• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں کم ازکم تین ایسے شعبے ہیں جو کھلم کھلا ڈکیتیاں کر رہے ہیں اور انہیں پوچھنے والا، کاغذوں میں ہو تو ہو، عملاً کوئی نہیں۔ ہاؤسنگ اسکیمیں،بیمہ کمپنیاں اور کاریں اسمبل کرنیوالی فیکٹریاں۔

اگر آپ نے کسی ہاؤسنگ سوسائٹی میں پلاٹ یا اپارٹمنٹ خریدا ہے اور قسطیں ادا کرکے وقت پر اُسکی ملکیت حاصل کر لی ہے تو آپ سے زیادہ خوش قسمت انسان کوئی نہیں۔ کم از کم مجھے آج تک کوئی ایسا شخص نہیں ملا جس کو یہ شرف حاصل ہوا ہو۔ ملک میں شاید ہی کوئی ایسی ہاؤسنگ سوسائٹی ہو جس نے وقت پر قبضہ دیا ہو۔ لوگ کئی کئی سال انتظار کرتے رہتے ہیں اور اُنکی داد رسی کیلئے نہ کوئی محکمہ ہے اور نہ کوئی قانون جسکی بنیاد پر اِن ہاؤسنگ سوسائٹیز کی گرفت کی جا سکے۔ اگلا مسئلہ قیمت کا ہے، بیٹھے بٹھائے یہ ہاؤسنگ سوسائٹیز قیمت بڑھا دیتی ہیں، کبھی ڈویلپمنٹ چارجز کے نام پر تو کبھی ادائیگی میں تاخیر پر جرمانہ کرکے، اور بات یہاں نہیں رکتی، اگر آپ پلاٹ کے مالک بن ہی گئے ہیں تو یہ ہاؤسنگ سوسائٹیز آپ کو مجبور کرینگی کہ آپ ادائیگی کر کےنقشہ بھی انہی سے بنوائیں۔

کوئی اُن سے یہ نہیں پوچھ سکتا کہ آپ نے یہ ’ضابطے‘ کیسے بنا لیے۔ اور یہ اُن سوسائٹیز کی بات ہو رہی ہے جنکی ساکھ نسبتاً بہتر ہے، اِس سے آپ اندازہ لگا لیں کہ باقی ہاؤسنگ اسکیموں کا کیا حال ہوگا۔ میرے ایک دوست نے ایسی ہی ایک ’اچھی ساکھ‘ کی حامل سوسائٹی میں پانچ مرلے کا پلاٹ خریدا، ایک روز اسے اتفاق سے، نوٹس موصول ہوا کہ پندرہ لاکھ ڈویلپمنٹ چارجز جمع کروا دیں جبکہ پلاٹ کی کل مالیت ستائیس لاکھ تھی۔ اُس غریب نے کہاں سے جمع کروانے تھے۔ سوسائٹی نے اُسکا پلاٹ منسوخ کر دیا اور اب وہ بیچارہ اپنے ہی پلاٹ کو دوبارہ حاصل کرنےکیلئے سوسائٹی کی منتیں کر رہا ہے۔

اسے کہتے ہیں ریاست کے اندر ریاست، اِن سوسائٹیز کا اپنا آئین ہے، اپنی عدالتیں ہیں، اپنے جلاد ہیں اور صارف اِنکے سامنے ایک ایسا قیدی ہے جسے نہ وکیل کی اجازت ہے نہ اپیل کی۔

