ممتا بینرجی کی یوسف پٹھان سے ان کیلئے لوک سبھا نشست چھوڑنے کی درخواست پر بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سارو گنگولی نے خاموشی توڑ دی۔
بھارتی ریاست مغربی بنگال کے حالیہ انتخابات میں ممتا بینرجی کی شکست کے بعد یہ افواہیں سرگرم تھیں کہ وہ ضمنی انتخابات کے ذریعے پارلیمنٹ (لوک سبھا) میں داخل ہونا چاہتی ہیں۔
ایک مقامی بنگالی اخبار نے سنسنی خیز دعویٰ کیا تھا کہ ممتا بنرجی کی پارٹی ترنمول کانگریس نے سابق بھارتی کپتان سارو گنگولی سے رابطہ کیا ہے تاکہ وہ سابق کرکٹر اور موجودہ رکنِ پارلیمنٹ یوسف پٹھان کو بہرام پور کی سیٹ خالی کرنے کے لیے راضی کریں، جہاں سے ممتا خود الیکشن لڑ سکیں۔
اس تہلکہ انگیز انکشاف کے بعد بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سارو گنگولی خود میدان میں آگئے، انہوں نے ان تمام دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں سچائی سے بہت دور قرار دیا۔
اپنے تفصیلی بیان میں سارو گنگولی نے ان خبروں کو مکمل جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ میرا کبھی بھی سیاسی معاملات سے کوئی لینا دینا نہیں، ممتا بنرجی نے مجھ سے کبھی یوسف پٹھان کو کوئی پیغام دینے کی درخواست نہیں کی گئی۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب میں نے رابطہ ہی نہیں کیا، تو یوسف پٹھان کی طرف سے انکار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
رپورٹ کے مطابق ٹی ایم سی بہرام پور کی سیٹ کو ممتا بنرجی کے لیے سب سے محفوظ سمجھا جارہا تھا، کیونکہ وہاں مسلم ووٹرز کی تعداد 50 سے 52 فیصد ہے۔ اسی سیٹ پر سابق کرکٹر یوسف پٹھان نے کانگریس کے قد آور رہنما ادھیر رنجن چوہدری کو ہرا کر سب کو چونکا دیا تھا۔
اخبار نے دعویٰ تھا کہ چونکہ سارو گنگولی اور یوسف پٹھان آئی پی ایل ٹیم کوکلہ نائٹ رائیڈرز کےلیے ایک ساتھ کھیل چکے ہیں، اسی وجہ سے پارٹی نے سارو کے ذریعے یوسف کو سیٹ چھوڑنے کا پیغام بھیجا جسے یوسف پٹھان نے مبینہ طور پر ٹھکرا دیا۔