آنند نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اسے زندگی میں یہ دن بھی دیکھنا پڑے گا۔
اُس دن کھیتوں سے گھر کی طرف جاتے ہوئے اسے پہلی مرتبہ تھکاوٹ کا احساس ہوا۔ پنڈلیوں میں درد کی وجہ سے اسے چلنے میں مشکل پیش آ رہی تھی۔ ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔ وہ تو کئی کئی میل پیدل چلتا تھا۔ اور کبھی کبھی تو کچھ کھائے پئے بغیر۔ اُس دن تو نہ جانے کیا ہوا کہ اسے سستانےکیلئے درخت کی چھاؤں میں بیٹھنا پڑا۔ شاید میں بوڑھا ہو گیا ہوں، اُس نے سوچا۔ دھان کی فصل کٹنے کے بعد جب بستی پر سنہری شام اترتی تو آنند اپنے بیلوں کو کھونٹے سے باندھ کر سیدھا اپنے گھر کا رخ کرتا اور کسی چھلاوے کی طرح قلانچیں بھر کر چند منٹوں میں گھر پہنچ جاتا جہاں اُس کی پتنی، مادھوی، صحن میں چولہا جلائے بیٹھی اُس کا انتظار کر رہی ہوتی کہ وہ آئے تو تازہ اور گرم روٹی توے سے اتاری جائے۔ اُن کا سات سال کا بیٹا باپ کو دیکھ کر بھاگ کر آتا اور اُس سے چمٹ جاتا۔ وہ ایک تندرست، مطمئن اور نارمل انسان تھا جسکی زندگی اس کے کھیت، اُس کی پتنی کی چوڑیوں اور اپنے بچے کی ہنسی تک محدود تھی۔ مگر اُس دن نیم کے درخت کے نیچے جب وہ سستانےکیلئے بیٹھا تو اسے شدید ابکائی آئی۔ اُس نے قے کرنے کی کوشش کی۔ کئی منٹ تک وہ یونہی ہلکان ہو کر پڑا رہا۔ کچھ دیر بعد اُس کے اوسان بحال ہوئے تو اُس نے ادھر ادھر دیکھا۔ اسے اپنا ذہن خالی خالی سا محسوس ہوا۔ اسے سمجھ میں نہ آیا کہ اُس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ گرتے پڑتے وہ گھر پہنچا۔ مادھوی چولہے کے پاس بیٹھی تھی مگر آنند کو اس کا چہرہ کسی اجنبی عورت جیسا لگا۔ اُس نے اپنے بیٹے کو دیکھا جو مٹی کا گھر بنا رہا تھا مگر آنند کو اُس کی ہنسی کسی بہت پرانے، ویران مندر کی گھنٹی کی طرح سنائی دی۔
”کیا ہوا آنند؟“ مادھوی نے پریشانی سے پوچھا۔ آنند نے اپنے ہاتھ دیکھے۔ یہ وہی کھردرے، ہل چلانے والے ہاتھ تھے مگر اسے لگا جیسے یہ چمڑی اس کی نہیں۔ کیا یہ میرا دوسرا جنم ہے؟ کیا وہ اس سے پہلے بھی کہیں جی چکا ہے، کسی اور روپ میں، کسی اور نام کے ساتھ؟ وہ رات بھر بستر پر لیٹا رہا مگر اس کی آنکھیں چھت کو تکتی رہیں۔ مادھوی کی سانسوں کی آواز اسے کسی اجنبی عورت کے ہانپنے جیسی لگ رہی تھی۔
مندر کی سیڑھیوں پر پاؤں رکھتے ہی آنند کو یقین ہو گیا کہ وہ یہاں پہلے بھی آ چکا ہے۔ یہ یقیناًکوئی خواب نہیں تھا، نہ ہی دماغ کی کوئی لغزش۔ مندر کے اندر صندل کی لکڑی جل رہی تھی۔ پجاری نے، جسکی آنکھیں چربی کے پپوٹوں میں دھنسی ہوئی تھیں، پوجا کی تھالی پرے رکھی اور اپنی خمار آلود نظریں آنند کے چہرے پر ٹکا دیں۔ ”مہاراج، میں یہ چولا بدلنا چاہتا ہوں۔“ آنند نے تقریباً منمناتے ہوئے کہا۔ ”اس جسم کے اندر روح بہت پرانی ہے اور میری ہڈیاں اس کا بوجھ نہیں اٹھا پا رہیں۔ مجھے بتائیں کہ میرا پچھلا جنم کہاں تھا؟“ آس پاس بیٹھے پجاریوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ ان کے چہروں پر ایک گہرا، طنزیہ سکوت پھیل گیا۔ ایک بوڑھے پجاری نے، جس کے دانت گر چکے تھے، فرش پر تھوکتے ہوئے کہا، ”تمہارا دوسرا جنم نہیں ہے۔“
”مگر شاستر؟ وشواس؟ آواگون کا چکر؟“
