کوئی کچھ بھی کہے، میں ڈونلڈ ٹرمپ کا مداح ہوں، کم ازکم انہیں ٹائی کی ناٹ تو ٹھیک بنانی آتی ہے۔ اُن کے پاس ٹائیاں بھی بہت عمدہ ہیں، سرخ،نیلی اور زرد اُن کی پسندیدہ ہیں۔ آپ اکثر تصویروں میں دیکھیں گے، انہی رنگوں میں سے کوئی ایک ٹائی انہوں نے باندھی ہوگی۔ امریکی صدر کے لباس کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کیا جاتا ہے،صدر توبہت دور کی بات ہے،عام سینیٹرزاور کانگریس ممبران بھی اپنے لباس کے معاملے میں مشیران اور ڈیزائنرز کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ امریکی اداکار میٹ ڈیمن نے فلم The Adjustment Bureau میں نیویارک سے انتخاب لڑنیوالے ایک امیدوار کا کردار ادا کیا ہے،وہ اپنی تقریر میں بتاتا ہے کہ اُس کیلئے ٹائی کا انتخاب ماہرین کی ٹیم کیا کرتی تھی۔ اُس ٹیم نے بہت سوچ بچار کے بعد 56ٹائیوں میں سے اِس ایک ٹائی کا انتخاب کیا، ماہرین کا خیال تھا کہ زرد رنگ کی ٹائی پہننے کا مطلب ہوگا کہ وہ معاملات کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتا جبکہ سِلور ٹائی یہ پیغام دے گی کہ وہ اپنی دھرتی سے ’جُڑا‘ ہوا نہیں ہے۔ ماہرین کی ’تحقیق‘ یہ بھی تھی کہ اسے بہت زیادہ چمک والے جوتے نہیں پہننے چاہئیں کیونکہ ایسے جوتے مہنگے وکلا اور بینکرز پہنتے ہیں سو جوتوں کی چمک کچھ کم ہونی چاہیے مگر اتنی کم بھی نہ ہو کہ اشرافیہ اسے گھٹیا سمجھے اور اتنی زیادہ بھی نہ ہو کہ عام بندہ اسے اشرافیہ میں سے سمجھے سو اُس کی ٹیم نے ’مناسب چمک‘ کا معیار طے کرنے کیلئے ایک کنسلٹنٹ کو 7300 ڈالر دیے جس نے انہیں بتایا کہ جوتوں کی مناسب چمک کتنی اور کیسی ہونی چاہیے اور پھر اُس کی ٹیم نے یقینی بنایا کہ وہ انتخابی مہم کے دوران اس طرح کے جوتے پہنے۔
آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ آج عید کے دن میں کیا لے کر بیٹھ گیا ہوں، کون سی ٹائی پہننی چاہیے، جوتے پر کتنی چمک ہونی چاہیے، یہ بھی کوئی مسائل ہیں۔ ہر بات اپنی جگہ اہم ہوتی ہے۔ پاکستان میں غربت ہے لیکن کیا ہر وقت یہی نوحہ پڑھا جائے؟ ۔ آج میرے لیے ٹرمپ کی ٹائی اہم ہے۔ بات صرف ٹائی کی نہیں، اہمیت اِس سوال کی ہے کہ کیا لباس پر اِس قدر توجہ دینا ضروری ہے؟ صرف امریکی صدر ہی نہیں، دیگر عالمی لیڈران بھی اپنے لباس پر خصوصی توجہ دیتے ہیں کیونکہ لباس نہ صرف اُنکی شخصیت بلکہ طاقت اور اثر و رسوخ کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ سرکاری افسران کے تربیتی کورسز نیپا اور اسٹاف کالج میں ہوتے ہیں، وہاں لازم ہے کہ افسران سوٹ اور ٹائی پہنیں ورنہ انہیں تنبیہ کی جاتی ہے اور مسلسل نافرمانی کی صورت میں نمبر بھی کاٹے جاتے ہیں۔ ہمیں یہ بات پسند نہیں مگر اِس میں بھی ایک حکمت ہے، اگر آپ انہیں مرضی کا لباس پہننے کی اجازت دیدیں تو اُس کے بعد کوئی ٹی شرٹ پہن کر بیٹھا ہوگا تو کوئی بغیر واسکٹ کے شلوار کرتا۔ اِس سے غیرسنجیدگی کا تاثر پیدا ہے جو ظاہر ہے قابل قبول نہیں۔
