• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارتی سپریم کورٹ کا بھوج شالا میں نمازِ جمعہ بحال نہ کرنے کا حکم

---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

بھارتی سپریم کورٹ نے ریاست مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے خلاف مسلم فریق کی اپیل پر سماعت کے لیے رضامندی ظاہر کر دی ہے جس میں بھوج شالا کو مندر قرار دیا گیا تھا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ نے معاملے کو ’حساس‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کیس پر روزانہ کی بنیاد پر سماعت کر کے تنازع حل کیا جائے گا۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے بھوج شالا احاطے میں جمعے کی نماز کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے، عدالت نے مدھیہ پردیش حکومت کو ہدایت دی ہے کہ مسلمانوں کے لیے اسی مقام کے قریب ایک کھلی جگہ فراہم کی جائے جہاں وہ جمعے کے دن دوپہر 1 بجے سے 3 بجے تک نماز ادا کر سکیں۔

عدالت نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ آثارِ قدیمہ کا محکمہ عدالت کی اجازت کے بغیر متنازع مقام پر کوئی ساختی تبدیلی نہ کرے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مسلم فریق نے مئی میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں 2003ء کا وہ انتظام منسوخ کر دیا گیا تھا جس کے تحت ہندو برادری منگل اور مسلمان جمعے کے روز عبادت کرتے تھے۔

چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بینچ نے کہا ہے کہ عدالت کو اس معاملے میں ہر لفظ بہت احتیاط سے استعمال کرنا ہو گا۔

ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ بھوج شالا میں سنسکرت تعلیم کے مرکز اور دیوی سرسوتی کے مندر کے آثار ملتے ہیں۔

ہندو فریق کا مؤقف ہے کہ یہ مقام راجہ بھوج کے دور میں تعمیر ہونے والا دیوی سرسوتی کا مندر ہے جبکہ مسلم فریق کا کہنا ہے کہ یہ جگہ صدیوں سے کمال مولہ مسجد کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق آثارِ قدیمہ کے محکمے نے 2024ء میں 98 دن تک سائنسی سروے کیا تھا۔

اپنی 2000ء سے زائد صفحات پر مشتمل رپورٹ میں محکمے نے کہا تھا کہ مسجد سے پہلے یہاں پرمار حکمرانوں کے دور کی ایک بڑی عمارت موجود تھی اور موجودہ ڈھانچے میں مندر کے اجزاء دوبارہ استعمال کیے گئے۔

ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ سروے کے دوران ملنے والے سکے، مجسمے اور کتبے ثابت کرتے ہیں کہ یہ مقام اصل میں مندر تھا جبکہ مسلم فریق نے رپورٹ کو جانبدار قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید