دنیا بھر میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر غزہ، لبنان اور ایران میں جنگ بندی نافذ ہے تو پھر بمباری، میزائل حملے اور فوجی کارروائیاں کیوں نہیں رک رہیں؟
حالیہ دنوں میں اسرائیل نے جنوبی لبنان کے علاقوں نقورہ اور نبطیہ پر حملے کیے جن میں 1 شخص جاں بحق ہوا، جبکہ غزہ میں بھی اسرائیلی بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان اپریل سے جنگ بندی ہونے کے باوجود دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف کارروائیاں اور الزامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کے ماہرین کے مطابق جنگ بندی (Ceasefire) دراصل لڑائی روکنے کا ایک عارضی معاہدہ ہوتا ہے تاکہ فریقین مذاکرات کا موقع حاصل کر سکیں۔
کینیڈا کی یونیورسٹی آف فریزر ویلی کے پروفیسر مارک کرسٹن کے مطابق جنگ بندی کا مطلب مستقل امن نہیں بلکہ صرف وقتی طور پر دشمنی روکنا ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ بندی اکثر سیاسی معاہدہ ہوتی ہے، جسے توڑنے پر فوری اور مؤثر قانونی سزا کا نظام موجود نہیں ہوتا۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کے وکیل ٹوبی کیڈمین کے مطابق جنگ بندی قانونی حیثیت رکھتی ہے اور فریقین اس کے پابند ہوتے ہیں، لیکن یہ معاہدے انتہائی نازک اور کمزور ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جنگ بندی لڑائی کو معطل کرتی ہے، جنگ کے بنیادی تنازع کو ختم نہیں کرتی، اسی لیے معمولی کشیدگی بھی دوبارہ تصادم کا سبب بن سکتی ہے۔
یہ سب سے پیچیدہ سوال ہے، فلسطینی اسرائیل پر غزہ جنگ بندی توڑنے کا الزام لگاتے ہیں، ایران اور امریکا ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہراتے ہیں جبکہ لبنان کی حزب اللّٰہ اور اسرائیل بھی یہی دعوے کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق دنیا میں کوئی ایسا مکمل غیر جانبدار ادارہ موجود نہیں جو حتمی طور پر فیصلہ کر سکے کہ جنگ بندی کس نے توڑی۔
زیادہ تر نگرانی انہی ممالک کے ہاتھ میں ہوتی ہے جو معاہدے کے ضامن یا ثالث ہوتے ہیں، غزہ اور لبنان کے معاملے میں امریکا بیک وقت ثالث، ضامن اور اسرائیل کا قریبی اتحادی ہے، جس کی وجہ سے جانبداری کے الزامات بھی سامنے آتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ قوانین کی کمی نہیں بلکہ ان پر عمل درآمد کا فقدان ہے۔
بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) فیصلے اور وارنٹ جاری کر سکتی ہیں، لیکن ان فیصلوں پر عمل کروانے کے لیے ان کے پاس اپنی کوئی فوج یا طاقت موجود نہیں۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل بھی اکثر بڑی طاقتوں کے ویٹو کی وجہ سے مؤثر کارروائی نہیں کر پاتی۔
اسی لیے قانونی فیصلوں اور زمینی حقیقت کے درمیان ایک بڑا خلاء پیدا ہو جاتا ہے۔
اسرائیل، امریکا اور دیگر ممالک اکثر اپنے حملوں کو حقِ دفاع قرار دیتے ہیں۔
یہ مؤقف اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 پر مبنی ہوتا ہے، جو کسی ملک کو فوری خطرے یا حملے کی صورت میں اپنے دفاع کا حق دیتا ہے۔
تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حق لامحدود نہیں، حقِ دفاع صرف اس صورت میں قابلِ قبول ہے جب حملہ واقعی ہو چکا ہو یا اس کا فوری خطرہ موجود ہو، اس شق کو مستقبل کے ممکنہ خطرات کے بہانے مسلسل حملوں کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
ماہرین کے مطابق اس کی سب سے بڑی وجہ مؤثر احتساب کا نہ ہونا ہے۔
سلامتی کونسل ویٹو کے باعث محدود ہے، بین الاقوامی عدالتیں اپنے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کروا سکتیں اور عالمی طاقتیں اکثر اپنے اتحادیوں کے خلاف کارروائی سے گریز کرتی ہیں۔
نتیجتاً غزہ، لبنان اور ایران میں جنگ بندی کاغذوں پر تو موجود ہے، لیکن عملی طور پر وقفے وقفے سے حملے، جوابی کارروائیاں اور کشیدگی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک عالمی طاقتیں یکساں اصولوں کے تحت بین الاقوامی قانون پر عمل درآمد یقینی نہیں بناتیں، جنگ بندی کے معاہدے مکمل امن کی ضمانت نہیں بن سکتے۔