کراچی (نیوز ڈیسک) فرانس نے فلسطین حامی کارکنوں سے بدسلوکی پر اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر کے اپنے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ اُس ویڈیو کے بعد کیا گیا جس میں بن گویر کو غزہ جانے والے “گلوبل صمود فلوٹیلا” کے کارکنوں کا مذاق اڑاتے دیکھا گیا۔ فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نویل بارو نے کہا کہ فرانسیسی یا یورپی شہریوں کو دھمکانے، خوفزدہ کرنے یا تشدد کا نشانہ بنانے کو برداشت نہیں کیا جا سکتا، خصوصاً جب ایسا کسی سرکاری عہدیدار کی جانب سے ہو۔ اسرائیلی بحریہ نے قبرص کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں فلوٹیلا کے جہازوں کو روک کر تقریباً 430 کارکنوں کو حراست میں لیا تھا۔ رہائی پانے والے کارکنوں نے الزام لگایا کہ دورانِ حراست اُنہیں بدسلوکی، برہنہ تلاشی، جنسی ہراسانی اور بعض کیسز میں ریپ کا سامنا کرنا پڑا۔ فلوٹیلا منتظمین کے مطابق کم از کم 15 جنسی زیادتیوں کے واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ بعض فرانسیسی کارکن زخمی حالت میں ترکی پہنچے۔ اقوام متحدہ نے ان الزامات پر تشویش ظاہر کی ہے تاہم اسرائیلی جیل حکام نے تمام دعوے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