صدر ٹرمپ دورۂ چین سے ناکام اور نامراد لوٹے۔ امریکی وفد کو دورہ شروع ہونے سے پہلے ہی اسکا علم تھا۔ جب کسی ملک کے سربراہ ِمملکت یا وزیراعظم سرکاری دورہ کرتے ہیں تو مہینوں پہلے پروٹوکال افسران کے آپس میں مذاکراتی دور ہوتے ہیں۔ باقاعدہ حتمی تجاویز اور دورے کے مقاصد طے ہوتے ہیں۔ سیکیورٹی، پریس کانفرنسوں، تجارتی وفود سے ملاقاتیں، ریاستی دعوتیں اور مشترکہ اعلامیے سب پہلے سے طے ہوتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے دورۂ چین توقعات کے برعکس کسر رہی جو دورے کی ناکامی کاباعث بنی۔ تجارت کے محاذ پر زمینی حقائق سے عدم آگہی کے باعث دورے میں تجارت اور ٹیکنالوجی پر بنیادی تنازعات حل نہ ہو سکے۔ ادھر چین کا بوئنگ طیاروں کی کم تعداد خریدنے سے بوئنگ کمپنی کے حصص چار فیصد تک گر گئے۔ اس پر مصنوعی ذہانت کے چیس بنانے کی سب سے بڑی امریکی کمپنی این ویڈیا سے چین نے چپس خریدنے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ ٹرمپ کی چین کو چپس بیچنے پر پابندی کے بعد سے چین مقامی کمپنی سے چپس بنوا رہا ہے۔ مزید برآں امریکی گائے کے گوشت کی درآمد پر چینی کسٹم حکام نے پابندی برقرار رکھی ۔ ڈھائی سو افراد کے وفد میں دنیا کی سب سے بڑی تجارتی
کمپنیوں کے مالکان شامل ہونے کے باوجود معاہدے اور اعلانات آٹے میں نمک کے برابر رہے۔ حکمتِ عملی کے محاذ پر سفارتی کمزوری کے باعث صدر ٹرمپ ایران سے آبنائے ہرمز کھلوانے اور چین سے کوئی عملی اقدام یا اعلان کروانے میں بھی ناکام ہوئے۔ صدر ٹرمپ کے خوشامدانہ رویے نے صدر شی جی پنگ کو ظاہر کر دیا کہ انہیں اپنے مؤقف میں نرمی کی ضرورت نہیں۔ اسی لیے انہوں نے تائیوان کے حوالے سے انتہائی سخت انداز میں انتباہ کیا کہ تائیوان کے معاملے میں معمولی سی غلطی براہ راست ٹکراؤ اور تصادم کا باعث بن سکتی ہے۔ بعض مواقع پر انتظامی افرا تفری، تناؤ اور سیکیورٹی اہلکاروں کا پروٹوکال کے برعکس عمل کرنے پر بدمزگی بھی ہوئی۔ پروٹوکال کی ہدایت پر صدر ٹرمپ اپنے دورہ ٔ چین کے دوران صحافیوں سے دور رہے۔ کسی واضح اعلان، اعلامیہ یا بڑے معاہدے کی عدم موجودگی ثابت کرتی ہے کہ امریکی سفارتکار
چینی سفارتکاروں کو کسی بات پر قائل نہیں کر سکے ۔ شاید مارچ میں طے دورے کو مئی تک لے جانے کا مقصد امریکہ کی ایران کے حوالے سے معروضی حالات میں پوزیشن بہتر ہونے اور آبنائے ہرمز پر مکمل امریکی تسلط حاصل ہونےکی امید تھی۔ یوں ٹرمپ چین میں ایک فاتح شہنشاہ کے طور پر داخل ہوتے نہ کہ شکست خوردہ ڈوبتی سلطنت کے صدر کی طرح۔ ایران انتہائی ثابت قدمی و حوصلے سے اپنے حق کے لیے ڈٹا رہا اور یوں صدر ٹرمپ کے دورہ ٔچین کا مقدر ناکامی ٹہرا۔
پاکستان نے انتہائی بردباری اور سنجیدگی سے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق جب وہ تمام معاملات سلجھانے کے قریب تر پہنچے تو اچانک امریکی نائب صدر ایک ٹیلی فون کال (مبینہ طور پر شیطن یاہو) کے نتیجے میں مذاکرات ختم کر کے واپس چلے گئے۔ اس سے ظاہر ہے کہ امریکی انتظامیہ کی ڈوریں اسرائیل ہی ہلاتا ہے۔ جب بھی اسرائیل کو تازہ کمک منگوانی ہو یا اسلحہ ذخیرہ کرنا ہو وہ امریکہ کے ذریعے مذاکرات کا ڈول ڈلواتا اور حصولِ مقصد پر پینترا بدل لیتا ہے۔" شیطن یاہو" نے کہا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینز مجھے روزانہ ایران جنگ پر رپورٹ دیتے ہیں جیسے کہ باقی ٹرمپ انتظامیہ! جنگ بندی اور مذاکرات کی یہ آنکھ مچولی کب سے چلی آ رہی ہے، ایران نے ہر موقع پر کھلے دل سے مذاکرات کیے ۔