• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مئی 2026ءمیں جب استنبول کے جدید ایکسپو سینٹر میں SAHA 2026بین الاقوامی دفاعی نمائش کے دروازے دنیا پر کھلے تو یہ محض ایک عسکری نمائش نہیں تھی، بلکہ عالمی طاقت کے بدلتے ہوئے جغرافیے کا ایک واضح اعلان تھا۔ پانچ سے نو مئی تک جاری رہنے والی اس نمائش نے اس حقیقت کوعیاں کیا کہ اکیسویں صدی میں عسکری قوت صرف روایتی ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، خود انحصاری، مصنوعی ذہانت، بغیر پائلٹ نظاموں، ہائپرسونک رفتار اور اسٹرٹیجک ڈیٹرینس کی صلاحیت سے متعین ہوگی۔ اسی تناظر میں SAHA 2026نہ صرف ترکیہ بلکہ پورے یوریشیائی خطے کیلئے ایک نئے دفاعی عہد کی علامت بن کر سامنے آئی۔دنیا کے 120 سے زائد ممالک کے وفود، ہزاروں عسکری ماہرین، 1700سے زیادہ دفاعی کمپنیوں اور درجنوں وزرائے دفاع و عسکری سربراہان کی موجودگی نے اس امر کی تصدیق کی کہ ترکیہ اب عالمی دفاعی صنعت کامرکز بن چکا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں جس خاموش مگر منظم حکمتِ عملی کے تحت انقرہ نے دفاعی خود کفالت کی راہ اختیار کی تھی، SAHA 2026 ءدراصل اسی کی عملی جھلک تھی۔ترکیہ کی دفاعی پالیسی یہ رہی کہ اس نے مغربی دنیا پر مکمل انحصار ختم کرنے کی کوشش کی اورگزشتہ بیس برس میں مقامی دفاعی صنعت کو ریاستی پالیسی کا مرکزی ستون بنا ئےرکھا ۔اسی حکمتِ عملی کا نتیجہ تھا کہ آج SAHA 2026 میں پیش کیے گئے بیشتر نظام مکمل یا جزوی طور پر مقامی ٹیکنالوجی پر مبنی تھے۔ Baykar، ASELSAN، ROKETSAN اور دیگر اداروں نے نہ صرف جدید ہتھیار متعارف کرائے بلکہ یہ بھی واضح کیا کہ ترکیہ اب تحقیق، تیاری، انضمام اور برآمد کے مکمل دفاعی ماڈل کی طرف بڑھ چکا ہے۔نمائش میں سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنیوالے نظاموں میں Bayraktar-TB2اورقنجی ڈرونز شامل تھے۔ یہ وہ پلیٹ فارمز ہیں جنہوں نے ترکیہ کی عسکری شہرت کو عالمی سطح پر نئی شناخت دی۔ یہی وجہ ہے کہ آج درجنوں ممالک ترک ڈرونز خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ SAHA 2026میں اس کامیابی کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے مقامی انجن سازی شروع کردی گئی ہے۔ دفاعی صنعت میں حقیقی خود مختاری اسی وقت ممکن ہے جب کسی ملک کاPropulsion Systems یعنی انجن ٹیکنالوجی پر کنٹرول ہو۔

