• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا اور ایران امن معاہدے کے قریب یا نئی جنگ کے دہانے پر؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے باوجود کشیدگی کم ہونے کے بجائے ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ 

دونوں ممالک ایک طرف امن مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کی بات کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب دھمکیوں، میزائل حملوں اور فوجی کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، جس نے خطے میں نئی جنگ کے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے خطے میں موجود اپنے فوجی اڈوں کو ایران کے خلاف استعمال کیا تو انہیں جائز اہداف سمجھا جائے گا۔

 یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ ہفتوں کے دوران خلیجی ممالک میں امریکی اور ایرانی مفادات پر متعدد حملے رپورٹ ہوئے ہیں۔

بدھ کے روز کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر میزائل اور ڈرون حملوں سے نقصان پہنچا جبکہ ایک بھارتی شہری ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے، ایران کے پاسداران انقلاب نے امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔

 تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق بیشتر میزائل اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہے یا راستے میں تباہ ہو گئے۔

ادھر بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر اور ایک فوجی اڈے کو بھی ایرانی حملوں کا نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تمام حملے ناکام بنا دیے گئے اور کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

دوسری جانب امریکا بھی ایران کے حساس مقامات پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، قشم جزیرے اور دیگر علاقوں میں ایرانی ریڈار، ڈرون تنصیبات اور مواصلاتی نظام کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ تہران نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکی کارروائیوں سے ایک ایرانی آئل ٹینکر کو بھی نقصان پہنچا۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے حال ہی میں دعویٰ کیا کہ جنگ ختم ہو چکی ہے، تاہم ساتھ ہی واضح کیا کہ پابندیاں اسی وقت ختم ہوں گی جب ایران اپنا جوہری پروگرام ترک کر دے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی متعدد بار یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ دونوں ممالک کسی معاہدے کے قریب ہیں، مئی میں انہوں نے کہا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور معاہدے کے امکانات روشن ہیں۔

دوسری جانب ایران اور پاکستان کے درمیان بھی سفارتی رابطے تیز ہوئے ہیں، شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس کے موقع پر پاکستانی اور ایرانی وزرائے داخلہ نے خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا۔

امن مذاکرات کے باوجود دونوں جانب سے سخت بیانات کا سلسلہ جاری ہے، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے خبردار کیا ہے کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور ضرورت پڑنے پر طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔

ٹرمپ نے بھی ایران کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے، اگر ایران نے جلد فیصلہ نہ کیا تو اس کے لیے کچھ باقی نہیں بچے گا۔

ادھر ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کا 40 دن تک مقابلہ کرنا معمولی بات نہیں اور ایران ہر قسم کی جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان پس پردہ مذاکرات جاری ہیں اور جنگ بندی میں توسیع کی خبریں بھی سامنے آ چکی ہیں، لیکن میدانِ عمل میں جاری حملے، دھمکیاں اور جوابی کارروائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ خطہ اب بھی انتہائی نازک صورتِ حال سے دو چار ہے۔

 موجودہ حالات میں امن معاہدہ اور نئی جنگ، دونوں امکانات ایک ساتھ موجود ہیں، تاہم کسی ایک بڑے حملے یا جانی نقصان کی صورت میں صورتِ حال دوبارہ مکمل جنگ کی طرف جا سکتی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید