برطانیہ میں 23 سال تک جاری رہنے والی طلاق کی قانونی لڑائی کے بعد بھارتی نژاد خاتون ورشا گوہل کو 6.6 ملین پاؤنڈز مل گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ورشا گوہل نے 2002ء میں اپنے شوہر بھدریش گوہل کے خلاف بے وفائی اور نامناسب رویے کی بنیاد پر طلاق کی درخواست دائر کی تھی۔
ابتدائی معاہدے کے تحت انہیں تقریباً 270,000 پاؤنڈز اور خاندان کی 1 گاڑی ملی تھی تاہم انہیں شبہ تھا کہ شوہر نے اپنے تمام اثاثے ظاہر نہیں کیے۔

برطانیہ نے 150 خاندانوں کو رضا کارانہ طو ر پر ملک چھوڑنے کیلئے بھاری ادائیگی کی پیشکش کر دی۔ سیکریٹری داخلہ شبانہ محمود پر اسکیم شروع کرنے کے بعد برطانوی ٹیکس دہندگان کیساتھ زیادتی کرنیکا الزام عائد اور کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔

پولیس میں شکایت پر تحقیقات کے دوران بھدریش گوہل منی لانڈرنگ، جعلسازی اور فراڈ کی سازش کے مقدمات میں گرفتار ہوئے اور 2011ء میں انہیں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
تحقیقات کے دوران کروڑوں پاؤنڈ مالیت کے ایسے اثاثے بھی سامنے آئے جو طلاق کے وقت ظاہر نہیں کیے گئے تھے۔
2015ء میں برطانیہ کی سپریم کورٹ نے ورشا گوہل کو مالی تصفیہ دوبارہ کھولنے کی اجازت دی، طویل عرصے تک کئی سماعتوں کے بعد ہائی کورٹ نے اب حال ہی میں قرار دیا ہے کہ ورشا گوہل کو قانونی طور پر 6.66 ملین پاؤنڈ کے اثاثے ملنے چاہیے تھے کیوں کہ یہ ازدواجی جائیداد کا حصہ تھے۔
عدالت نے یہ پوری رقم ورشا گوہل کے حق میں دینے کا حکم دیا ہے، بعد ازاں اپیل کورٹ نے مزید اپیل کی اجازت نہ دے کر 23 سال پر محیط اس قانونی تنازع کا خاتمہ کر دیا۔