ترکیہ کے پانچویں نسل کے جنگی طیارےقاآن کے تین پروٹوٹائپس اور ایک اسٹیٹک ٹیسٹ ایئر فریم کی تیاری کی تصدیق اس بات کا اشارہ تھی کہ انقرہ مستقبل کی فضائی برتری کیلئے طویل المدت منصوبہ بندی کر رہا ہے۔مغربی دنیا سے F-35 پروگرام میں اختلافات کے بعد ترکیہ نے واضح طور پر فیصلہ کیا کہ وہ اپنی فضائی قوت کو بیرونی سیاسی فیصلوں کا محتاج نہیں رہنے دےگا۔ مغربی دفاعی ماہرین بھی اس بات پر متفق ہیں کہ آنیوالی دہائیوں میں فضائی جنگ کا بڑا حصہ Autonomous Systems پر مشتمل ہوگا، اور ترکیہ اس میدان میں نمایاں پیشرفت کرتا دکھائی دے رہا ہے۔بری دفاعی شعبے میں آلتائے،مین بیٹل ٹینک کی سیریل پروڈکشن کی پہلی جھلک بھی اہم تھی۔اگرچہ انجن اور پاور پیک جیسے مسائل نے اس منصوبے میں تاخیر پیدا کی، تاہم SAHA 2026 میں اسکی موجودگی نے یہ پیغام دیا کہ ترکیہ طویل المدت زمینی جنگی صلاحیتوں پر بھی سرمایہ کاری کررہا ہے۔بحری میدان میںماوی وطن،حکمتِ عملی کے تحت پیش کیے گئے خودکار بحری اور زیرِ آب نظاموں نے خصوصی توجہ حاصل کی۔طوفان اورقلیچ جیسے autonomous kamikaze systems اس بات کی علامت ہیں کہ ترکیہ بحیرۂ روم، ایجین اور بحیرۂ اسود میں اپنی بحری موجودگی کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ جدید بحری جنگ اب صرف بڑے جنگی جہازوں تک محدود نہیں رہی بلکہ بغیر پائلٹ بحری نظام،اسمارٹ مائنز،انڈرواٹر ڈرون اور نیٹ ورک سینٹرک وار فیئرمستقبل کی بحری حکمتِ عملی کا حصہ بن چکے ہیں۔اسی تناظر میں قومی طیارہ بردار بحری جہازموگیم کا منصوبہ بھی غیرمعمولی ہے۔یہ منصوبہ مکمل ہوتا ہے تو ترکیہ ان چند ممالک میں شامل ہوسکتا ہے جو indigenous carrier capability رکھتے ہیں۔ اسکا مقصد صرف عسکری برتری نہیں بلکہ بحری راستوں، توانائی کے ذخائر اور جیوپولیٹکل اثر و رسوخ کا تحفظ بھی ہے۔تاہم ان تمام منصوبوں کے باوجود SAHA 2026 کا اصل مرکزِ نگاہ یلدرم حان بین البراعظمی ہائپر سونک بیلسٹک میزائل رہاجسکی رونمائی نے عالمی دفاعی حلقوں میں غیرمعمولی بحث چھیڑ دی۔ حکام کے مطابق یہ میزائل 6 ہزار کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ اسکی رفتار میک 9 سے میک 25 تک ہوسکتی ہے۔ مزید یہ کہ تقریباً 3 ہزار کلوگرام وار ہیڈ لیجانے کی صلاحیت اسےانتہائی اہم اسٹرٹیجک ہتھیار بناتی ہے۔ترک وزارتِ دفاع کے مطابق میزائل میںاستعمال ہونیوالا اسیمیٹرک ڈائی میتھائل ہائیڈرازین اور نائٹروجن ٹیٹرا آکسائیڈ پر مبنی مائع ایندھن بھی مقامی سطح پر تیار کیا گیا ہے۔ ہائپرسونک میزائل ٹیکنالوجی اس وقت دنیا کی سب سے پیچیدہ اور حساس ٹیکنالوجیز میں شمار ہوتی ہے۔

امریکہ، روس اور چین جیسے ممالک گزشتہ کئی برسوں سے اس شعبے میں برتری حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہائپر سونک نظاموں کی بنیادی خصوصیت انکی غیرمعمولی رفتار ہے،جسے intercept کرنا انتہائی مشکل ہے۔یہی وجہ ہے کہ عالمی میڈیا اور عسکری تجزیہ کاروں نےیلدرم حان کومحض ایک میزائل نہیں بلکہ ترکیہ کے Geopolitical ambition قرار دیا۔گزشتہ برس ترکیہ عالمی سطح پر گیارہواں بڑا اسلحہ برآمد کنندہ بن چکا ہے اور 2025 میں 10 ارب ڈالر سے زائد کی دفاعی برآمدات اور 185 ممالک کو 230 سے زائد دفاعی مصنوعات کی فراہمی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ترکیہ اب عالمی اسلحہ منڈی میں مستقل جگہ بنا چکا ہے۔SAHA 2026 کے دوران تقریباً 8 ارب ڈالر کے دفاعی معاہدوں پر دستخط اس امرکا ثبوت تھے۔ صدر ایردوان نے SAHA 2026 کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ اب دفاع، ہوا بازی اور خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں ان ممالک میں شامل ہوچکا ہے جنکی صلاحیتوں کا عالمی سطح پر اعتراف کیا جاتا ہے۔ ان کا یہ بیان محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ گزشتہ برسوں کی عملی پیش رفت کا خلاصہ تھا۔

تازہ ترین