد طینت سازشی اپنی سازشوں کے جال بنتے رہے لیکن اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو کچھ اور منظور تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف (فیلڈ مارشل) عاصم منیر کی صورت میں قوم کو ایسی قیادت میسر آئی جسے نظریۂ پاکستان، قومی مفادات اور قومی خواہشات کا بھرپور ادراک تھا اور وہ قومی امنگوں کی تکمیل کے لیے یکسو بھی تھی۔ اسی لیے جب ہندوستان نے پہلگام فالس فلیگ کی آڑ میں پاکستان کو نیچا دکھانے کے لیے شہری علاقوں پر حملہ کیا اور انہیں دہشت گردوں کے ٹھکانے گردانا تو سوئے ہوئے شیر( افواجِ پاکستان) کو جگا دیا۔ پھر تو ہماری بہادر افواج نے چار روز میں ہندوستان کا بھرکس نکال دیا۔ ایسا چاروں شانے چت کیا کہ ہندوستانی فوج اب تک انگشت بدندان ہے کہ یہ سب کیسے ہوگیا ؟

یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا خصوصی کرم ہے کہ پاکستان کو اتنی بڑی کامیابی ملی۔ ہمیں اس تاریخی کامیابی پر سجدہ ریز ہو کر رب کے حضور شکرانے کے نوافل ادا کرنا چاہیں نہ کہ "موذی" کی طرح اپنی قابلیت،صلاحیت اور کامیاب حکمتِ عملی پر غرور و تکبر کےشادیانے بجائیں۔ بطور شکرانہ ملک میں نافذ تمام ایسے قوانین اور احکامات جو قرآن و سنت سے متصادم ہیں انہیں ختم کرنے کا اعلان کرنا چاہیے۔وہ ذاتِ باری تعالیٰ جس نے ہمیں 78 سال تک ہر مشکل سے نکالا،قائم رکھا، ہماری نالائقیوں،نااہلیوں کے باوجود ہمیں اقوامِ عالم میں ممتاز کیا،ظالم دشمن کے خلاف سرخرو کیا وہی ہمارے معاشی مسائل اور دلدر دور کرے گی۔ہمیں چاہیے کہ ہم استقامت سے خود کو احکاماتِ خداوندی کے تابع کریں نہ کہ وہ اقدامات کریں جو اللہ کے غضب کو دعوت دیں۔ 50سال تک شراب پر لگی پابندی اٹھا کر درآمد کی اجازت دینا کیا اللہ تعالیٰ سے سراسر َمکر نہیں! جبکہ حکومت کہتی ہے کہ یہ شراب اپنے لئے نہیں بلکہ ب بیرونِ مما لک زرمبادلہ کے لئےدرآمد کی جائے گی۔ بعینی "یومِ سبت" پر جب ربِ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو مچھلی کے شکار کی ممانعت کی تو نافرمانوں نے گھروں میں دریا سے نالیاں بنا لیں اور کہا کہ ہم شکار نہیں کرتے یہ تو خود آجاتی ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ قوم معتوب ٹھہری تو ہم کیسے اس کے غضب سے بچ پائیں گے؟ ہمیں ربِ کریم کے احسانات ماننے اور عاجزی دکھانے کی ضرورت ہے۔لا الہ الا اللہ کے نام پر لئے گئے پاک وطن کی معیشت کبھی سود یا حرام آمدن سے ٹھیک نہیں ہوگی! پاکستان 1947میں ادھورے انقلاب سے بالآخر اب تکمیل کی جانب گامزن ہوا ہے۔ اسے غیر اسلامی اقدامات اٹھا کر منزل سے نہ بھٹکائیں وگرنہ ہر باطل نظام نے تو بالآخر مٹ جانا ہی ہے۔

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

تازہ ترین