امریکا ایران مذاکرات کے بعد اسرائیلی اسٹاک مارکیٹ اور کرنسی شدید دباؤ کا شکار ہوگئی۔
امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق تل ابیب 35 انڈیکس جون میں 12 فیصد سے زائد گر گیا۔
اسی طرح اسرائیلی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 5 فیصد گراؤٹ کا شکار ہوگئی ہے۔
خیال رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میمورنڈم آف انڈسٹینڈنگ (ایم او یو) کے بعد خطے میں جاری جنگ رُک گئی۔
مذاکرات میں ایران کی جانب سے معاہدے کو لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں روکنے سے مشروط کیا گیا تھا۔
ادھر امریکا نے اسرائیل کی ایران کیساتھ معاہدے کی تفصیلات تک رسائی کی درخواست مسترد کردی۔
امریکا نے قومی سلامتی کے حساس معاملے پر اسرائیل کو معاہدہ دکھانے سے انکار کیا جس پر اسرائیلی حکام نے امریکی فیصلے کو حیران کن قرار دیا ہے۔
تاہم اس معاہدے پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے رد عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ٹرمپ اور وہ ساتھی ہیں، کبھی متفق ہوتے ہیں کبھی اختلاف ہوتا ہے۔