• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا کا بچوں کے اخراجات ادا نہ کرنیوالے والدین کے پاسپورٹ منسوخ کرنے کا فیصلہ

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو 

ٹرمپ انتظامیہ نے ایک ایسے قانون پر دوبارہ سختی سے عمل درآمد شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جو برسوں سے موجود تو تھا مگر اس کا استعمال محدود پیمانے پر کیا جاتا رہا۔

اس فیصلے کے بعد اب امریکا میں ایسے والدین جن پر بچوں کی کفالت کی مد میں 2 ہزار 500 ڈالرز سے زائد رقم واجب الادا ہے، ان کے پاسپورٹ نا صرف روکے جا سکتے ہیں  بلکہ منسوخ بھی کیے جا سکتے ہیں۔ 

ٹرمپ انتظامیہ کے اس فیصلے نے لاکھوں امریکی شہریوں، قانونی ماہرین اور تارکینِ وطن کمیونٹیز میں نئی بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ اس کے اثرات براہِ راست بین الاقوامی سفر، روزگار اور خاندانی زندگی پر پڑ سکتے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایسے تمام افراد جنہوں نے بچوں کی کفالت کے لیے ادائیگی نہیں کی ہے، فوری طور پر متعلقہ ریاستی اداروں سے رابطہ کریں اور اپنے واجبات ادا کریں تاکہ ان کے پاسپورٹ منسوخ ہونے سے بچ سکیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک بار پاسپورٹ منسوخ ہو جانے کے بعد وہ بین الاقوامی سفر کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا اور نیا پاسپورٹ اس وقت تک جاری نہیں ہو گا جب تک متعلقہ ریاستی چائلڈ سپورٹ انفورسمنٹ ایجنسی اس بات کی تصدیق نہ کرے کہ واجبات ادا کر دیے گئے ہیں۔

یہ کارروائی امریکی محکمۂ صحت و انسانی خدمات یعنی ایچ ایچ ایس کے تعاون سے کی جائے گی، جو ان افراد کا ڈیٹا فراہم کرے گا جن پر بچوں کی کفالت کی مد میں 2 ہزار 500 ڈالرز سے زائد رقم واجب الادا ہے۔

ابتدائی مرحلے میں ان افراد کو نشانہ بنایا جائے گا جن پر 1 لاکھ ڈالرز یا اس سے زیادہ کی رقم واجب الادا ہے، جب کہ بعد میں اس کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ اس اقدام کی قانونی بنیاد 1996ء میں منظور ہونے والا ’پرسنل ریسپانسیبلیٹی اینڈ ورک اوپرچونیٹی ریکنسیلیشن ایکٹ‘ ہے، جس پر اُس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن نے دستخط کیے تھے۔ 

اس قانون کے تحت امریکی وزیرِ خارجہ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسے افراد کے پاسپورٹ منسوخ کر سکے جنہوں نے بچوں کی کفالت کی مد میں 2 ہزار 500 ڈالرز سے زائد رقم ادا نہ کی ہوں اگرچہ یہ قانون تقریباً 3 دہائیوں سے موجود ہے، مگر موجودہ امریکی انتظامیہ اب اس پر زیادہ جارحانہ انداز میں عمل کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

محکمۂ خارجہ کی اسسٹنٹ سیکریٹری برائے قونصلر امور مورا نمدار نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ حکومت ایک ایسے اقدام کو وسعت دے رہی ہے جو ماضی میں بھی مؤثر ثابت ہوا۔ 

ان کے مطابق صدر اور وزیرِ خارجہ کی قیادت میں مختلف وفاقی ادارے مل کر اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ امریکی بچوں کو وہ مالی معاونت ملے جس کے وہ حق دار ہیں۔

امریکا میں بچوں کی کفالت کا مسئلہ صرف چند ہزار افراد تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک بہت بڑا مالی اور سماجی بحران سمجھا جاتا ہے۔

امریکی محکمہ صحت و انسانی خدمات کے اندازے کے مطابق ملک بھر میں بچوں کی کفالت کی مد میں اربوں ڈالرز کی رقم والدین پر واجب الادا ہے، جب کہ لاکھوں والدین ایسے بھی ہیں جن کے خلاف بقایا جات کے کیسز موجود ہیں۔ 

ابتدائی مرحلے میں تقریباً 2 ہزار 700 ایسے افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جن پر بچوں کی کفالت کی مد میں1 لاکھ ڈالرز یا اس سے زیادہ کی رقم واجب الادا ہے، تاہم مجموعی طور پر وہ تمام امریکی شہری اس پالیسی کی زد میں آ سکتے ہیں جن پر 2 ہزار 500 ڈالرز سے زائد کی رقم واجب الادا ہے۔ 

وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں پاسپورٹ پابندیوں کے ذریعے بچوں کی کفالت کی وصولی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا تھا اور اسی وجہ سے اب اس قانون پر سختی سے عمل درآمد کر کے اس کو مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔

اس پالیسی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ پاسپورٹ منسوخی جیسے اقدامات بعض اوقات ایسے افراد کو مزید مالی بحران میں دھکیل سکتے ہیں جو پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہیں جب کہ حامیوں کے مطابق بچوں کی مالی ذمے داری سے فرار اختیار کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات ضروری ہیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ آنے والے مہینوں میں عدالتوں اور سیاسی حلقوں میں بھی زیرِ بحث رہ سکتا ہے، خاص طور پر اس سوال پر کہ کیا بین الاقوامی سفر کی آزادی کو چائلڈ سپورٹ انفورسمنٹ کے ساتھ اس حد تک جوڑا جانا مناسب ہے یا نہیں۔

اس فیصلے کے اثرات بیرونِ ملک مقیم امریکی شہریوں پر بھی پڑ سکتے ہیں، کیونکہ اگر کسی شخص کا پاسپورٹ اس وقت منسوخ ہو جائے جب وہ امریکا سے باہر موجود ہو تو اسے واپس آنے کے لیے خصوصی ہنگامی سفری دستاویز حاصل کرنا پڑ سکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ امریکی حکومت نے ایسے تمام والدین کو فوری ادائیگی یا تصفیے کے انتظامات کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ مستقبل میں سفری پابندیوں سے بچا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق اس نئی مہم سے ہزاروں نہیں بلکہ ممکنہ طور پر لاکھوں امریکی متاثر ہو سکتے ہیں، خاص طور پر وہ افراد جو طویل عرصے سے بچوں کی کفالت کی ادائیگی نہیں کر رہے۔ 

یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں خاندانی ذمے داریوں، مالی عدم مساوات اور ریاستی اختیارات کے درمیان توازن پر بحث پہلے ہی شدت اختیار کر چکی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید