راولپنڈی (راحت منیر/ اپنے رپورٹر سے) 30جون سے پنجاب میں فرد بیع جاری کرنے پر پابندی لگ جائے گی۔ یکم جنوری سے اراضی کیلئے گرین سرٹیفکیٹ جاری ہوا کرے گا۔ بورڈ آف ریونیو پنجاب سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔جس کے بعدپنجاب میں زمینوں جائیدادوں کا پانچ سو سال پرانا نظام یکم جولائی 2026سے تبدیل ہو جائے گا۔ رجسٹری،فرد کی جگہ گرین سرٹیفکیٹ جاری ہو گا۔ 30 جون 2026سے پنجاب میں پٹواری کلچر کا خاتمہ ہو جائے گا۔ گرین سرٹیفکیٹ کی ابتدا میں فیس9سو روپے رکھی گئی ہے۔ پرانے کھیوٹ سسٹم (khewat system)کو اب جدید پارسل بیسڈ سسٹم (parcel-based system) میں تبدیل کیا جارہا ہے جو زمین کے محل وقوع، درست تقسیم اور حدود کی بنیاد پربنایا گیا ہے۔ شیر شاہ سوری کے دور میں شروع ہونے والا اراضی نظام مریم نواز کے دور میں بدل رہا ہے۔ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ سسٹم میں جائیداد کی ملکیت، حدوداربعہ ، رقبے اور رجسٹریشن کی مکمل تصدیق ڈیجیٹل ہو گی۔ گرین سرٹیفکیٹ جدید، ڈیجیٹل اور پیپر لیس ملکیتی سرٹیفکیٹ ہوگا جو زمین یا جائیداد کے مالک کی ملکیت کی تصدیق شدہ، پکی اور مستقل دستاویز ہوگی۔جس میں زمین /جائیداد کا مکمل پتہ، ضلع، تحصیل ،موضع،رقبہ،زمین کی قسم (رہائشی، زرعی، کمرشل)، ملکیت کی تفصیل، سیٹلائٹ نقشہ، یونیک کیو آر کوڈشامل ہوگا۔گرین سرٹیفکیٹ کے ذریعے فوراً ملکیت کی تصدیق ہوسکے گی۔ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ مستند سرکاری ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ ہے جو کسی بھی زمین یا گھر کی ملکیت کی تصدیق کرتا ہے۔ بیرونِ ملک پاکستانی بھی آن لائن اپنی تمام جائیداد کا ریکارڈ دیکھ سکتے ہیں۔ ریکارڈ محفوظ، آن لائن، ناقابلِ تبدیل اور ہرمالک کی دسترس میں ہو گا۔ شہریوں کو جعلی رجسٹری، زمین پر قبضے، جھوٹے تنازعات، کاغذات کی گمشدگی، پٹوار ی کلچر سے نجات کے ساتھ ساتھ زمینوں کے سلسلے میں ہونے والے فراڈ سے نجات ملے گی۔