عالمی سطح پر ہونیوالی ملاقاتوں میں لیڈران اِس بات کا خاص خیال رکھتے ہیں کہ اُن کے لباس سے مد مقابل پر بہترین تاثر مرتب ہو۔ اگر آپ سوٹ پہنیں تو اُس کی فٹنگ بالکل درست ہو، سلوٹیں نہ ہوں، بیٹھتے وقت کوٹ کے بٹن کھول دیں، کھڑے ہوتے وقت بند کر دیں، پینٹ کی لمبائی بس اتنی ہو کہ جوتوں کے تسموں کو ہلکا سا چھوئے نہ کہ آدھے جوتے چھپا دے، اور اتنی کم بھی نہ ہو کہ کھڑے ہوں تو جرابیں نظر آئیں اور جرابوں اور پینٹ کا رنگ یکساں ہو۔ ان سب میں ٹائی کا انتخاب کلیدی اہمیت کا حامل ہے، اس کا رنگ ایسا ہو کہ سوٹ اور قمیص سے ابھر کر سامنے آئے نہ کہ اُن میں دب جائے۔ ٹائی کی گرہ بالکل پرفیکٹ ہونی چاہیے اور گرہ میں ہلکی سی شکن بہت ضروری ہے۔ سوٹ کے رنگوں میں بھی زیادہ تجربہ نہیں کرنا چاہیے، سیاہ، سلیٹی، نیلا اور گہرا نیلا بہترین ہیں، زیادہ سے زیادہ اِس میں باریک لکیروں والے سوٹ کا اضافہ کیا جا سکتا ہے اور قمیص سفید، نیلی یا آسمانی رنگ کی، فُل اِسٹاپ۔ چند بنیادی غلطیوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔ لائننگ والی قمیص کیساتھ لائننگ والا اور چیک شرٹ کیساتھ چیک والا سوٹ مکروہ ہے، ہمیشہ متضاد کمبی نیشن پہنیں، البتہ سادہ قمیص کیساتھ سادہ سوٹ پہنا جا سکتا ہے۔ اِس میں مزید جزئیات بھی ہیں جن کا احاطہ کرنا یہاں ممکن نہیں، مثلاً اگر سوٹ اور قمیص کی لائننگ یکسر مختلف تو اُس کو استثنیٰ حاصل ہے مگر پھر ٹائی سادہ لگا لی جاوے، وغیرہ۔ یہ تمام باتیں کسی قانون کی کتاب میں نہیں لکھیں، ’علما‘ نے برسوں کے مشاہدے کے بعد یہ اصول وضع کیے ہیں۔ اِس سے پہلے کہ آپ مجھے مغرب زدہ ہونے کا طعنہ دیں، یہ واضح کردوں کہ ضروری نہیں کہ آپ سوٹ میں ہی معتبر لگیں، اکثر لوگ مہنگے سوٹ پہننے کے باوجود متاثر نہیں کر پاتے کیونکہ اُنہیں پہننے کا ڈھنگ نہیں آتا۔ آپ سفید شلوار قمیص اور سیاہ یا نیلی واسکٹ میں بھی خوبصورت لگ سکتے ہیں بشرطیکہ آپ کے کپڑے صاف ستھرے اور ناپ کے مطابق ہوں، اور اگر شیروانی یا پہن لی جائے تو سبحان اللہ، لیکن پھر وہی بات کہ موقع کے مطابق۔ یہ بات میں نے سول سروسز اکیڈمی میں خوشنود اختر لاشاری صاحب سے سیکھی تھی، وہ صبح ہمارے ساتھ دوڑ لگانے آتے تو ٹریک سوٹ میں، دفتر پہنچتے تو انہوں نے سوٹ زیب تن کیا ہوتا اور اگر شام کو ادبی محفل ہوتی تو شلوار قمیص اور واسکٹ کیساتھ پشاوری چپل اور کرکٹ میچ دیکھنے میدان میں آتے تو ٹی شرٹ اور جینز میں۔ مغرب زدہ ہونے کی بات درمیان میں ہی رہ گئی۔ بہت سے عالمی لیڈران سوٹ نہیں پہنتے بلکہ اپنا روایتی لباس پسند کرتے ہیں، اِن میں سب سے ممتاز تو عرب ہیں، اسی طرح شمالی کوریا والا ’گونگلو‘ بھی ہمیشہ ماؤ زے تنگ والا سفاری سوٹ پہنتا ہے۔ ایک اور بات اہم ہے کہ بطور سیاستدان آپ جو تاثر دینا چاہتے ہیں، لباس اس میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر آپ عوامی امیج بنانا چاہتے ہیں تو اس کیلئے بھی آپ کو برینڈنگ کرنی پڑئیگی، وہی بات کہ جوتوں پر کتنی چمک ضروری ہے، لوگ جب آپ کو دیکھیں تو اُن کے ذہن میں آپ کا ایک مخصوص تصور ابھرے، ایک عوامی سیاستدان اور ایک بیوروکریٹ کے تاثر میں فرق ہونا چاہیے۔ آپ لباس کوئی بھی پہنیں، بنیادی بات یہ ہے کہ صاف ستھرا ہو، ناپ میں پورا ہو اور موقع کی مناسبت سے ہو۔ یہ نہ ہو کہ بکرا خریدنے جائیں تو سفاری سوٹ پہن لیں اور شام کو عید ڈنر پر جائیں تو ٹی شرٹ چڑھا لیں۔ عید مبارک!