• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

(گزشتہ سے پیوستہ)

پچھلے کچھ عرصے سے سرکاری اسپتال اور پرائیویٹ اسپتال دونوں خبروں کی زد میں ہیں ابھی چند روز قبل گریڈ 17 کے اے سی نے جس انداز میں ایک سرکاری اسپتال کی لیڈی ڈاکٹر سے بات کی وہ باعث افسوس ہے۔ پھر اس پر دلچسپ بات یہ ہے کہ موصوف نے اپنے کوٹ پر مائیک لگایا ہوا تھا اور باقاعدہ اس کی ویڈیو بن رہی تھی آپ ایک انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ لیڈی ڈاکٹر سے سخت لہجے میں بات کر کے عوام کے آگے ہیرو بن رہے ہیں اب کوئی ان اے سی صاحب سے یہ پوچھے کہ کیا انہیں علم ہے کہ کب کس مریض کا ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین کرانا ہے اور ان ٹیسٹوں میں مریض کے اندر کتنی مقدار میں ریڈییشن جا رہی ہے؟ اس بات کا انہیں علم ہے؟ کل ہی ہمیں کسی ڈاکٹر نے فون کر کے بتایا کہ میاں چنوں میںسرکاری اسپتالوں کو چیک کرنے کیلئے مارکیٹ کمیٹی کا بھی ایک ممبر شامل ہے اب کوئی ان سے پوچھے کہ اسے کیا علم اسپتال کا نظام کیسے چلتا ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک سرکاری اسپتال کو چیک کرنے کے لیے کتنے افسر اور محکمے کام کر رہے ہوتے ہیں مگر پھر بھی اسپتالوں کا نظام اور مریضوں کے حالات بہتر نہیں ہو پاتے۔ بہرحال وہ اسسٹنٹ کمشنر جو خود تعلیم یافتہ اور سول سروسز اکیڈمی کےتربیت یافتہ ہیں انہیں ایک خاتون ڈاکٹر سے اس تحکمانہ لہجے میں بات نہیں کرنی چاہیے تھی ۔ماضی کی بات کریں تو تمام ٹیچنگ اسپتال میں پرنسپل اسپتال کا چیف ایم ایس ہوتا تھا۔اسپتال کا نظام کچھ یوں تھا ایم ایس پھر اے ایم ایس اس کے بعد ڈی ایم ایس جب کہ پرنسپل دونوں اداروں یعنی میڈیکل کالج اور اسپتال کے سربراہ کے طور پر فرائض سر انجام دیتا تھا۔ رات کے وقت ڈی ایم ایس یا اے ایم ایس ڈیوٹی پر ہوتے تھے اور کبھی کبھار ایم ایس یا پرنسپل رات کو اسپتال کا دورہ کیا کرتا تھا نہ کسی اسپتال میں مار کٹائی ہوتی تھی نہ کوئی اور ہنگامہ۔ ہمیں اسپتالوں کے معاملات کو دیکھتے ہوئے 40برس ہو گئے ہیں پھر ایک حکومت ایسی آئی جس نے کہا کہ اسپتالوں کے نظام کو چلانے کے لیے بورڈ آف مینجمنٹ بنایا جائے اور یہ کہا گیا کہ اس سے سرکاری اسپتال مزید بہتر ہو جائیں گے۔مجھے یاد ہے کہ علامہ اقبال میڈیکل کالج کے بورڈ کے چیئرمین اور پرنسپل کے درمیان جھگڑا ہوا اور پرنسپل نے مزید کام کرنے سے انکار کر دیا اور پھر بورڈ کے چیئرمین کو بھی جانا پڑ گیا، بورڈز کے بننےکے بعد ایک نیا پروٹوکول شروع ہو گیا ۔بورڈ کے ممبران اپنے اپنے مریض بھیجتے رہتے ہیں اور انہیں پروٹوکول ملتا ہے اور عام غریب مریض رلتے رہتے ہیں سارا سارا دن اسپتال کے ایم ایس کو فون آتا رہتاہے کہ بورڈ کے چیئرمین یا فلاں ممبر نے مریض بھیجے ہیں ان کو پروٹوکول ملنا چاہیے اس پروٹوکول نے عام مریضوں کو ذلیل کر دیا ہے۔ ایک سرکاری اسپتال پر ڈی جی ہیلتھ ،سیکرٹری ہیلتھ ،اے جی آفس، وزراء ،ممبران اسمبلی ،بیوروکریٹس ،پنجاب ہیلتھ کیئر کمشنر ،ڈی سی اور اے سی ،پی ایم ڈی سی اور نہ جانے کن کن اداروں کا دباؤ اور سفارشیں آئی ہوتی ہیں ۔