بڑا برہمن، جو اپنی انگلیوں کی پوروں کو صندل کے پانی سے دھو رہا تھا، آنند کی طرف مڑا: ”وشواس سچ ہے، آنند۔ آواگون بھی سچ ہے۔ روح چولا بدلتی ہے، یہ ایشور کا قانون ہے۔ مگر قانون سب کیلئے ایک جیسا نہیں ہوتا۔ تمہاری آتما اتیت میں کئی جانوروں کے روپ میں جنم لینے کے بعد اب پُرش کی شکل میں آئی ہے، یہ واپس کسی کمتر مخلوق میں جنم نہیں لے سکتی۔ تمہیں وہم ہوا ہے۔ یہاں سے چلے جاؤ، اس سے پہلے کہ بھگوان تمہاری یادداشت کا یہ حصہ بھی چھین لیں۔“ آنند نے برہمن کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہاں کوئی سچائی نہیں تھی۔ وہ مندر کی سیڑھیاں اترنے لگا تو اسے لگا کہ وہ سیڑھیاں نیچے نہیں جا رہیں بلکہ اسے کسی گہرے غار کی طرف لے جا رہی ہیں۔ پجاریوں کا وہ جملہ اس کے سر کے اندر کسی ہتھوڑے کی طرح لگ رہا تھا: ”تمہارا دوسرا جنم نہیں ہے۔“
اسی رات، جب آسمان پر چاند ایک کٹی ہوئی پتنگ کی طرح تیر رہا تھا، آنند نے اپنا کمندل اٹھایا اور بستی کی آخری حد پار کر گیا۔ اسے کسی سچائی کی تلاش نہیں تھی، اسے تو بس اس جھوٹ سے بھاگنا تھا جو برہمنوں نے مندر کے اندر اس کی جھولی میں ڈالا تھا۔ وہ جس سادھو کے پاس جاتا، وہ اسے دیکھ کر اپنی آنکھیں بند کر لیتا، کوئی اسے راکھ دیتا، کوئی اسے دھتکار دیتا۔ جنگل میں آنند مہینوں چلتا رہا۔ وقت نے اپنی گنتی کھو دی۔ اس کے پیروں پر چھالے بن گئے اور اُس کا جسم ہڈیوں کا پنجر۔ ایک شام، جب جنگل پر گہرا اندھیرا اتر رہا تھا، آنند ایک بوڑھے برگد کے نیچے گر پڑا۔ بھوک اب درد نہیں دے رہی تھی، وہ اب جسم کا ایک حصہ بن چکی تھی۔ اُس نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا، انگلیاں ٹیڑھی ہو چکی تھیں اور ناخن مٹی سے سیاہ ہو چکے تھے۔“تو یہی ہے سچ؟“ اس نے آسمان کی طرف منہ اٹھا کر پوچھا، چلانے کی کوشش بھی کی مگر اُس کی آواز گھٹ کر رہ گئی۔ آسمان سے کوئی جواب نہ آیا۔ اوپر صرف سیاہ بادل تھے جو زمین پر برسنےکیلئے نیچے اتر رہے تھے۔ آنند نے آخری مرتبہ کھلی آنکھوں کے ساتھ آسمان کو دیکھا اور پھر اُس کی آنکھیں کبھی بند نہ ہوئیں۔ اُس کے چہرے پر صرف ایک جمی ہوئی حیرت تھی۔ جنگل کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔ تاریکی بڑھی تو جھاڑیوں میں ایک سرسراہٹ ہوئی۔ ایک بھیڑیا، جس کی کھال چمگادڑ کے پروں کی طرح لگ رہی تھی، باہر نکلا۔ اُس کے منہ سے رال ٹپک رہی تھی۔ اس نے انسانی وجود کی بو سونگھی اور برگد کی جڑوں کی طرف بڑھا۔ وہاں آنند کا ڈھانچہ پڑا تھا۔ بھیڑیے نے ایک لمحے کیلئے ادھر ادھر دیکھا اور پھر اپنے دانت آنند کے جسم میں گاڑ دیے۔ جنگل میں گوشت کے کھینچے جانے اور ہڈیوں کے چٹخنے کی آواز گونجنے لگی۔ بھیڑیا بھوکا تھا۔ اُس نے پسلیاں توڑیں، گودا چاٹا اور کھال کے آخری ٹکڑے کو بھی نگل گیا۔ جب سب کچھ ختم ہو گیا تو بھیڑیے نے چاند کی طرف دیکھ کر ایک طویل، دردناک ہوک ماری۔ مگر اس مرتبہ، اُس کے گلے سے نکلنے والی آواز بھیڑیے کی نہیں تھی، وہ ایک انسانی چیخ تھی۔ بھیڑیے کے پاؤں زمین پر جم گئے۔ اس کے جسم کے اندر ایک زلزلہ سا آیا۔ اس کے زرد بال اس کی جلد کے اندر دھنسنے لگے جیسے وہ واپس گوشت میں تبدیل ہو رہے ہوں۔ اس کا تھوتھنی نما چہرہ اندر کی طرف پچکا اور گالوں کی ہڈیاں ابھر آئیں۔ پنجے چوڑے ہوئے اور ان میں سے لمبی، کمزور انگلیاں نمودار ہوئیں اور اُس کی ریڑھ کی ہڈی سیدھی ہو گئی۔ برگد کے نیچے، جہاں کچھ دیر پہلے ایک لاش اور ایک جانور تھا، اب صرف ایک زندہ انسان گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا۔