ان دِنوں عالمی امور و معاملات پر ایران امریکا خلفشار اس قدرحاوی ہے کہ دھیان کسی اور طرف جا ہی نہیں رہا ۔آج بھی من یہی چاہ رہا ہے کہ اس ایشو کے وہ پہلو، جو واضح نہیں ہیں، ان پر اظہار خیال کیا جائے،امریکی پریزیڈنٹ ڈونلڈ ٹرمپ بیجنگ پہنچ رہے ہیں جہاں پریزیڈنٹ شی کے ساتھ دو طرفہ معاملات ہی نہیں مڈل ایسٹ بالخصوص ایران امریکا تناؤ کے حوالے سے معاملات بھی زیر بحث آئیں گے۔ اگرچہ ٹرمپ یہ چاہیں گے کہ وہ چائنا کے ساتھ مستقل نوعیت کے ایشوز کو اپنے ایجنڈے میں ترجیحی طورپر رکھیں لیکن یہ ممکن نہیں کہ اسٹریٹ آف ہرمز کی ناکہ بندی اور یہاں سے آئل کی عالمی سپلائیز کے ایشوز پر مکالمہ نہ ہو، جو چینی اکانومی کیلئے بھی رگِ جاں کی حیثیت رکھتے ہیں ۔حالیہ دنوں ہماری ہمسائیگی میں جو ریاستی انتخابات ہوئے ہیں ان کے نتائج بھارتی سیاست میں کسی انقلاب سے کم نہیں، مڈل ایسٹ میں دلچسپی کے کارن ان بھارتی ریاستی انتخابات کا جائزہ پیش نہ کرنا حقیقتاً بڑی تاخیر یا مسنگ ہے اس لیے آج کے کالم کو اسی ایشو تک محدود رکھنے کی مجبوری ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا بیشترمیڈیا انڈین جمہوریت کی اہمیت کے حوالے سے خاصا بےخبر ہی نہیں ایک مصنوعی و لاحاصل مخاصمت کے باعث دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا کماحقہ جائزہ لینے سے قاصر ہے یا پھرمناقشت کے ساتھ ہمیشہ اسے منفی طور پر پیش کرتا ہے، یہاں ایسا مائنڈ سیٹ ہے جو انڈیا کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہنےپر بھی ناک بھوں چڑھانے لگتا ہے شاید ان لوگوں کو اتنی بڑی حقیقت کا علم ہی نہیں کہ مغربی جمہوریتوں بشمول امریکا و یورپ، سب کے مجموعی ووٹ بھی اکیلے انڈیا کےووٹوں کی تعداد سے کم ہے ۔اس پر فوراً منفی پروپیگنڈا شروع کر دیا جاتا ہے کہ کون سی بڑی جمہوریت؟ انہوں نے تو وہاں مسلم مینارٹی کا جینا حرام کر رکھا ہے وہاں تو ہندوتوا کے مذہبی نظریے پر استوار بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہندو سیاست ہو رہی ہے ایسے صاحبان بالعموم خطے کی تاریخ سے نابلد و ناآشنا ہوتے ہیں لیکن اپنے تئیں خود کو ارسطو ثانی خیال کرتے ہیں ۔یہ وہی انڈیا ہے جہاں مسلم حکمرانوں نے تلوار کے زور پر صدیوں حکمرانی کی یہاں تک کہ انگریز نے ان حکمرانوں کو ہٹاتے ہوئے برٹش سلطنت قائم کر لی، جس کے خلاف آزادی کی مختلف تحریکیں اٹھیں بالآخرمہاتما گاندھی کی قیادت میں کانگریس کی تحریک نے بدلتے عالمی حالات کے تناظر میں انہیں بوریا بستر سمیٹتے ،بھاگنے پر مجبور کر دیااور پھر اسی مہاتما گاندھی نے بٹوارہ قبول کیا اوراپنی قوم کو ناراض کرتے ہوئےمسلم کمیونٹی کی خوشی کے لیے اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر لاکھوں مسلمانوں کی جانیں بچائیںپاکستان کو اس زمانے کی خطیر رقم پچپن کروڑ روپے دلوانے کے لیے مرن بھرت رکھ لیا۔