بھارت اور امریکا نے اہم معدنیات اور نایاب دھاتوں (Rare Earth Minerals) کی فراہمی، کان کنی اور پراسیسنگ کے لیے ایک اہم فریم ورک معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔
یہ معاہدہ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان نئی دہلی میں طے پایا، مارکو روبیو اپنے 4 روزہ دورۂ بھارت کے دوران کواڈ ممالک کے اجلاس میں بھی شریک ہوئے۔
اہم معدنیات وہ غیر ایندھن دھاتیں ہیں جو بیٹریز، سیمی کنڈکٹرز، الیکٹرک گاڑیوں، مصنوعی ذہانت (AI)، فوجی ساز و سامان، موبائل فونز اور جدید ٹیکنالوجی کی تیاری میں استعمال ہوتی ہیں۔
ان میں لیتھیم، نکل، کوبالٹ، ایلومینیم، زنک اور نایاب ارضی عناصر (Rare Earth Elements) شامل ہیں۔
دنیا بھر میں ان معدنیات کی سپلائی پر اس وقت چین کا غلبہ ہے، چین ناصرف دنیا کے تقریباً 60 فیصد ریئر ارتھ ذخائر رکھتا ہے بلکہ عالمی سپلائی کا 90 فیصد پراسیس بھی کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک اب چین پر انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اہم معدنیات کی سپلائی چین میں تعاون بڑھانا ہے، جس میں کان کنی (Mining)، پراسیسنگ (Processing)، ری سائیکلنگ، سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کی تیاری شامل ہیں۔
امریکی سفارتخانے نے کہا ہے کہ اس فریم ورک کے ذریعے دونوں ممالک سنگل سورس اجارہ داری سے بچنے اور حساس سپلائی چینز کو محفوظ بنانے کے لیے کام کریں گے۔
بھارت نے 2023ء میں 30 اہم معدنیات کی فہرست جاری کی تھی جن میں لیتھیم، کوبالٹ، گریفائٹ، نکل، ٹائٹینیم، نایاب ارضی عناصر اور دیگر دھاتیں شامل ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت کے پاس 13.15 ملین ٹن مونازائٹ موجود ہے، جس میں ریئر ارتھ اوکسائیڈز پائے جاتے ہیں۔
بھارت نے اپنے نئے بجٹ میں اڑیسہ، کیرالہ، آندھرا پردیش اور تامل ناڈو میں ریئر ارتھ کوریڈورز بنانے کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ معدنیات کی کان کنی، ریسرچ اور میگنیٹس کی تیاری کو فروغ دیا جا سکے۔
امریکا، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا نے بھی اہم معدنیات کی سپلائی چین مضبوط بنانے کیلئے مشترکہ منصوبہ متعارف کرا دیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت تقریباً 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی، جس کا مقصد کان کنی، پراسیسنگ اور ری سائیکلنگ کے منصوبوں کو فروغ دینا اور چین پر انحصار کم کرنا ہے۔