• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے چند ماہ قبل جاری کی گئی پاکستان سے متعلق تازہ ترین ملکی رپورٹ حالیہ برسوں میں ملک کیلئے سب سے واضح اور سخت انتباہ میں سے ایک ہے۔ رپورٹ میں اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان کا طرزِ حکمرانی منظم بدعنوانی، غیر شفاف فیصلہ سازی اور طاقتور اشرافیہ کے گہرے اثر و رسوخ کے باعث شدید طور پر کمزور ہوچکا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق، اگر شفافیت، جواب دہی اور قواعد پر مبنی پالیسی سازی پر مشتمل اصلاحاتی پیکیج نافذ کر دیا جائے تو پاکستان آئندہ پانچ برسوں میں مجموعی قومی پیداوار میں 5 سے 6.5 فیصد اضافہ حاصل کرسکتا ہے۔ رپورٹ واضح طور پر اس امر پر زور دیتی ہے کہ پاکستان کے ادارے مؤثر معاشی نظم و نسق کیلئے درکار صلاحیت اور دیانت سے محروم ہیں، اور بہتر طرزِ حکمرانی کوئی انتخاب نہیں بلکہ معاشی بحالی کی بنیادی اور ناگزیر شرط ہے۔ رپورٹ میں معلومات تک رسائی میں توسیع، شفاف طریقۂ کار کے تحت پالیسی فیصلوں، اور سرکاری و غیر سرکاری فریقین کو فیصلہ سازی میں بااختیار بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

آئی ایم ایف کا یہ بھی کہنا ہے کہ بدعنوانی کے خطرات کا فوری اور براہِ راست مقابلہ ناگزیر ہے۔ مختلف اشاریے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وقت کے ساتھ بدعنوانی پر قابو پانے کی صلاحیت کمزور ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں سرکاری اخراجات کی افادیت ، محصولات کی وصولی اور عدالتی نظام پر عوامی اعتماد شدید متاثر ہوا ہے۔ حکومتِ پاکستان اور آئی ایم ایف کی مشترکہ طور پر تیار کردہ حکومتی صلاحیت تشخیصی رپورٹ بجٹ سازی، مالیاتی رپورٹنگ، سرکاری خریداری اور عوامی اثاثوں کے انتظام میں نظامی کمزوریوں کو بے نقاب کرتی ہے، بالخصوص ترقیاتی اخراجات اور سرکاری ملکیتی اداروں میں۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کا ٹیکس نظام حد درجہ پیچیدہ اور غیر شفاف ہے، جسے ایسے ٹیکس اور کسٹم ادارے چلا رہے ہیں جن میں انتظامی صلاحیت، نظم و ضبط اور نگرانی کا فقدان ہے۔ یہی عوامل پاکستان کے مسلسل کم اور گرتے ہوئے ٹیکس تا جی ڈی پی تناسب کی بنیادی وجوہات ہیں۔

عدالتی شعبہ بھی شدید تنقید کی زد میں ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ شعبہ تنظیمی طور پر پیچیدہ، نااہلی ، فرسودہ قوانین اور عدالتی عملے کی دیانت سے متعلق خدشات کا شکار ہے۔ اسکے نتیجے میں پاکستان میں معاہدوں کا نفاذ اور املاک کے حقوق کا تحفظ قابلِ اعتماد نہیں رہاجبکہ یہ دونوں کسی بھی جدید معیشت کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔ رپورٹ میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کار کونسل کے وسیع اختیارات پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں، جو مجموعی جواب دہی کو کمزور کرتے ہیں۔ اب آئی ایم ایف کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ آئندہ مالیاتی قسطوں کو ان اصلاحات سے مشروط کرے تاکہ پاکستانی حکام اس رپورٹ کو سنجیدگی سے لیں۔ اصلاحاتی اہداف کے لیے پنج ماہی واضح معیارات مقرر کیے جائیں اور پیش رفت کی کڑی نگرانی کی جائے۔

اس سنگین پس منظر میں پاکستان کو ایک اور تباہ کن مسئلے کا سامنا ہے، اور وہ ہے نجی شعبے کی تحقیق و ترقیR&D کا تقریباً مکمل فقدان۔ اعلیٰ معیار کی تحقیق و ترقی معاشی ترقی کیلئے ناگزیر ہے کیونکہ یہی نئی معلومات کو جدت طراز مصنوعات ، خدمات اور طریقۂ کار میں تبدیل کرتی ہے۔ جامعات اور تحقیقی ادارے بنیادی علم پیدا کرتے ہیں، مگر بڑے پیمانے پر تجارتی اطلاق کی صلاحیت اور محرک صرف نجی شعبے کے پاس ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں نجی شعبے کی آر اینڈ ڈی (R&D)سرمایہ کاری دنیا میں کم ترین سطح پر ہے۔ جہاں جنوبی کوریا، اسرائیل، فن لینڈ، چین اور امریکہ میں قومی آر اینڈ ڈی کا 60 سے 70فیصد نجی شعبہ فراہم کرتا ہے، وہیں پاکستان اپنی جی ڈی پی کا محض 0.2فیصد تحقیق و ترقی پر خرچ کرتا ہے، جس میں نجی شعبے کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