اتنی بڑی ہندو میجارٹی کو ناراض کرتے ہوئے مسلمانوں کی دلجوئی میں اس قدر آگے بڑھ گئے کہ اپنی قوم کے ایک فرد کے ہاتھوں قتل کر دیے گئے، اس اندوہناک موت کے باوجود کانگریس پارٹی نے پنڈت نہرو کی قیادت میں طور پر مسلم دلنوازی جاری و ساری رکھی اور آج کے دن تک راہول گاندھی کی قیادت میں کانگریس اپنی اسی پالیسی پر کاربند و گامزن ہے، اگرچہ اسے پہلے کی طرح آج بھی اس کی بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے کانگریس کی اسی دیرینہ پالیسی کے نتیجے میں بی جے پی کا ظہور ہوا، نتیجتاً کانگریس روز بروز قومی و عوامی وسیع تر دھارے سے کٹ کر محض کمیونل پارٹی کی حیثیت سے باقی رہ گئی ہے حالانکہ اس پارٹی کا فخر یا اعزاز یہ تھا کہ انہوں نے اتنے بڑے دیس کو آزادی دلاتے ہوئے ایک ماڈرن انڈیا کی بنیادیں استوار کی تھیں لیکن بدلتے لمحات یا وقت کے تیور نہ سمجھنے کے باعث آج اتنی بڑی کانگریس پارٹی نہ صرف اقتدار سے محروم ہو چکی ہے بلکہ سکڑتے ہوئے بقول آسام کے مسلم رہنما مولانا بدرالدین اجمل،اب کانگریس نیو مسلم لیگ بن چکی ہے” آئیے حالیہ انتخابی نتائج کے تناظر میں اس حقیقت کا جائزہ لیتے ہیں ان دنوں چار بھارتی ریاستوں ویسٹ بنگال، آسام، تامل ناڈو اور کیرالہ کے ساتھ ایک یونین ٹیریٹری میں انتخابات ہوئے ہیں جن کے نتائج بڑے دلچسپ آئے ہیں- ویسٹ بنگال میں انتہائی مضبوط خیال کی جانے والی ممتا بینرجی اور ان کی پارٹی ترنمول کانگریس ٹی ایم سی بری طرح پٹ گئی ہے وہ ممتا بینرجی جو گزشتہ پندرہ برس سے ویسٹ بنگال کی سیاست پر پوری طرح چھائی ہوئی تھیں بلکہ سیاہ و سپید کی مالک گردانی جاتی تھیں حالت یہ تھی کہ دو ہزار چوبیس کے انڈین یونین الیکشن میں جب مودی سرکار تیسری بار جیت کر سرکار بنانے جا رہی تھی تو ہندوستان کی پوری اپوزیشن ممتا بینرجی کو مودی کی ٹکر یا پائے کی لیڈر خیال کرتے ہوئے ان سے بہت کچھ کر گزرنے کی امیدیں باندھ رہی تھی اور یہ خود بھی شیرنی بنی، ہر موقع پر مودی اور بی جے پی سرکار کو للکارتی دکھائی دیتیں، یہاں تک کہ وہ خود کو مشرقی بنگال یعنی موجودہ بنگلہ دیش کی قیادت کے سامنے ایک متبادل انڈین قیادت کے روپ میں پیش کرتیں، بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کی جیت پر انہوں نے نو منتخب پرائم منسٹر طارق رحمان کو مٹھائیاں اور پھول بھیجتے ہوئے یونین سرکار کےخلاف امیگریشن پالیسی پر بھی اپنی الگ شناخت کروانی چاہی ، جیسے انڈین سرکار اور بنگلہ دیش کے بیچ ویسٹ بنگال کوئی بفر اسٹیٹ ہو اور مودی جی بنگلہ دیش سے معاملہ کرتے ہوئے ممتا بنرجی کی اہمیت کو تسلیم کریں اور بھید بھاؤ میں ان کے تعاون پر مجبور ہوں واضح رہے کہ دو ہزار چوبیس کے انتخابات میں ممتا بینرجی کی ترنمول کانگریس ٹی ایم سی نے 294 کی ریاستی اسمبلی میں 213 سیٹیں حاصل کی تھیں جبکہ مودی جی کی بی جے پی کا اتحاد محض 77 سیٹوں تک محدود رہ گیا تھا ۔