دنیا کی سیاست اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت، تجارت، ٹیکنالوجی اور سفارت کاری ایک دوسرے میں یوں گڈمڈ ہو چکے ہیں کہ کسی ایک ملک کا فیصلہ پوری دنیا کی معیشت اور امن پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین عالمی سیاست کا ایک غیر معمولی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں امریکہ اور چین کے تعلقات شدید تناؤ، تجارتی جنگ، ٹیکنالوجی کی پابندیوں اور عالمی بالادستی کی کشمکش کا شکار رہے ہیں۔ ایسے میں جب واشنگٹن اور بیجنگ ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو اس کے اثرات ایشیا سے یورپ اور مشرق وسطیٰ تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
امریکہ طویل عرصے سے چین کو اپنا سب سے بڑا معاشی اور تزویراتی حریف قرار دیتا رہا ہے۔ امریکی پالیسی ساز بارہا دنیا کو یہ باور کراتے رہے کہ چین کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت عالمی نظام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اسی سوچ کے تحت کئی ممالک کو چین کے ساتھ اقتصادی انحصار کم کرنے کا مشورہ دیا گیا، چینی کمپنیوں پر پابندیاں لگائی گئیں، ٹیکنالوجی کی منتقلی محدود کی گئی اور عالمی منڈی میں چین کے اثر و رسوخ کو روکنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن دوسری طرف جب صدر ٹرمپ خود چین پہنچتے ہیں اور اپنے ساتھ ایک درجن سے زائد بڑی امریکی کمپنیوں کے سربراہان لے کر جاتے ہیں تو یہ منظر عالمی سیاست کے کئی تضادات کو بے نقاب کر دیتا ہے۔یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ عالمی سیاست میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے بلکہ مفادات اصل بنیاد ہوتے ہیں۔ امریکہ اگر ایک طرف دنیا کو چین سے محتاط رہنے کا درس دیتا ہے تو دوسری طرف خود چین کی وسیع منڈی سے فائدہ اٹھانے کے لیے بے تاب بھی دکھائی دیتا ہے۔ امریکی معیشت کے بڑے ستون سمجھی جانے والی کمپنیاں جانتی ہیں کہ چین کی اربوں ڈالر کی مارکیٹ سے لاتعلقی ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تجارتی جنگوں اور سخت بیانات کے باوجود امریکی سرمایہ کار چین سے مکمل علیحدگی اختیار نہ کر سکے۔اس دورے کا ایک اور دلچسپ اور متنازع پہلو وہ تھا جس نے انسانی حقوق اور خصوصاً خواتین کے حقوق کے حوالے سے امریکہ کے بیانیے پر سوالات کھڑے کر دیے۔ امریکہ خود کو ہمیشہ خواتین کی آزادی، مساوات اور نمائندگی کا سب سے بڑا علمبردار قرار دیتا ہے۔ دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کے نام پر بیانات دیے جاتے ہیں، دوسرے ممالک پر دباؤ ڈالا جاتا ہے اور جمہوریت و مساوات کے لیکچر دیے جاتے ہیں۔ مگر حیرت انگیز طور پر اس اہم وفد میں ایک بھی خاتون شامل نہ تھی۔ یہ منظر خود امریکی دعوؤں کے لیے ایک سوالیہ نشان بن گیا۔ اگر خواتین کی شمولیت واقعی امریکی اقدار کا بنیادی حصہ ہے تو پھر دنیا کے اہم ترین سفارتی اور معاشی دورے میں خواتین کی مکمل عدم موجودگی کو کس طرح جواز دیا جائے؟اسی طرح چین کے وفد میں بھی کوئی خاتون شامل نہ تھی۔یہ تضاد صرف امریکہ تک محدود نہیں بلکہ عالمی سیاست کا عمومی المیہ بن چکا ہے۔ طاقتور ممالک اکثر اصولوں اور اقدار کی بات کرتے ہیں لیکن جب مفادات سامنے آتے ہیں تو انہی اصولوں کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق، جمہوریت، آزادی اظہار اور خواتین کے حقوق جیسے نعرے اکثر سفارتی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، جبکہ عملی سیاست میں اقتصادی فائدہ اور تزویراتی مفاد سب سے اوپر آ جاتا ہے۔عالمی سطح پر اس دورے کے کئی اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سب سے پہلے تو اس سے عالمی منڈیوں میں اعتماد بحال ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ گزشتہ برسوں میں امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی نے دنیا بھر کی معیشتوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار رکھا۔ تیل کی قیمتوں سے لے کر ٹیکنالوجی کی سپلائی چین تک ہر شعبہ متاثر ہوا۔ اگر دونوں ممالک اپنے اختلافات میں کمی لاتے ہیں تو عالمی تجارت کو استحکام مل سکتا ہے۔
دوسرا اہم اثر جغرافیائی سیاست پر پڑے گا۔ ایشیا میں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کے باعث امریکہ نے اپنے اتحادیوں کو متحرک رکھا ہوا ہے۔ جاپان، جنوبی کوریا، بھارت اور آسٹریلیا جیسے ممالک امریکی حکمت عملی کا حصہ رہے ہیں۔ لیکن اگر واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات میں بہتری آتی ہے تو خطے میں کشیدگی کم ہونے کے امکانات پیدا ہوں گے۔ خاص طور پر تائیوان کے مسئلے پر دنیا ایک خطرناک تصادم کے خدشات محسوس کرتی رہی ہے۔ دو بڑی طاقتوں کے درمیان براہ راست رابطے کسی بھی غلط فہمی کو کم کر سکتے ہیں۔اسی طرح مشرق وسطیٰ اور یورپ بھی اس تعلق سے متاثر ہوں گے۔ روس یوکرین جنگ کے بعد دنیا پہلے ہی غیر یقینی کیفیت میں مبتلا ہے۔ اگر امریکہ اور چین میں تصادم بڑھتا تو دنیا ایک نئی سرد جنگ کی طرف جا سکتی تھی۔ لیکن سفارتی رابطوں کی بحالی اس امکان کو کم کر سکتی ہے۔ دنیا کو اس وقت محاذ آرائی نہیں بلکہ تعاون کی ضرورت ہے، کیونکہ غربت، ماحولیاتی تبدیلی، مہنگائی اور جنگیں پوری انسانیت کے مشترکہ مسائل بن چکی ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ اور چین دونوں ایک دوسرے کے بغیر مکمل طور پر نہیں چل سکتے۔ چین کو امریکی ٹیکنالوجی، سرمایہ اور عالمی مالیاتی نظام کی ضرورت ہے جبکہ امریکہ کو چینی منڈی، سستی مصنوعات اور صنعتی سپلائی چین درکار ہے۔ یہی باہمی انحصار شاید دنیا کو کسی بڑے تصادم سے بچائے ہوئے ہے۔ طاقتور ممالک جب مذاکرات کرتے ہیں تو صرف اپنے مفادات نہیں بلکہ پوری دنیا کے مستقبل کا تعین بھی کرتے ہیں۔صدر ٹرمپ کے دورہ چین کو اگرچہ تضادات، مفادات اور سیاسی مفاہمت کا مجموعہ قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود اس میں امید کی ایک کرن موجود ہے۔ دنیا جنگوں، پابندیوں اور نفرت کی سیاست سے تھک چکی ہے۔ انسانیت کو اب ایسے فیصلوں کی ضرورت ہے جو تباہی نہیں بلکہ استحکام کی طرف لے جائیں۔ اگر واشنگٹن اور بیجنگ اپنی رقابت کو مکمل دشمنی میں بدلنے کے بجائے ذمہ دارانہ مقابلے تک محدود رکھتے ہیں تو یہ پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہوگا۔