اسلام آباد( رپورٹ:،رانامسعود حسین) سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بنچ نے منشیات برآمدگی کیس میں ملزمہ، نازیہ خواجہ مختار کی پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر تے ہوئے اے این ایف کی مبینہ جعلی کارروائی پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم جاری کر دیا ،دوران سما عت فاضل جج نے فوٹیج میں نظر آنے والے اے این ایف اہلکار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی، کچھ خیال کیا کروʼانہوں نے اس سے استفسار کیا،کیا آپ نے کبھی چرس پی ہے؟تو اس نے جواب دیا، "نہیں سر، میں نے کبھی چرس نہیں پی ، فاضل جج نے ازراء تفنن جملہ کسا،چرس نہیں پی، اسی لیے آپ میں احساس بھی نہیں ،جس پر کمرہ عدالت قہقہوں سے گونج اٹھا،جسٹس ہاشم کاکڑ نے چھاپے کے حوالہ سے چھاپے کے حوالہ سے اے این ایف کی کی کہانی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی ان کے ہاتھ سے بھاگ گئیں؟ اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو تو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی، جسٹس ہاشم کاکڑ نے ملزمان کی حراست کے دوران ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اے این ایف کی تحویل میں لوگ مار دیے جاتے ہیں۔