• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شیخ حسینہ واجد سے متعلقہ 6 ارب 20 کروڑ ڈالر کے اثاثے ضبط

سابق وزیراعظم حسینہ واجد کے اثاثوں سے متعلق 2024 سے تحقیقات جاری ہیں، حسینہ واجد ملک گیر طلبا احتجاج کے باعث عہدہ چھوڑ کر بھارت فرار ہوگئی تھیں۔ فائل فوٹو
سابق وزیراعظم حسینہ واجد کے اثاثوں سے متعلق 2024 سے تحقیقات جاری ہیں، حسینہ واجد ملک گیر طلبا احتجاج کے باعث عہدہ چھوڑ کر بھارت فرار ہوگئی تھیں۔ فائل فوٹو 

بنگلادیش فنانشل انٹیلی جنس یونٹ (بی ایف آئی یو) نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد سے متعلقہ 6 ارب 20 کروڑ ڈالر کے اثاثے ضبط کر لیے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ضبط کیے گئے اثاثوں کا تعلق شیخ حسینہ واجد، خاندان اور 10 بزنس گروپوں سے ہے، حسینہ واجد کے بنگلادیش میں اور بیرون ملک اثاثے بھی ضبط کیے گئے ہیں۔

سابق وزیراعظم حسینہ واجد کے اثاثوں سے متعلق 2024 سے تحقیقات جاری ہیں، حسینہ واجد ملک گیر طلبا احتجاج کے باعث عہدہ چھوڑ کر بھارت فرار ہوگئی تھیں۔

بی ایف آئی یو کے سربراہ اختیار الدین محمد مامون نے بتایا کہ شیخ حسینہ کے خلاف  یہ کارروائی غیر قانونی دولت جمع کرنے، ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کے الزامات کی مشترکہ تحقیقات کے تحت کی گئی ہے۔

ان کے مطابق منجمد کیے گئے اثاثوں میں 57 ہزار کروڑ ٹکا مالیت کے اثاثے بنگلادیش کے اندر جبکہ 19 ہزار کروڑ ٹکا مالیت کے اثاثے بیرون ملک موجود ہیں، بیرونِ ملک منتقل کی گئی دولت کی واپسی کے لیے اقدامات جاری ہیں اور امید ہے کہ سال کے اختتام تک اس حوالے سے مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔

اختیار الدین محمد مامون نے واضح کیا کہ تحقیقات کے دوران کسی بھی شخص یا ادارے کی سیاسی وابستگی کو مدنظر نہیں رکھا جاتا، جہاں بھی مشتبہ مالی لین دین یا منی لانڈرنگ کے شواہد سامنے آتے ہیں، متعلقہ بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے جاتے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ اگر عبوری حکومت سے وابستہ کوئی فرد بھی ایسے معاملات میں ملوث ہوا تو تحقیقات میں اس کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔

بی ایف آئی یو کے مطابق عبوری حکومت کے دور میں شیخ حسینہ کے خاندان اور 10 صنعتی گروپوں کے خلاف غیر قانونی اثاثے بنانے، ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کے الزامات کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔

تحقیقات کی بنیاد پر اثاثے منجمد کرنے کے ساتھ متعدد مقدمات بھی درج کیے جا چکے ہیں، جبکہ بیرون ملک موجود اثاثوں کی واپسی کے لیے بین الاقوامی قانونی معاونت حاصل کرنے اور متعلقہ ممالک کے حکام سے تعاون بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید