• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وہ زیرک تھا، بلا کا معاملہ فہم بھی، براہ راست چیزوں کو سمجھنے اور سمجھانے والا، وہ ہر اس شخص کی ادا اور نیت کو جانتا جسکے نین ذرا بھی نشیلے اور عزائم زہریلے ہوتے۔ دوسری جنگ عظیم سے پہلے اور بعد میں اس نے بےشمار حکومتی کامیابیاں سمیٹیں۔ اس کا 1933 والا ’نیو ڈیل‘ پروگرام بہت مقبول ہوا جس میں تھری آر (3R) تھے یعنی ریلیف ، ریکَوری اور ریفارمز تاہم کچھ جنگی مجبوریوں کے سبب ایک موقع پر امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ امریکی نوجوانوں کو مطمئن نہ کر سکا۔ اور آخر ایک تحریک نے جنم لیا جسکی پہلی سیاسی قیادت جیننگز رینڈولف نے کی۔ ہوا کچھ یوں کہ جب پہلی دفعہ دوسری جنگ عظیم میں نوجوانوں کو 18 سال کی عمر میں جنگ کرنے کیلئے زبردستی بھرتی کیا جاتا تو ایک بیانیہ سامنے آیا

Old enough to fight old enough to vote.

شروع میں یہ صرف ورجینیا ریاست میں مانا گیا تاہم کم و بیش 29 سال بعد 26 ویں ترمیم میں 1971 میں 21 سال سے کم کر کے ووٹنگ عمر 18 سال کی گئی۔ واضح رہے، ڈیموکریٹک رکن پارلیمنٹ جیننگز رینڈولف نے 1942 میںپہلی بار بل پیش کیا۔ اور کل ملا کر قانون بننے تک 11دفعہ بل پیش کیا۔ا سٹوڈنٹ، نیشنل ایجوکیشن ایسوسی ایشن نے بھی اس تحریک کو 1960 میں توانائی دی۔ جب قانون بنا رچرڈ نکسن صدر تھا، اور وہ ری پبلکن یہ کرنا نہیں چاہتا تھا تاہم کرنا پڑا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد 1955تا 1975 ویت نام جنگ میں بھی زبردستی بھرتی ہوتی رہی گویا نوجوانوں نے منوالیا کہ ’’ اگر 18 سالہ جنگ لڑسکتا ہے تو ووٹ کیوں نہیں ڈال سکتا؟‘‘ 1968 کے بعد جرمنی اور فرانس میں بھی طلبہ تحریکیں چلیں ، پھر جرمنی میں 1970 اورفرانس میں 1974 میں ووٹر عمر 18 برس ہوگئی۔ جاپان میں ووٹنگ عمر 20۔سال چلی آرہی تھی بہرحال ایک تحریک کے بعد 2016 میں یہاں بھی 18 سال ہو گئی۔ آسٹریا ، مالٹا، برازیل اور ارجنٹائن میں ووٹر عمر 16 سال ہے۔ بہرحال 85 فیصد ممالک میں ووٹر کی عمر 18 سال ہے۔پاکستان میں کبھی کوئی مانگ نہیں رہی تاہم 1970میں جنرل یحییٰ خان نے ایل ایف او ( لیگل فریم ورک آرڈر) کے تحت پہلی دفعہ ووٹنگ عمر 21 سال کی ، اور پہلی دفعہ قومی سطح پر براہ راست انتخابات کی شروعات ہونا تھی ۔ پھر 2002 میں جنرل مشرف کے ایل ایف او نے عمر 18 سال کردی۔ان دنوں پاکستان میں 28 ویں ترمیم کے تناظر میں ایک نیا شوشہ سامنے آیا ہے کہ ووٹنگ عمر 25 سال کی جا رہی ہے کیونکہ اس عمر میں ووٹر زیادہ بالغ نظر ہوتا ہے اور بہتر سیاسی فیصلے کر سکتا ہے۔ بحث یہ بھی ہے چونکہ دنیا میں پاکستان وہ ملک ہے جہاں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے چنانچہ اس کے ووٹنگ اثرات بھی نسبتاً زیادہ ہیں۔ خیال ہے، پاکستان میں 18 سے 30 سال کی عمر کے لوگ تقریباً 29 فیصد ہیں ، یوں 30 سال سے کم عمر افراد 60 فیصد ہیں۔ بہرکیف، راقم کا خیال ہے کہ 25 سال کی حد بندی زیر غور نہیں۔ اور نہ مذکورہ ترمیم میں ابھی نئے صوبے بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اضلاع کا انضمام، گلگت بلتستان ، عدالتی معاملات اور این ایف سی ایوارڈ کا معاملہ تو دکھائی دیتا ہے تاہم ووٹر عمر 25 سال کا نہیں۔ دیکھیں تو حکومتی حلیف پیپلزپارٹی کا چیئرمین بلاول بھٹو نوجوانوں کی بات کثرت سے کرتا ہے ، وہ کیسے سوچ سکتا ہے کہ ووٹر دوبارہ 21 سال یا اس سے زائد عمر ہو؟

پاکستان میں کسی نئے پنڈورا باکس کھولنے کی گنجائش ہے نہ حکومت ایسا چاہتی ہے، بے شمار معاشی چیلنجز ، آئی ایم ایف کی فرمائشیں اور احکامات کا سامنا ہی ایک مشکل بنا ہوا ہے۔ اور وہ بےشمار وعدے کہ اصلاحات کے دریچے کھلیں گے ، ابھی تو ان پر وعدوں کے سوا کچھ نہیں۔ بیوروکریسی حکومتی کام کرنے کے درپے ہے، حکومت بیوروکریسی کی محتاج ہے اور ان پر اصلاحات کا کوئی واضح منظر کہیں دکھائی نہیں دے رہا بس فضا میں وعدوں کی باز گشت ہے۔ اچھی گفتگوؤں اور وعدوں کی بھرمار کے علاوہ کوئی متاثر کن چیز وفاقی وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے کریڈٹ پر نہیں۔ ایچ ای سی اور یونیورسٹیاں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، اور وہ بھی اپنے اپنے سوشل میڈیا کی کھوکھلی بنیاد پر۔ سب سے بڑا صوبہ بنیادی جمہوریت ، نچلی سطح تک اختیارات دینے اور بلدیاتی الیکشن کرانے سے قاصر دکھائی دیتا ہے۔ ٹیکس مربوط ہونے کےبجائے بڑھ رہے ہیں، پٹرول لیوی اور گیس نرخوں میں اضافےپر مرکز چل رہا ہے، معیشت کا پہیہ چل پا رہا ہے نہ برآمدات کو کوئی تقویت ہے، تو ایسے میں کیا ووٹرکی عمر کی بڑھوتری ہی قومی مسئلہ رہ گیا ہے؟ نہیں ایسا نہیں ہے۔ یقیناً حکومت حلیفوں کے ساتھ مل کر بھنور سے نکلنے کی بھر پور کوشش کر رہی ہے۔ بالائی سطح پر صدر اور وزیراعظم یا مقتدر کے درمیان کوئی سرد جنگ نہیں تاہم رہی سہی معاشی کسر ایران امریکہ جنگ نے نکال دی اور مشکلات میں ڈال دیا۔ صلح کی مہم میں کامرانی اور آئی ایم ایف سے نبردآزمائی پہلی حکومتی ترجیح اور ترمیم کی فوقیت کے تناظر میں بھی معاشی چیلنجز ہی ہیں۔لیکن حکومت کو چاہئے کہ وہ کابینہ میں کچھ ردوبدل لائے ، یہ ردوبدل کافی حد تک پنجاب میں بھی ضروری ہے کہ گلشن کا کاروبار چلے۔ کتنی دیر تک کسی احسن اقبال کی دانشمندانہ کی باتوں پر تکیہ کیا جا سکتا ہے؟ نعم البدل کیوں نہیں؟ کب تک خواجہ آصف اور رانا تنویرہی میں حل تلاش کرنے ہیں؟ سیٹیں تو حالات حاضرہ میں جیتنا مشکل نہیں مگر وعدے پورے کرنا اور معیشت و برآمدات کے دریچے کھولنا مشکل ہو چکا۔ مرکز یا پنجاب تعلیم و تحقیق میں میاں بلیغ الرحمٰن سے استفادہ کیوں نہیں کرتے؟ گورنری کے بعد کا بلیغ الرحمٰن کا کولنگ آف پیریڈ 10 مئی2026 کا ختم ہو چکا۔ دانیال عزیز کو راضی کرنے میں کیا حرج ہے؟ انہوں نے مشرف دور میں بہترین ضلعی نظام متعارف کرایا۔ بڑے میاں صاحب اور وزیراعظم اس پر سوچیں۔ جنوبی پنجاب میں سید جاوید علی،ہزارہ ڈویژن سے مرتضیٰ جاوید عباسی کی قیادتوں جبکہ گجرات سے چوہدری جعفراقبال اور سرگودھا سے شاہنواز رانجھا جیسی کارکنیت کو فعال کرنا ایک اہم ضرورت ہو چکا۔ یہ ووٹر شوٹر کی عمر کے رولے رپے کے دن بالکل نہیں۔

ان نوجوانوں کو اعتماد میں لیں کسوٹی پر نہیں۔ نوجوان کھرے ہی کھرے ہیں جو اصلاحات کے سوا کچھ نہیں چاہتے ۔ اور حکومت جب 85 فیصد ممالک کے ساتھ چلنا چاہتی ہے تو نوجوان کوریلیف، ریفارمز اور ریکَوری کی خوشخبری دے۔

تازہ ترین