تلخ حقیقت یہ ہے کہ وزرا ئےکرام کے پی اےیا پی ایس او اور اعلیٰ افسروں کے پی اےتک اسپتالوں کے ایم ایس اور دیگر ڈاکٹروں پر اپنے رشتے دار مریضوں کے علاج کے لیے دباؤ ڈالتے رہتے ہیں سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹروں پر پروٹوکول کا بہت دباؤ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایک مریض کو علاج کیلئے سفارشیں کیوں کرانا پڑتی ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسپتالوں پر دباؤ بہت زیادہ ہے۔آؤٹ ڈور میں مریضوں کا رش ا ن ڈور میں بستروں کی کمی، مختلف ٹیسٹوں کیلئے سی ٹی اسکین، ایم آر آئی، ایکو ،الٹراساؤنڈ ،سی ٹی، انجیو، تھیلم ٹیسٹ اور آپریشن کیلئے لمبی لمبی تاریخیں قیمتی اور مہنگی ادویات نہیں ملتیں۔ جس ملک کے حکمران اپنا علاج باہر ممالک اور پرائیویٹ اسپتالوں سے کرائیں گے وہاں پر کبھی بھی سرکاری اسپتالوں کا نظام اور معیار بہتر اور اچھا نہیں ہوگا۔ ایک طرف تو دعوے ہیں کہ فلاں اسپتال اسٹیٹ آف دی آرٹ ہوگا مگر ہمیں تو آج تک کوئی اسپتال اسٹیٹ آف دی آرٹ نظر نہیں آیا چلیں کچھ دیر کے لیے ہم مان لیتے ہیں کہ فلاں اسپتال اسٹیٹ آف دی آرٹ ہے تو کیا ہمارے حکمران اور ان کے بچے اس سرکاری اسٹیٹ آف دی آرٹ اسپتال میں علاج کرائیں گے؟ حکمران جن بیماریوں میں مبتلا ہیں وہ بیماریا ں عام انسانوں کو بھی لگ سکتی ہیں لہٰذا کیا ان بیماریوں کے ماہر اور علاج کی سہولیات یہاں ہیں؟ دوسری طرف چھوٹے شہروں میں بنیادی صحت کے مراکز کو آؤٹ سورس کر رہے ہیں۔آؤٹ سورس کرنے کے بعد جو کرپشن اور خرابیاں سامنے آرہی ہیں وہ آپ کے سامنے ہیں ۔ستھرا پنجاب کا حال آپ کے سامنے ہے آپ جتنے بھی اسپتال آؤٹ سورس کر رہے ہیں ان کے اخراجات پورے کرنے کے لیے وہ ڈاکٹرز یا افراد جنہوں نے یہ مراکز صحت لیے ہیں وہ اپنے اخراجات کو پورا کرنے کیلئے اور منافع کمانے کیلئے یقیناً نہ تو معیاری صحت کی سہولیات دیں گے اور نہ معیاری ادویات ۔بعض مراکز صحت میں سینٹری انسپکٹر تک بھی نہیں رکھے گئے اس سے قبل آپ آن ویل اسپتال کا بھی تجربہ کر چکے ہیں آپ نے کلینک آن ویل کے لیے گاڑیاں کرائے پر حاصل کی ہیں اس کی کیا ضرورت تھی ؟گاڑیوں کا پٹرول ،گاڑیوں کا کرایہ پھر آن ویل کلینک میں ادویات کو گرمی سے بچانے کے لیے اے سی اور ان کی مین ٹیننس پھر عملہ ۔اس کی بجائے آپ جتنے بھی مراکز صحت اور سرکاری اسپتال ہیں ان میں جدید سہولیات اور ادویات کی فراہمی 100فیصد کر دیتے تو زیادہ مناسب ہوتااسپتالوں میں بستروں کی تعداد بڑھا دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ اب بھی بے شمار ایسے ٹیسٹ ہیں جو سرکاری اسپتالوں میں نہیں ہو رہے ان کی سہولت پرائیویٹ لیبارٹریوں میں ہے۔ آئندہ کسی کالم میں ہم ان ٹیسٹوں کے نام اور ان بیماریوں کا ذکر کریں گے۔ انگریز اس خطے میں جو ہیلتھ کا سسٹم دے گئے تھے اس کو بہتر کرنا چاہئے تھا 1980ء تک پورے پاکستان میں صوبوں میں ہیلتھ کا سسٹم بہت احسن انداز میں چلتا رہا 1980ء کے بعد اور پھرخصوصاً 1989ء کے بعد شعبہ صحت میں تجربات کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ (جاری ہے)

تازہ ترین