• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وہ بولا ”ہم بے حس نہیں ہوئے... ہم بس اتنے تھک گئے ہیں کہ احساس اٹھانے کی سکت باقی نہیں رہی۔“ یہ جملہ اس نے ایسے کہا جیسے کوئی شخص اپنی قبر کے کتبے پر آخری لفظ کندہ کرتا ہے۔ اسکی آواز میں چیخ نہیں تھی، کیونکہ مسلسل چیخنے والے لوگ ایک دن خاموش ہو جاتے ہیں۔ اور یہ خاموشی دنیا کی سب سے خوفناک آواز ہوتی ہے۔میں نے پوچھا،”تم اتنے پریشان کیوں رہتے ہو؟“ وہ ہنسا نہیں، صرف ایک ٹھنڈی سانس اسکے ہونٹوں سے نکلی۔ بولا،”پریشانی اب کوئی کیفیت نہیں رہی، یہ ہماری شہریت بن چکی ہے“۔پھر اس نے زندگی کا حساب شروع کیا۔ایسا حساب جو ریاضی نہیں، انسانی شکست کا نوحہ تھا۔”تنخواہ باون ہزار ہے۔بیس ہزار مکان کھا جاتا ہے۔ سات ہزار بجلی پی جاتی ہے۔گیس تین ہزار مانگتی ہے جیسے آگ بھی اب امیروں کی جاگیر ہو گئی ہو۔راشن تیس ہزار سے کم میں نہیں آتا۔دو بچوں کی فیس دس ہزار ہے۔موٹرسائیکل میں پٹرول نہیں ڈالتا، اپنی ہڈیاں جلاتا ہوں۔ دو موبائل چار ہزار لے جاتے ہیں، کیونکہ اس زمانے میں رابطہ بھی روٹی کی طرح لازمی ہے۔تیسرا بچہ بیمار رہتا ہے۔ اسکی دوائیوں اور دودھ پر الگ خرچ ہے۔ ابھی کپڑے، جوتے، کسی رشتے دار کی بیماری، کسی شادی، کسی جنازے کو شامل نہیں کیا۔یہ سب ملا کر بانوے ہزار بنتے ہیں۔اور میرے پاس صرف باون ہزار ہوتے ہیں۔ ہر مہینے میری زندگی کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں ہوتا کہ میں خوش ہوں یا اداس... بلکہ یہ ہوتا ہے کہ باقی چالیس ہزار کہاں سے آئیں گے“۔یہ کہتے ہوئے اسکا چہرہ کسی ایسے آدمی کا چہرہ لگ رہا تھا جو زندہ تو ہو مگر زندگی سے خارج ہو چکا ہو۔ پھر وہ اچانک خاموش ہوگیا۔ لمبی خاموشی کے بعد بولا: اب مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ بلاول بھٹو وزیراعظم بن گیا ہے یا ابھی تک شہباز شریف کی حکومت ہے۔ ایران اور امریکہ کی جنگ میں کیا ہو رہا ہے۔انڈیا کے ساتھ ہمارے تعلقات کیسے ہیں۔ دنیا کس طرف جا رہی ہے۔ معیشت ڈوب رہی ہے یا سنبھل رہی ہے۔ مجھے کچھ یاد نہیں رہتا۔ہاں... اتنا ضرور معلوم ہے کہ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز ہے... اور خان ابھی تک جیل میں ہے۔یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں عجیب خلا تھا۔ جیسے ایک پورا انسان اپنے ہی اندر سے بے دخل ہو چکا ہو۔مجھے اس لمحے احساس ہوا کہ غربت صرف جیب خالی نہیں کرتی، شعور بھی کھا جاتی ہے۔ افلاس صرف دسترخوان نہیں چھینتا، آدمی کے اندر کی دنیا بھی ویران کر دیتا ہے۔ جب انسان ہر مہینے اپنی بقا کیلئے لڑ رہا ہو تو اسے عالمی سیاست یاد نہیں رہتی۔ وہ فلسفے نہیں سوچتا، صرف آٹے کی قیمت سوچتا ہے۔وہ نظریات نہیں پڑھتا، بجلی کے یونٹ گنتا ہے۔ اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں سے زیادہ فکر اس بات کی ہوتی ہے کہ بچوں کے اسکول کی فیس آخری تاریخ سے پہلے کیسے جمع ہوگی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بے حسی جنم لیتی ہے۔بے حسی دراصل انسان کی فطرت نہیں، مسلسل ذلت کا آخری مرحلہ ہے۔جب دکھ حد سے بڑھ جائے تو انسان رونا چھوڑ دیتا ہے۔اور جب مسائل زندگی کے ہر دروازے پر پہرہ بٹھا دیں تو آدمی احساسات بند کر دیتا ہے، تاکہ زندہ رہ سکے۔یہ قوم اب جذبات سے نہیں، بقایا جات سے چل رہی ہے۔یہاں ہر شخص کے سینے میں دل نہیں، ایک نامکمل بجٹ دھڑکتا ہے۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں زندہ ہیں جہاں اوپر سے چمکتی ہوئی سڑکیں دکھائی جاتی ہیں، مگر انکے نیچے انسانوں کی ٹوٹی ہوئی ہڈیاں دفن ہیں۔جہاں ترقی کے اشتہار بہت خوبصورت ہیں مگر گھروں کے اندر فاقے بدصورت حقیقت کی طرح بیٹھے ہیں۔ جہاں حکمران قوم کو خوشحالی کے خواب دکھاتے ہیں اور عوام نیند کی گولی خریدنے کی استطاعت بھی کھو چکے ہیں۔پاکستان اب دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ایک وہ پاکستان جو ٹی وی اسکرین پر آباد ہے۔ روشن، شاندار، کامیاب، مسکراتا ہوا۔اور دوسرا وہ پاکستان جو کچن کے خالی ڈبوں میں رہتا ہے۔جہاں مائیں سالن میں پانی بڑھا کر بچوں کو تسلی دیتی ہیں۔ جہاں باپ رات کو دیر تک جاگتا ہے تاکہ بچے اس کی خاموش آنکھوں میں شکست نہ دیکھ لیں۔یہاں لوگ مرتے کم ہیں، گھلتے زیادہ ہیں۔آدمی اچانک ختم نہیں ہوتا، تھوڑا تھوڑا ختم ہوتا ہے۔ایک قسط بجلی کے بل میں مر جاتی ہے۔ ایک قسط بچوں کی فیس میں۔ایک قسط کرائے کے مکان میں۔اور باقی ماندہ حصہ سماج کی بے رحم بے حسی کھا جاتی ہے۔پھر ایک وقت آتا ہے جب انسان کو اپنی ذات بھی یاد نہیں رہتی۔وہ صرف اخراجات کا مجموعہ بن جاتا ہے۔ اس نے آخر میں مجھ سے کہا:”مجھے اب یہ بھی یاد نہیں کہ میں کون تھا۔ کبھی خواب دیکھتا تھا۔کبھی نظریات رکھتا تھا۔کبھی دوستوں کے ساتھ ملک بدلنے کی باتیں کرتا تھا۔اب صرف اتنا جانتا ہوں کہ مہینہ تیس دن کا نہیں... چالیس ہزار کا ہوتا ہے۔‘‘اور میں دیر تک سوچتا رہا...شاید قومیں جنگوں سے اتنی تباہ نہیں ہوتیں جتنی مسلسل پریشان حالی سے تباہ ہوتی ہیں۔کیونکہ جنگیں جسم مارتی ہیں، اور غربت... انسان کے اندر کا انسان۔

تازہ ترین