آج پوری دنیا ایک عجیب فکری، تہذیبی اور سیاسی کشمکش سے گزر رہی ہے۔ اس کشمکش کے مرکز میں اگر کسی قوم کا نام سب سے زیادہ لیا جا رہا ہے تو وہ مسلمان ہیں۔ دنیا بھر میں تقریباً دو ارب آبادی رکھنے والی مسلم اُمت وسائل، افرادی قوت اور جغرافیائی اہمیت کے باوجود سیاسی طور پر منتشر، سماجی طور پر دفاعی پوزیشن میں اور فکری طور پر شدید دباؤ کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب مسلمان علم، تہذیب، عدل اور انسانیت کے علمبردار سمجھے جاتے تھے مگر آج مغربی دنیا خصوصاً یورپ میں مسلمانوں کے خلاف منظم جذبات پروان چڑھ رہے ہیں۔اسلاموفوبیا اب محض ایک سماجی رویہ نہیں رہا بلکہ کئی ممالک میں سیاسی بیانیہ بنتا جا رہا ہے۔ مغربی سیاست دان اپنی انتخابی کامیابی کیلئے مسلمانوں کو بطور‘‘خطرہ’’پیش کر رہے ہیں اور خطرناک بات یہ ہے کہ اس بیانیے کو پذیرائی بھی مل رہی ہے۔
برطانیہ جیسے ملک، جہاں کبھی کثیر الثقافتی معاشرے کو قابلِ فخر سمجھا جاتا تھا، وہاں بھی حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں Reform UK کی مقبولیت میں اضافہ اس تبدیلی کا واضح اشارہ ہے۔ یہ جماعت امیگریشن، اسلامی تشخص اور مسلمانوں کی سماجی موجودگی کو انتخابی نعرہ بنا رہی ہے۔ حجاب، مساجد، مہاجرین اور اسلامی شناخت سے متعلق سخت بیانات اب برطانوی سیاست میں غیر معمولی نہیں رہے۔ مسلمانوں کے بارے میں یہ تاثر پیدا کیا جا رہا ہے کہ وہ مغربی تہذیب کیلئے خطرہ ہیں۔ یہ وہی برطانیہ ہے جہاں لاکھوں مسلمان ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ، کاروباری شخصیات اور پارلیمنٹیرین کے طور پر ملک کی خدمت کر رہے ہیں، مگر اس کے باوجود ایک طبقہ مسلسل نفرت کی سیاست کو ہوا دے رہا ہے۔ امریکہ میں بھی صورتِ حال زیادہ مختلف نہیں۔ نائن الیون کے بعد مسلمانوں کو جس مشکوک نگاہ سے دیکھا گیا، اس کے اثرات آج تک موجود ہیں۔ امریکی سیاست میں کئی مواقع پر مسلمانوں کیخلاف سخت بیانات دیے گئے۔ آزادیِ اظہار کے دعویدار معاشروں میں جب مسلمان فلسطین، کشمیر یا عالمی ناانصافیوں کیخلاف آواز بلند کرتے ہیں تو بعض حلقے انہیں انتہاپسندی سے جوڑنے لگتے ہیں۔ اسی طرح فرانس میں سیکولرازم کے نام پر مسلم شناخت کو محدود کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ حجاب پر پابندیاں، اسلامی علامات پر اعتراضات اور مسلمانوں کے مذہبی طرزِ زندگی پر تنقید اب معمول بنتی جا رہی ہے۔ یورپ کے کئی ممالک میں دائیں بازو کی جماعتیں مسلمانوں کے خلاف جذبات کو سیاسی طاقت میں تبدیل کر رہی ہیں۔بھارت میں بھی صورتحال تشویشناک رخ اختیار کر چکی ہے۔ حالیہ انتخابی سیاست میں کئی جماعتوں نے مسلمانوں کو نمائندگی دینے سے گریز کیا۔ بعض حلقوں کے مطابق انتخابی مہمات میں مسلمانوں کو دانستہ طور پر الگ تھلگ رکھا گیا تاکہ اکثریتی ووٹ بینک متاثر نہ ہو۔ یہ رجحان صرف ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر میں ایک نئے سیاسی مزاج کی علامت بنتا جا رہا ہے جہاں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، کو انتخابی فائدے کیلئے نشانہ بنایا جاتا ہے۔
اگر مستقبل میں یورپ اور امریکہ میں مسلمانوں کیخلاف مزید سخت پالیسیاں نافذ کی گئیں، یا انہیں معاشی، سماجی اور سیاسی سطح پر دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی، تو اس کے دور رس نتائج پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ مسلمان صرف مہاجر مزدور نہیں بلکہ مغربی معیشت کا اہم حصہ ہیں۔ لاکھوں مسلمان صحت، تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور تجارت کے شعبوں میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگر نفرت کی بنیاد پر ان کی بے دخلی یا مکمل سماجی تنہائی کی فضا پیدا ہوئی تو اس سے مغربی معاشروں میں مزید تقسیم، ردِعمل اور عدم استحکام جنم لے سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم کو مسلسل دیوار سے لگایا گیا، دنیا نے امن کے بجائے انتشار دیکھا۔
تاہم اس تمام صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے مسلمانوں کو صرف دوسروں پر الزام عائد کر کے مطمئن نہیں ہو جانا چاہیے۔ ہمیں اپنے اندر بھی جھانکنے کی ضرورت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم دنیا علمی میدان میں بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ جدید سائنس، تحقیق، فلسفہ، ٹیکنالوجی اور عالمی سیاسی فکر میں مسلمانوں کی مؤثر موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ دنیا آج علم کی بنیاد پر قیادت کرتی ہے جبکہ ہم اب بھی داخلی اختلافات، فرقہ واریت، جذباتی نعروں اور ماضی کے قصوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ بعض شدت پسند عناصر نے اسلام کے حقیقی چہرے کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ چند گروہوں کے پرتشدد رویوں نے پوری مسلم اُمت کو دفاعی پوزیشن میں لاکھڑا کیا۔ اسلام جو امن، برداشت، عدل اور انسانیت کا مذہب ہے، اسے بعض عالمی میڈیا اداروں نے شدت پسندی کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا اور بدقسمتی سے بعض مسلمانوں کے اعمال نے اس تاثر کو مزید تقویت دی۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم دنیا محض احتجاج اور جذباتی نعروں سے آگے بڑھے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو علم، تحقیق، اخلاق، برداشت اور عالمی شعور سے آراستہ کرنا ہوگا۔ دنیا میں عزت صرف نعرے لگانے سے نہیں بلکہ کردار، قابلیت اور فکری قیادت سے حاصل ہوتی ہے۔ مسلم مفکرین، دانشوروں، اساتذہ، مذہبی رہنماؤں اور سماجی شخصیات کو بیٹھ کر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ ہم اپنی قوم کی تربیت کیسے کریں۔ یہ کام صرف حکومتوں کا نہیں بلکہ اہلِ دانش کا بھی ہے۔ اگر علماء، اساتذہ، ادیب، صحافی اور دانشور اپنی ذمہ داری ادا کریں تو مسلم معاشرہ ایک مثبت سمت اختیار کر سکتا ہے۔ اگر مسلم دنیا نے خود احتسابی، فکری اصلاح اور علمی بیداری کا راستہ اختیار نہ کیا تو آنے والے برسوں میں عالمی سیاست میں اس کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔ مگر اگر ہم نے اپنے رویے، ترجیحات اور فکر کو بدل لیا تو یہی دنیا ایک بار پھر مسلمانوں کو امن، علم اور تہذیب کے نمائندے کے طور پر پہچان سکتی ہے۔