گلگت بلتستان کے پہاڑ آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں صدیوں پہلے کھڑے تھے۔ دریاؤں کا پانی آج بھی انہی وادیوں سے گزر کر پاکستان کو زندگی بخشتا ہے۔ دنیا کی چند بلند ترین چوٹیاں آج بھی اسی شان سے آسمان کو چھو رہی ہیں۔ لیکن ایک چیز ہے جو ہر چند سال بعد بدل جاتی ہے اور وہ ہے سیاست کا بیانیہ۔ چہرے بدلتے ہیں، جماعتیں بدلتی ہیں، نعرے بدلتے ہیں مگر حیرت انگیز طور پر سیاست کا بنیادی ڈھانچہ وہی رہتا ہے۔ اس بار بھی گلگت بلتستان کے انتخابی میدان میں کچھ ایسا ہی منظر دکھائی دے رہا ہے۔ایک جماعت اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا ذکر کر رہی ہے، دوسری اپنی تاریخی قربانیوں کا تذکرہ کر رہی ہے اور تیسری سیاسی رکاوٹوں اور مشکلات کو اپنی انتخابی مہم کا مرکز بنا رہی ہے۔ جلسوں میں جذبات ہیں، شکایات ہیں، ماضی کے قصے ہیں، لیکن اگر ایک عام ووٹر کے زاویے سے دیکھا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان تمام بیانیوں میں گلگت بلتستان کہاں ہے؟پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالی جائے توایک دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے سیاسی جماعتوں نے عوام کو اپنی کارکردگی سے زیادہ اپنی مظلومیت کی داستانیں سنائی ہیں۔ کبھی کسی رہنما کو اقتدار سے ہٹائے جانے کا دکھ سنایا جاتا ہے، کبھی کسی جماعت کو دیوار سے لگائے جانے کی شکایت کی جاتی ہے، کبھی کسی سیاسی خاندان کی قربانیوں کا حوالہ دیا جاتا ہے اور کبھی کسی سیاسی کارکن کے ساتھ ہونے والی زیادتی کو انتخابی مہم کا مرکز بنایا جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس ملک میں ترقی، تعلیم، صحت اور معیشت سے زیادہ مظلومیت ایک سیاسی سرمایہ بن چکی ہے۔یہ صرف ایک جماعت کا مسئلہ نہیں۔ مسلم لیگ نون اپنے سیاسی سفر میں بارہا اس مؤقف کو سامنے لاتی رہی ہے کہ اس کی قیادت کو اقتدار سے الگ کیا گیا اور اسے اپنی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی۔ پیپلز پارٹی اپنی تاریخ کو قربانیوں اور سیاسی جدوجہد کی تاریخ کے طور پر پیش کرتی ہے۔ تحریک انصاف سیاسی رکاوٹوں اور انتخابی عمل سے متعلق تحفظات کو اپنا بنیادی مقدمہ بناتی ہے۔ یوں تینوں بڑی جماعتوں کے بیانیوں میں ایک مشترک عنصر واضح نظر آتا ہے اور وہ ہے مظلومیت کا احساس۔یہاں سوال یہ نہیں کہ کون صحیح ہے اور کون غلط۔ سوال یہ ہے کہ کیا عوام کے مسائل بھی اسی شدت سے زیر بحث آتے ہیں جس شدت سے سیاسی مظلومیت کے بیانیے پیش کیے جاتے ہیں؟ گلگت بلتستان کے ایک نوجوان کیلئے شاید یہ جاننا زیادہ اہم ہو کہ اسے روزگار کب ملے گا۔ ایک کاروباری شخص کیلئے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کب ختم ہوگی۔ ایک طالب علم کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ اعلیٰ تعلیم اور جدید سہولیات تک رسائی کیسے ممکن ہوگی۔ ایک مقامی خاندان کیلئے یہ اہم ہے کہ صحت اور بنیادی سہولتوں کا معیار کب بہتر ہوگا۔بدقسمتی سے انتخابی جلسوں میں ان سوالات کے تفصیلی جواب کم سنائی دیتے ہیں۔ اس کے بجائے سیاسی تاریخ، ماضی کی شکایات اور مخالفین پر تنقید زیادہ سنائی دیتی ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جذباتی بیانیے فوری سیاسی اثر پیدا کرتے ہیں۔ ایک متاثر کن نعرہ، ایک دل کو چھو لینے والی شکایت یا ایک جذباتی داستان چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں کو متحرک کر سکتی ہے، جبکہ توانائی پالیسی، آئینی اصلاحات یا معاشی منصوبہ بندی پر گفتگو نسبتاً خشک اور پیچیدہ سمجھی جاتی ہے۔گلگت بلتستان کی صورتحال اس لیے بھی مختلف ہے کیونکہ یہ صرف ایک انتخابی حلقہ نہیں بلکہ پاکستان کا ایک انتہائی اہم اسٹریٹجک خطہ ہے۔
سی پیک کا دروازہ بھی یہی ہے، دنیا کے اہم ترین آبی ذخائر بھی یہیں ہیں اور سیاحت کے بے شمار مواقع بھی اسی خطے میں موجود ہیں۔ اس کے باوجود یہاں کے عوام برسوں سے بجلی، روزگار، بنیادی ڈھانچے اور آئینی حیثیت جیسے مسائل پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ آج بھی بنیادی ضروریات کے حصول کیلئے جدوجہد کر رہا ہے۔شاید اصل مسئلہ یہ نہیں کہ سیاسی جماعتیں گلگت بلتستان کی تقدیر بدلنا نہیں چاہتیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کی ترجیحات میں اکثر انتخاب جیتنا پہلے اور مسائل حل کرنا بعد میں آ جاتا ہے۔ انتخابی سیاست کا سارا زور ووٹر کو قائل کرنے پر ہوتا ہے جبکہ پالیسی سازی اور ادارہ جاتی اصلاحات نسبتاً پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر انتخاب میں نئی امیدیں پیدا ہوتی ہیں مگر پرانے مسائل اپنی جگہ موجود رہتے ہیں۔اس صورتحال میں ذمہ داری صرف سیاسی جماعتوں پر عائد نہیں ہوتی۔ ووٹر کا کردار بھی اہم ہے۔ جب تک عوام جلسوں میں جذباتی نعروں سے زیادہ عملی منصوبوں کا مطالبہ نہیں کریں گے۔
سیاسی جماعتوں کو بھی اپنی حکمت عملی بدلنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔ اگر ووٹر یہ سوال پوچھنا شروع کر دے کہ کتنے میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی، کتنی نئی نوکریاں پیدا ہوں گی، آئینی حقوق کے حصول کا روڈ میپ کیا ہے اور وسائل کی تقسیم کا طریقہ کار کیا ہوگا، تو سیاسی گفتگو کا رخ بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔گلگت بلتستان کا اصل مسئلہ کسی ایک جماعت کی کامیابی یا ناکامی نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا اس انتخاب کے بعد بھی سیاست ماضی کی شکایات اور مظلومیت کے بیانیوں کے گرد گھومتی رہے گی یا پھر پہلی بار عوامی مسائل اور ان کے عملی حل انتخابی بحث کا مرکز بنیں گے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو شاید چند سال بعد ایک اور انتخاب آئے گا، نئے نعرے ہوں گے، نئے الزامات ہوں گے، نئی شکایات ہوں گی، مگر عوام کے پرانے سوالات پھر بھی وہیں موجود ہوں گے جہاں آج ہیں۔گلگت بلتستان کے عوام کو شاید اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں سے ہمدردی کی کہانیاں سننا چاہتے ہیں یا مستقبل کا کوئی واضح نقشہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ قومیں مظلومیت کے بیانیوں سے نہیں بلکہ پالیسی، منصوبہ بندی اور مسلسل عمل سے ترقی کرتی ہیں، اور یہی وہ امتحان ہے جس میں پاکستان کی سیاست کو ابھی بہت کچھ ثابت کرنا ہے۔