• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چینی سائنسدانوں کا تاریخی کارنامہ، لیبارٹری میں دنیا کا پہلا قدرتی ہارٹ پیس میکر بنا لیا

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

چینی سائنسدانوں نے قلبی تحقیق کے میدان میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے دنیا کا پہلا لیبارٹری میں تیار کردہ سینو ایٹریئل (SA) نوڈ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جو انسانی دل کی دھڑکن کو منظم رکھنے والا قدرتی ہارٹ پیس میکر ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت دل کی بیماریوں پر تحقیق، نئی ادویات کی آزمائش اور مستقبل میں روایتی الیکٹرانک پیس میکرز کے متبادل حیاتیاتی علاج کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

سینو ایٹریئل نوڈ دل کے دائیں بالائی حصے (رائٹ ایٹریئم) میں موجود ایک چھوٹا سا ٹشو ہوتا ہے جو دل کی دھڑکن کو کنٹرول کرنے والے برقی سگنلز پیدا کرتا ہے، یہی سگنلز دل کے مختلف حصوں کو باقاعدگی سے سکڑنے اور پھیلنے کا حکم دیتے ہیں، جس سے پورے جسم میں خون کی روانی برقرار رہتی ہے۔

اگر یہ قدرتی نظام متاثر ہو جائے تو دل کی دھڑکن غیر معمولی حد تک سست ہو سکتی ہے یا بعض اوقات مکمل طور پر رک بھی سکتی ہے، جو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

چینی محققین نے انسانی پلوری پوٹینٹ اسٹیم سیلز کی مدد سے سینو ایٹریئل نوڈ کا ایک تھری ڈی ماڈل تیار کیا ہے، حیران کن طور پر یہ مصنوعی ساخت بیرونی تحریک کے بغیر خود سے باقاعدہ دھڑکنیں پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

تحقیقی ٹیم کے مطابق یہ ماڈل قدرتی سینو ایٹریئل نوڈ کی طرح کام کرتا ہے اور دل کی دھڑکن کے مسائل کا مطالعہ کرنے کے لیے ایک حقیقت سے قریب ترین تجرباتی ماحول فراہم کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کامیابی سے دل کی بے قاعدہ دھڑکن (Arrhythmia) سے متعلق بیماریوں پر تحقیق مزید مؤثر ہو سکے گی، سائنسدان نئی ادویات اور ممکنہ علاج کو انسانوں پر آزمائش سے پہلے زیادہ محفوظ اور بہتر انداز میں جانچ سکیں گے۔

اس کے علاوہ یہ ماڈل دل میں برقی سگنلز کی تشکیل اور ان کے نظام کو سمجھنے میں بھی مدد دے گا، جو مستقبل کی طبی تحقیق کے لیے انتہائی اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

محققین کے مطابق مستقبل میں یہی ٹیکنالوجی حیاتیاتی (Biological) پیس میکرز کی تیاری کا باعث بن سکتی ہے، جو دل کی دھڑکن کے مسائل میں مبتلا مریضوں کے لیے روایتی الیکٹرانک پیس میکرز کا متبادل ثابت ہو سکتے ہیں۔

اگرچہ اس ٹیکنالوجی کو عملی علاج کی صورت اختیار کرنے میں مزید تحقیق درکار ہے، تاہم ماہرین اسے جدید قلبی سائنس کی ایک غیر معمولی اور انقلابی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

خاص رپورٹ سے مزید