• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

علی بابا کا امریکی محکمۂ دفاع کیخلاف مقدمہ دائر

— تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا
— تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

چینی ای کامرس کمپنی علی بابا نے خود کو ’چینی فوجی کمپنی‘ قرار دیے جانے کے خلاف امریکی محکمۂ دفاع (Pentagon) پر مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں علی بابا نے اس درجہ بندی کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کمپنی کا چینی فوج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ نہ حقائق پر مبنی ہے اور نہ ہی قانون کے مطابق ہے۔

ادارے کا مؤقف ہے کہ علی بابا کمپنی ایک آزاد بورڈ آف ڈائریکرز کے تحت چلائی جاتی ہے اور اس کے کسی بھی رکن کا فوجی اداروں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ کمپنی کی مصنوعات اور خدمات ریٹیل، لاجسٹکس اور انٹرپرائز انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لیے تیار کی جاتی ہیں، نہ کہ اسلحے، دفاعی یا انٹیلی جنس مقاصد کے لیے۔

یہ مقدمہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ہوزے کی وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا ہے، جس میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ علی بابا کا نام ان کمپنیوں کی فہرست سے خارج کیا جائے جنہیں مبینہ طور پر چینی فوج سے وابستگی کے باعث بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے 8 جون کو علی بابا کو ان کمپنیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا جن کے بارے میں واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ وہ چینی فوج کی معاونت کر رہی ہیں، اس فہرست میں چینی کمپنیوں بی وائی ڈی (BYD) اور بائیڈو (Baidu) کے نام بھی شامل کیے گئے تھے۔

امریکی محکمۂ دفاع کی جانب سے نامزد چینی فوجی کمپنیوں کی فہرست میں اب 188 کمپنیاں شامل ہیں، جبکہ 2025ء میں یہ تعداد 134 تھی، یہ اضافہ چینی ٹیکنالوجی شعبے پر امریکی دباؤ میں مسلسل اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید