پاکستان ایک بار پھر امریکہ اور ایران کی ثالثی میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔ فیلڈ مارشل اور حکومت ِپاکستان کی امن کے لیے لگن اور انتھک کاوشوں نے مذاکرات میں ایک بار پھر اُمید کے رنگ بھر دیے ہیں۔ نتائج خواہ کچھ بھی رہیں، پاکستان نے ثابت کیا کہ وہ سنجیدگی سے خطے کے حالات کا رخ مثبت جانب موڑنے کی صلاحیت رکھتا اور اپنے علاوہ دیگر ممالک کے دفاع کا بیڑا بھی اٹھا سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ اور ایران دونوں اس وقت پاکستان کے ذریعے بلواسطہ مذاکرات میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ امریکہ کا بنیادی طور پر افزودہ ایورینیم کی حوالگی اور آبنائے ہرمز کو 28 فروری سے پہلے کی پوزیشن پر لے جانے کا مطالبہ ہے جبکہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق مذاکرات کی کامیابی کا دارومدار امریکہ کی ایرانی بحری جہازوں کی قزاقی معطل کرنے، ان کے منجمند اثاثے جاری کرنے اور اسرائیل کی لبنان پر جاری جنگ بند کرنے پر ہے۔ فلحال ایران کی طرف سے جواب نہیں آیا لیکن وزیر داخلہ محسن نقوی کا ایران کے پچھلے ہفتے میں دوسرا دورہ اور اب فیلڈ مارشل کا وہاں پہنچنا مثبت جواب کی جانب اشارہ ہے۔قوی اُمید ہے کہ اس دفعہ پاکستان دنیا کو امن و آشتی کے حوالے سے خوش خبری سنا سکے گا۔انشاءاللہ۔
صدر ٹرمپ فخریہ کہہ رہے ہیں کہ میں جیسا کہوں گا اسرائیلی وزیراعظم ویسا ہی کرے گا جبکہ باخبر ذرائع کے مطابق دونوں کی ایران سے جنگ بندی، آبنائے ہرمز کھولنے اور منجمند اثاثے جاری کرنے پر مفاہمتی یاداشت پر دستخط کرنے کے حوالے سے ایک طویل گفتگو میں باتیں تلخ حد تک جا پہنچیں۔ صدر ٹرمپ نے جب اسرائیلی وزیراعظم کو ایران پر حملہ ملتوی کرنے اور ممکنہ معاہدے کا بتایا تو" شیطن یاہو" نے معاہدے کی پابندی کرنے سے معذوری ظاہر کی اور ایران پر حملے کے منصوبے پر عمل درآمدپر اصرار کیا۔ منصوبے کے مطابق دونوں ممالک کو جلد از جلد ایران کی میزائل اور عسکری صلاحیت کو ہر صورت ملیامیٹ کرنا تھا۔ ایک اسرائیلی ذریعے کے مطابق صدر ٹرمپ کی بات سن کر "شیطن یاہو" کے سر کے بال تک جل گئے جبکہ صدر ٹرمپ نے طیش میں آ کر" شیطن یاہو" پر مغلّضات کی بوچھاڑ کر دی۔ اس سے پہلے بھی صدر ٹرمپ نے ایران پر حتمی حملہ کرنے سے ایک گھنٹہ قبل اُسے خلیجی ممالک کی درخواست پر روکا تھا۔ اب وہ جھنجھلاہٹ میں کہتے ہیں کہ ایران ایک شکست خوردہ ملک ہے، اسے فیصلہ کرنا ہے کہ امن معاہدہ کرے گا یا امریکہ نے جو کام ایران میں شروع کیا اسے انجام تک پہنچانا ہوگا۔اُدھر اسرائیل میں بھی جنگی حکمتِ عملی کی ناکامی اور دیگر اختلافات کی بنا پر اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) میں حزبِ اختلاف کی جانب سے حکومت تحلیل کرنے کے لئے قرارداد جمع کرائی گئی جس میں وقت سے پہلے انتخابات کرانے کا مطالبہ ہے۔ تاہم "شیطن یاہو" کی اتحادی حکومت نے حزبِ اختلاف کی چال بھانپ کر اسی روز ویسی ہی قرر داد جمع کروا دی۔ قرارداد کے حق میں 120 میں سے 110 ووٹ جبکہ مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں پڑا۔ قرارداد پاس ہو کر قانون بن گیا تو آئندہ انتخابات کی تاریخ کا تعین کیا جائے گا جسکی 27 اکتوبر کے طے شدہ انتخابات سے محض ایک ماہ پہلے ستمبر کی شنید ہے۔ اتنے مشکل مراحل سے گزر کر صرف ایک ماہ پہلے انتخابات کرانے کی آخرکیا وجہ ہو سکتی ہے؟ اسرائیلی آئین کے مطابق اگر حکومت بجٹ پاس نہ کرنے کے باعث تحلیل نہیں ہوتی تو عبوری وزیراعظم مع کیبنٹ کے وزراء قائم رہتے ہیں۔ البتہ عبوری حکومت دیرپا معاہدہ جات نہیں کر سکتی یا اسے اعلیٰ سرکاری عہدوں پر نئی تعیناتیاں کرنے کی ممانعت ہے۔ یوں انتہائی قدامت پسند مذہبی رجحانات کی حامل حزبِ اختلاف جو "شیطن یاہو" حکومت کی جبری بھرتی کے قانون اور دیگر جنگی ناکامیوں کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی پر شب خون ماراگیا۔ ان حالات میں بظاہر کچھ اور، لیکن پسِ پردہ کسی اور ہی سازش کے شاخسانے نظر آتے ہیں۔ صدر ٹرمپ اور "شیطن یاہو" کی روزِ اول سے آج تک ملی بھگت روز ِروشن کی طرح عیاں ہے۔
ایرانی ٹی وی پر ان کے مصنوعی ذہانت کے ماہر عدلان علی سنفرانی نے بتایا کہ ایران کا خلائی پروگرام نچلے زمینی مدار میں موجود 94% سیٹلائٹ جن کی تعداد تقریباً 14060 ہے کواینٹی سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے مار کر تباہ کر سکتا ہے۔اس سے مصنوعی سیارے سلسلہ وار ایک دوسرے سے ٹکرائیں گے اور ان کے ملبے سے دوسرے سیارے بھی تباہ ہوتے جائیں گے۔ یوں پوری دنیا کا انفارمیشن، کمیونیکیشن، جاسوسی اور انٹرنیٹ نظام تباہ ہو جائے گا۔ نتیجاً دنیا کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے جس کی مکمل ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوگی۔ بعینی آبنائے ہرمز پر ایران اپنی اجارہ داری اور حق پر پیچھے ہٹنے کو تیار ہے نہ ہی افزودہ یورینیم سے دستبردار ہونے کو۔بلفرض اگر امریکہ اپنی دھمکی کو عملی جامع پہناتے ہوئے ایران پر تباہ کن بمباری،حتیٰ کہ جوہری حملہ بھی کر گزرے تو بھی اتنے بڑے ایران کے چند مقامات کو ہی نقصان پہنچےگا جبکہ ایران کو جوابی ردِ عمل کے لیے بھرپور موقع مل جائے گا۔ جو قوم 47 سال سے اپنے نظریات کے لئے بین الاقوامی پابندیاں جھیلتی رہی ، جس کی نسلوں نے بھاری قیمت ادا کی کہ ایرانی انقلاب کے وقت جو بچہ پیدا ہوا وہ آج 47 سال کا ہے۔ وہ پابندیوں کے علاوہ کسی اور طرزِزندگی سے آشنا ہی نہیں وہ کیسے بلا جواز حملوں کا بدلہ نہ لینا چاہے گی۔ ادھر امریکی اسلحے کا ذخیرہ بھی اتنا خرچ ہو چکا کہ اس میں مزید جنگ لڑنے کی سکت نہیں رہی۔ بمشکل امریکہ اپنی ڈوبتی ساکھ بچانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ اسرائیل تو اب امریکہ کے بغیر ایران سے جنگ لڑنے کا متحمل ہی نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے صدر ٹرمپ اور" شیطن یاہو" نے آپس میں یہ اختلاف اور رنجش کا ڈھونگ رچایا اور "ایگزیوس" پر خبر کی خود تشہیر بھی کرائی۔ دنیا کے بدلتے حالات و واقعات،عالمی رائے عامہ اور سب سے بڑھ کر ایرانی قوم و قیادت کی قوتِ ایمانی کے تناظر میں انہیں تیاری کے لئے مزید وقت درکار ہے۔
امریکہ اور اسرائیل اپنے مذموم مقاصد سے قطعاً پیچھے نہ ہٹیں گے البتہ ایران کے پاس یہ سنہری موقع ہے کہ وہ گرتی ہوئی دیوار کو ایک اور دھکا دے۔ شکست خوردہ امریکہ اور اسرائیل کے اس کمزور لمحے میں جو رعایتیں لی جاسکتی ہیں ، لے! جنگ بندی کا یہ وقفہ عارضی ہوگا شاید اسرائیل کے ستمبر اور امریکہ کے نومبر انتخابات تک۔ تاہم امریکہ اور اسرائیل اس دوران اپنی جنگی تیاریاں کر سکتے ہیں تو ایرانی قوم بھی سو نہیں رہی ۔ وہ بھی دل جمعی سے مستقبل کی یقینی جنگ کی تیاری کرے کیونکہ جنگ تو آ خر ہونی ہی ہے۔ جیسا کہ علامہ اقبال ؒ نے فرمایا: جب تک اپنے ہاتھ(دل) میں لا الہ کا عصا(یقین) رکھے گا تو ہر قسم کے خوف کے جادو کو توڑ دے گا۔
تاعصائے لاالہ داری بدست
ہر طلسم خوف را خواہی شکست