اس ناکامی کے اثرات نہایت گہرے ہیں۔ نجی شعبے کی تحقیق و ترقی کے بغیر پاکستان نہ تو جدید صنعتیں قائم کر سکتا ہے، نہ عالمی مسابقت میں شامل ہو سکتا ہے، اور نہ ہی کم قدر برآمدات سے آگے بڑھ سکتا ہے۔ جب دنیا نیم موصل ، بائیوٹیکنالوجی ، مصنوعی ذہانت، سبز توانائی ، نینو ٹیکنالوجی اور جدید مواد میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، پاکستان اب بھی تجارت پر مبنی اور کھپت گزار معیشت میں پھنسا ہوا ہے جو نہ پیداواری صلاحیت پیدا کرتی ہے اور نہ پائیدار ترقی ۔

عالمی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ امریکہ میں تحقیق و ترقی پر ٹیکس مراعات (R&D Tax Credits) نے ایپل ، گوگل ، ٹیسلا اور انٹیل جیسی کمپنیوں کو اربوں ڈالر سالانہ تحقیق میں لگانے کی ترغیب دی۔ اسرائیل کے یوزما پروگرام نے وینچر کیپٹل کے باعث ملک کو دنیا کے متحرک ترین جدت طراز ماحولیاتی نظام میں تبدیل کر دیا۔ جنوبی کوریا نے سام سنگ اور ہنڈائی ، ای ٹی آر آئی جیسے عالمی ادارے طویل المدتی صنعتی پالیسی اور حکومت و صنعت کے گہرے اشتراک سے کھڑے کیے۔ چین نے قومی رہنمائی فنڈز (National Guidance Funds) کے ذریعے برقی گاڑیوں، قابلِ تجدید توانائی ، ٹیلی مواصلات اور روبوٹکس میں عالمی قیادت حاصل کی۔ فن لینڈ نے مربوط جدت طرازی نظام کے ذریعے کم آبادی کے باوجود خود کو ٹیکنالوجی کی عالمی قوت بنایا۔اس کے برعکس پاکستان الٹی سمت میں گیا ہے۔ کمزور طرزِ حکمرانی نے سرمایہ کاری کو روکا، جبکہ نجی شعبے کی تحقیق و ترقی کی کمی نے اعلیٰ قدر صنعتوں کو جنم لینے نہیں دیا۔ اسی لیے آئی ایم ایف کی رپورٹ میں شفافیت، جواب دہی اور بدعنوانی کے خاتمے پر زور دیاگیا ہےجو براہِ راست ایک جدت طرازی پر مبنی معیشت کی ضرورت سے منسلک ہے۔

لہذا اصلاحات کو بیک وقت دو محاذوں پر آگے بڑھانا ہوگا۔ ایک طرف آئی ایم ایف کی تجویز کردہ اصلاحات سرکاری خریداری کی ڈیجیٹائزیشن ، ریگولیٹری اداروں کو سیاست سے پاک کرنا، ٹیکس اصلاحات، عدالتی کارکردگی میں بہتری، مالیاتی شفافیت، ایس آئی ایف سی کے فیصلوں کی اشاعت اور صوابدیدی اخراجات کا خاتمہ،ناگزیر ہیں۔دوسری طرف نجی شعبے کی تحقیق و ترقی کے لیے فوری اور طاقتور مراعات دینا ہوں گی، جیسے تحقیق و ترقی کیلئے خصوصی ٹیکس رعایت (R&D Super Deduction)، شفاف نظام کے تحت دی جانے والی جدت طراز امدادی رقوم، سرکاری و نجی تحقیقی مراکز اور پاکستان کے لیے مخصوص یوزما طرز کے وینچر کیپٹل فنڈز۔

آئی ایم ایف کی یہ رپورٹ محض تنقید نہیں بلکہ آخری وارننگ ہے۔ شفاف طرزِ حکمرانی اور تحقیق پر مبنی نجی شعبے کیساتھ پاکستان اب بھی ایک خوشحال اور ٹیکنالوجی سے بھرپور مستقبل تعمیر کر سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر ملک مسلسل بحران میں پھنسا رہےگا۔ عمل کا وقت اب بھی ہےاس سے پہلے کہ موقع کی یہ کھڑکی بند ہو جائے۔

تازہ ترین