جون 2025 میں بیشتر عسکری اور سیاسی قیادت جبکہ 28 فروری 2026 کو حملے میں ایرانی رہبر اور روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنئی کو ان کے اہل ِخانہ اور رفقاء سمیت بے دریغ بمباری کر کے شہید کر دیا گیا۔ اس کے باوجود ایرانی اپنے عوام اور دنیا کے امن کے لیے جائز حد تک ہر مطالبہ ماننے کو تیار تھے اور اسی امن کی خواہش کو ان کی کمزوری سمجھا گیا۔ ہر بار مزاکرات کے نتیجے کے قریب پہنچنے پر ایرانیوں کو نئی شرائط، مزید شرائط اور مکمل جھکانے کی کوششیں اور ہرزہ سرائی کا مقصد انہیں متنفر کرنا ہوتا ہے۔ انکا مطمعٔ نظر مستقل جنگ بندی یا امن نہیں بلکہ جان بوجھ کر معاملات الجھا کر خطے کو غلط فہمیوں، بدگمانیوں سے تقسیم کرنے کی کوشش ہے۔ تاکہ آپسی جنگوں سے خطہ کمزور تر ہو کر اسرائیلی اثر رسوخ کے تابع ہو جائے۔ امریکہ و اسرائیل اپنے مشن پر یکسو اور پوری دنیا کی امن، سلامتی اور بقاء کو داؤ پر لگا چکے ہیں۔ اس سازش میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران اور پھر پاکستان ہے کہ جس کے پاسپورٹ پر بھی اسرائیل کے لیے سفر کرنے کی اجازت نہیں۔ اس پر جوہری صلاحیت کا حامل واحد اسلامی ملک انہیں کیسے برداشت ہو۔ بلا شبہ یہ امتیاز صرف پاکستان کو ہی جاتا ہے کہ اس نے کیسے معاملہ فہمی اور فراست سے مشرقِ وسطیٰ میں جانبین کو آپس میں لڑنے سے روک کر اسرائیلی منصوبے کو ناکام بنایا اور عارضی جنگ بندی کروائی۔ پاکستان نے ثابت کیا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے معاملات ،اس کے مفادات اور حساسیت کا فہم رکھتے ہوئے سب کو ساتھ لے کر چلنے اور انکے تحفظ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔پاکستانی قیادت کی کاوشوں سے ہی بات چیت کے در کھلے اور حالات خطرناک درجے تک نہیں پہنچے ۔
دنیا کی واحد سپر پاور ہو یا سب سے بڑی عسکری قوت یا صیہونیوں کو ان کی کتب میں سرزمین ِفلسطین ملنے کاوعدہ ہو۔ تیل اور معدنی وسائل کی طاقت ہو یا ڈالروں کی ریل پیل۔ کسی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ دوسرے ممالک کے وسائل پر قبضہ کرے، ان کی حکومتوں کو اکھاڑے پچھاڑے، دن دہاڑے ڈنکے کی چوٹ پر انکے حکمران اغوا کرے، اپنی فضائی برتری کا سہارا لے کر کسی ملک کے قائدین کو ختم کر ڈالے۔ نہ کسی کو حق ہے کہ وہ اپنے عوام کی بقاء کے لیے ایسے غیر منصف جانبداروں پر اکتفا کرے جن کی لغت میں انصاف، انسانیت،رحم اور رواداری نام کا کوئی لفظ ہی نہیں۔ بعینی ایران کو اپنا افزودہ یورینیم جو اس نے ماضی میں بطور امانت دوسرے ملک میں رکھوایا تھا کی واپسی کا تقاضا کرنا چاہیے۔ خود پر پابندیاں ختم کروانے کے لئے اپنا یورینیم دوسروں کے حوالے کرنے کے باوجود آج بھی ایران غیر محفوظ اور پابندیاں جھیل رہا ہے۔ادھر اسرائیل اور ہندوستان کسی صورت چین نہ لیں گے جب تک پاکستان کی جوہری صلاحیت ختم نہ کر لیں خدانخواستہ ! اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مزید اسلامی ممالک اس صلاحیت کو حاصل کر کے ایک دوسرے کا بازو بنیں۔ امریکہ اور دیگر ممالک اپنے دفاع اور تحفظ کے لئے جوہری پروگرام جاری رکھنے میں حق بجانب ہیں تو باقی کیوں نہیں؟ جیسا کہ علامہ اقبالؒ کہتے ہیں :مشرق کی قوموں میں اتحاد اور یگانگت کی ایک نئی بنیاد ڈالو اور اپنے وطن (اور مستقبل) کو شیطان (اہریمن) کے پنجے سے آزاد کروا لو۔
نقشی از جمعیتِ خاور فگن
واستان خود را ز دستِ اہرمن