میں کتابوں کے معاملے میں خاصا بد لحاظ ہوں۔ اِس جملے میں اگر آپ ’بھی‘ کا اضافہ کر دیں تو کوئی مضائقہ نہیں، لوگ مجھے ’بائی ڈیفالٹ‘ بدلحاظ ہی سمجھتے ہیں، یہ اللہ کی دین ہے۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے تو ہر ہفتے ڈاک میں ایک آدھ کتاب موصول ہو جاتی ہے، لوگ نہایت محبت سے بھیجتے ہیں اور یہ امید کرتے ہیں کہ میں اِن پر رائے دوں گا۔ خدا یہ حسنِ ظن قائم رکھے، لیکن بدلحاظی آڑے آ جاتی ہے، میں اِن کتابوں کو سونگھتا ہوں اور زیادہ تر کو پرے رکھ دیتا ہوں۔ البتہ آج میں نے تین کتابیں چھانٹی کی ہیں جو میں نے ہاتھ لگاتے ہی پڑھنی شروع کر دیں۔
پہلی کتاب ’تصویرِ یار‘ ہے۔ یہ آسکر وائلڈ کے مشہور ناول The Picture of Dorian Gray کا اردو ترجمہ ہے جو عارف وقار صاحب نے کیا ہے۔ عارف صاحب نے اِس ناول کے ترجمے کا کام تقریباً ایک سال میں مکمل کیا۔ جو لوگ انگریزی ادب سے شغف رکھتے ہیں، انہوں نے یہ کلاسیکی ناول ضرور پڑھا ہوگا۔ یہ اُن ناولوں میں شامل ہے جسے آپ ’Must Read‘ کی فہرست میں رکھتے ہیں۔ عارف صاحب نے اِس کا اردو ترجمہ اِس انداز میں کیا ہے کہ بندہ اَش اَش کر اٹھتا ہے۔ عارف وقار اُس مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں جو لفظی ترجمے کا قائل نہیں، اُنکے نزدیک ترجمہ ایسا ہونا چاہیے کہ قاری کو یوں لگے جیسے وہ اصل متن پڑھ رہا ہے۔ ذرا پہلی سطر ملاحظہ کریں: ”مصور کا اسٹوڈیو پھولوں کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔ باہر باغ میں بادِصبا کا جھونکا پودوں سے اٹکھیلیاں کرتا ہوا سٹوڈیو کے کھلے دروازے سے اندر داخل ہوتا تو بکائن کی مہک ہر طرف پھیل جاتی جس میں گلاب کی خاردار جھاڑیوں کی سگندھ بھی شامل ہوتی۔“ عارف صاحب نے جس عرق ریزی سے ناول کا ترجمہ کیا ہے اُسکی تحسین کرنا کم از کم میرے جیسے عامی کیلئے تو ممکن نہیں، وجاہت مسعود سے کچھ بھاری بھرکم الفاظ مستعار لینے پڑیں گے۔ لیکن چونکہ کشمیر کی آزادی تک ادھار بند ہے سو فی الحال میرا مشورہ عارف صاحب کو یہ ہوگا کہ چیٹ جی پی ٹی کو ایک رقعہ لکھیں، ساتھ اپنی کتاب بھی ارسال کریں اور اسے بتائیں کہ برخوردار اِس ترجمے کو اپنے سینے میں محفوظ کر لو اور آئندہ جو شخص بھی تمہیں لُقمہ دے کر کہے کہ فلاں متن کا با محاورہ اردو ترجمہ کردو تو مکھی پہ مکھی مارنے کی بجائے اِس طرح ترجمہ کرکے حق بندگی ادا کرنا۔ اگر آپ خود کو ادب کا شناور سمجھتے ہیں تو پہلی فرصت میں پڑھ ڈالیں، مجھے اور عارف صاحب کو دعائیں دیں گے۔
اب ذرا منہ کا ذائقہ بدلتے ہیں۔ دوسری کتاب ہے ’ہیں کواکب کچھ‘۔ اِس کتاب کے نام سے دھوکا نہ کھائیں، یہ نہ رضیہ بٹ کا ناول ہے اور نہ ہی دکھی قسم کے رومانوی افسانوں کا مجموعہ۔ یہ اُن کتابوں میں سے ہے جو ہر اُس پاکستانی کو پڑھنی چاہئیں جس نے کالج یا یونیورسٹی کی شکل دیکھی ہے، استاد ہو یا طالب علم، سرکاری ملازم ہو یا تاجر، سیاستدان ہو یا فوجی، مزدور ہو یا سرمایہ دار، ڈاکٹر ہو یا انجینئر۔ اِس کتاب میں پاکستان کے معاشی و سماجی مسائل کا نہ صرف احاطہ کیا گیا ہے بلکہ حقائق کی روشنی میں اُن مفروضوں کو بھی غلط ثابت کیا گیا ہے جو ہمارے دماغ میں حرف آخر کی طرح راسخ ہو چکے ہیں۔ کتاب کے مصنف کا نام احسن رانا ہے، تعلق اِنکا سول سروس سے تھا مگر افسری اِن کا کچھ نہیں بگاڑ سکی، سو آج کل یہ لمز میں پڑھاتے ہیں۔ کسی زمانے میں دیوانِ حافظ سے فال نکالی جاتی تھی، عاشق اور پریشان حال لوگوں کو حافظ کے کسی نہ کسی شعر میں اپنے مسئلے کا حل نظر آ جاتا تھا۔ آج اگر آپ نے پاکستان کے کسی مسئلے کا حل تلاش کرنا ہو تو اِس کتاب سے فال نکال لیں۔ پاکستان فلاحی مملکت کیوں کر بن سکتا ہے، ٹیکس کیوں نہیں اکٹھا ہوتا، تعلیمی نظام کی خرابیاں اور انہیں دور کرنے کا کیا طریقہ ہے، وفاقی حکومت کی آمدن اور خرچا کتنا ہے، بجلی کی قیمت کیوں زیادہ ہے، وغیرہ۔ مستند اعداد و شمار کو درست انداز میں بروئے کار لا کر انہوں نے پاکستانی سماج اور معیشت کی نہ صرف تصویر کشی کی ہے بلکہ ایک متبادل بیانیہ بھی تشکیل دیا ہے اور بتایا ہے کہ کیسے ہم اِس ملک کی کایا کلپ کر سکتے ہیں۔ آپ ایک مرتبہ یہ کتاب پڑھ لیں، اُس کے بعد نہ صرف آپ کے دماغ کی کھڑکیاں کھل جائینگی بلکہ آپ کو یہ علم بھی ہو جائیگا کہ ہم ایک قدم آگے چل کر دو قدم پیچھے کیوں ہو جاتے ہیں۔
تیسری کتاب اظہار الحق کی ’سمندر، جزیرے اور جدائیاں‘ ہے۔ جس طرح دنیا میں مقابلہ حسن ہوتا ہے، زنانہ و مردانہ، اسی طرح اگر دادوں اور نانوں کی پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں سے محبت کا کوئی مقابلہ ہوتا تو اظہار صاحب اُس میں بلامقابلہ فاتح ٹھہرتے۔ یہ کتاب اُس کا ثبوت ہے۔ اپنی اولاد کے بچوں سے محبت میں انہوں نے اتنے کالم لکھے کہ پوری کتاب بن گئی۔ گو کہ یہ کتاب کی بنیادی خصوصیت ہے مگر اس کا دوسرا پہلو اظہار صاحب کی نثر اور ’بالواسطہ‘ انداز تحریر ہے۔ مجھے نہیں پتا کہ یہ بات انہیں کسی نے بتائی کہ نہیں، یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ہمارے وقتوں میں باپ اپنے بیٹے کی منہ پر تعریف نہیں کرتا تھا لیکن گھما پھرا کر اپنی بے پایاں محبت کا ثبوت دیتا تھا۔ اظہار صاحب اِس فن کے ماہر ہیں۔ سو اگر آپ اردو نثر پڑھنے کے شوقین ہیں، ادب سے شغف رکھتے ہیں اور کلاسیکی زبان کا لطف بھی یوں لینا چاہتے ہیں کہ طبیعت بوجھل نہ ہو تو اظہار صاحب کو پڑھیں: ”2082 ء میں خدا اسے سلامت رکھے، زہرا ستّر سال کی ہوگی۔ دادا کو زیر زمین منتقل ہوئے نصف صدی بیت چکی ہوگی۔ اس کے خوبصورت، نرم، ریشمی بالوں میں نقرئی جھلک آ چکی ہوگی۔ وہ اپنے پوتوں اور نواسیوں کو بتایا کرے گی کہ بچو، تم کیا جانو، میں تو شہزادیوں کی طرح تھی۔ ایک آنسو بحرالکاہل کے کنارے آنکھ سے ٹپکا تھا تو ہزاروں میل دور، ہمالیہ کے جنوبی دامن میں، دادا رات بھر تڑپتا رہا تھا اور چاہتا تھا کہ اُڑ کر میرے پاس پہنچ جائے۔ میرے ہاتھ سے کھینچی ہوئی بے معنی لکیریں اس کیلئے صحیفے کی حیثیت رکھتی تھیں۔“ یہ ہیں اظہار الحق اور اُن کا اندازِ بیان۔ کوئی کیسے انہیں نہ پڑھے۔
لوگ لکھاریوں سے اکثر پوچھتے ہیں کہ ہمیں کس قسم کی کتابیں پڑھنی چاہئیں، آج فدوی نے فرضِ کفایہ ادا کر دیا ہے۔ ان کتابوں کو تین ماہ میں پڑھ ڈالیں۔ مزہ نہ آیا تو پیسے واپس!