اسلام آباد (کامرس رپورٹر) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمدکاشف چوہدری نے حکومت کو سخت وارننگ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر اسلام آباد میں لاک ڈاؤن کے خاتمے کا فوری نوٹیفکیشن جاری نہ کیا گیا تو وفاقی دارالحکومت کے تاجر وزیراعظم ہاؤس کی جانب مارچ کریں گے۔ اتوار کو جاری بیان کے مطابق انہوں نے حکومت کی نااہلی اور ناقص پالیسیوں کو تاجروں کیلئے اربوں روپے کے معاشی نقصان کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے حیران کن اعداد و شمار بھی سامنے رکھ دیے۔کاشف چوہدری نے کہا کہ پورے ملک میں لاک ڈاؤن ختم کیا جا چکا ہے مگر اسلام آباد کے تاجروں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اور بعض نااہل تاجروں کے نام نہاد نمائندوں کی چپقلشوں کی سزا تاجروں کو دی جا رہی ہے جبکہ کاروباری طبقہ پہلے ہی شدید مالی بحران کا شکار ہے۔وفاق کے تاجروں کا ،کاروبار ایران امریکامذاکرات کے دوران بارہ دن مکمل بند رہا جبکہ اسی طرح ایک مذہبی جماعت کے احتجاج اور ایس سی او سمٹ پر بھی اسلام آباد کو کئی دن بند رکھا گیا تھا۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اسلام آباد کیلئے لاک ڈاؤن خاتمے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، بصورت دیگر تاجر سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے اور احتجاج کا رخ وزیراعظم ہاؤس کی طرف ہوگا۔