کراچی میں ڈیوٹی مجسٹریٹ وسطی کی عدالت میں ملزمہ انمول عرف پنکی کو ضلع وسطی میں درج مقدمے کے سلسلے میں پیش کیا گیا، جہاں پولیس نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔
سماعت کے دوران عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کس چیز کا ریمانڈ چاہیے؟ پہلے 10 کیسز میں ریمانڈ حاصل کیا جا چکا ہے؟
ملزمہ کے وکیل لیاقت گبول نے مؤقف اختیار کیا کہ انمول پنکی کو دفعہ 512 کے تحت مفرور قرار دیا گیا تھا، جبکہ قانون کے مطابق مفرور ملزم کی گرفتاری کے بعد جسمانی ریمانڈ نہیں دیا جا سکتا۔
عدالت نے حکم دیا کہ جس عدالت میں ملزمہ کو پہلے پیش کیا گیا تھا، اس کا تحریری حکمنامہ پیش کیا جائے، پہلے والی عدالت کے فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی جسمانی ریمانڈ سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔
سماعت کے دوران ملزمہ کے وکیل نے کہا کہ جس مقدمے میں پنکی کو گرفتار کیا گیا، اس میں پہلے گرفتار ایک ملزم بری ہو چکا ہے۔
عدالت میں گفتگو کرتے ہوئے ملزمہ انمول پنکی نے دعویٰ کیا کہ میرے گھر سے منشیات برآمد دکھائی گئی، حالانکہ وہ گھر 25 سال سے بند تھا، مجھے ڈرایا گیا اور پوری فیملی کو بند کرنے کی دھمکیاں دی گئیں۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کی مالی ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے اور تقریباً 3 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز سامنے آئی ہیں، ملزمہ کا چھوٹا بھائی لاہور میں منشیات سپلائی کرنے کے کاروبار میں ملوث ہے۔
سماعت کے دوران ایک دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ملزمہ کے وکیل نے کہا کہ پنکی کے جوتے گر گئے ہیں اور اس کے پاؤں جل رہے ہیں، جوتے دلوائے جائیں، جس پر پولیس اہلکار نے جواب دیا کہ دھکم پیل میں ہمارے اپنے جوتے بھی گر چکے ہیں۔
ملزمہ انمول پنکی نے عدالت سے میڈیا سے گفتگو کی اجازت بھی مانگی، تاہم عدالت نے میڈیا سے گفتگو کرنے سے ملزمہ کو روک دیا۔
عدالت نے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