اگر آپ اس ملک میں اپنی عاقبت سنوارنے کیلئےکوئی بیمہ پالیسی لینے نکلے ہیں تو سمجھ لیجیے کہ آپ اس بکرے کی مانند ہیں جو قصائی کی دکان کے باہر کھڑا اپنی باری کا انتظار کر رہا ہے۔ بیمہ کمپنیاں چرب زبان اور سوٹڈ بوٹڈ نوجوانوں کو آپکے پاس بھیجتی ہیں، اِن لوگوں کو آپ سے زیادہ آپکے بچوں کی فکر ہوتی ہے، یہ بچوں کے روشن مستقبل کی قسمیں کھاتے ہیں اور آپکو ایک ایسا سبز باغ دکھاتے ہیں جسکی چمک سے آپکی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ وہ آپ کو بتاتے ہیں کہ آپ نے ہر سال ایک چھوٹی سی رقم جمع کرانی ہے اور دس یا بیس سال بعد جب یہ پالیسی ’جوان‘ ہوگی تو آپ کو ایک ایسی بھاری رقم ملے گی جس سے آپ بچوں کی شادیاں بھی کر لیں گے، انہیں آکسفورڈ سے ڈگری بھی کروا دینگے اور حجِ بیت اللّٰہ بھی کر آئینگے۔

جب پالیسی کی مدت پوری ہوتی ہے اور آپ بڑے چاؤ سے اپنا انعام لینے انشورنس کمپنی کے دفترپہنچتے ہیں تو وہاں کا منظر نامہ بالکل بدلا ہوتا ہے۔ ایک سرد مہر افسر کمپیوٹر پر چند بٹن دباتا ہے اور ایک کاغذ نکال کر آپکے سامنے رکھ دیتا ہے۔ اس کاغذ پر جو رقم لکھی ہوتی ہے وہ آپکی جمع کرائی گئی اصل رقم سے بھی کم ہوتی ہے، منافع تو دور کی بات ہے! تب آپ لاکھ چیخیں چلائیں،کچھ نہیں ہو گا۔ زیادہ سے زیادہ وہ افسر آپکو یہ بتائے گا: ”جناب، آپ نے شاید پالیسی کے کاغذات پر لکھی ہوئی باریک لکھائی نہیں پڑھی تھی۔

ہم نے آپ کا پیسہ اسٹاک مارکیٹ میں لگایا تھا، اور چونکہ پچھلے دس سال میں مارکیٹ ڈوب گئی، اس لیے آپکی انویسٹمنٹ پر گھاٹا ہو گیا اور اب آپکو یہی ملے گا۔“ یعنی ان کمپنیوں کا اصول یہ ہے کہ اگر منافع ہو تو وہ انکی جیب میں اور اگر گھاٹا ہو تو وہ صارف کے کھاتے میں۔

یہ وہ کھلا اور ننگا فراڈ ہے جو ہر سال لاکھوں پاکستانیوں کے ساتھ قانونی چھتری تلے کیا جاتا ہے۔ ہاں، اس ملک میں انشورنس محتسب کا ادارہ تو موجودہے لیکن اسکی حیثیت دانتوں کے بغیر شیر جیسی ہے۔ جب کوئی مظلوم صارف محتسب کے پاس شکایت لے کر جاتا ہے، تو بیمہ کمپنیاں اپنے نامور اور مہنگے ترین وکیلوں کی فوج کھڑی کر دیتی ہیں۔ وہ محتسب کے سامنے تکنیکی نکات اور معاہدوں کے صفحات پیش کرتے ہیں جن پر صارف کے دستخط ہوتے ہیں (جو اس نے ایجنٹ کے کہنے پر بنا پڑھے کیے تھے) کہ محتسب کا ادارہ بھی بے بس ہو جاتا ہے۔

اب ذرا تیسرے بلیک ہول کی طرف چلیے، یعنی ہماری آٹوموبائل انڈسٹری۔ پاکستان دنیا کا غالباً وہ واحد ملک ہے جہاں آپ ایک کروڑ روپے کی گاڑی خریدتے ہیں اور اس کے بدلے میں آپ کو جو چیز ملتی ہے، اسے اگر ہم ٹین کا چلتا پھرتا ڈبہ کہیں تو غلط نہ ہوگا۔ ہم بچپن میں صرف تین کار کمپنیوں کے بارے میں جانتے تھے، ہونڈا، ٹویوٹا اور سوزوکی، اور اِن میں بھی دو چار گنے چنے ماڈل، جن میں زیادہ سے زیادہ سہولت یہ ہوتی تھی کہ کھڑکی کے شیشے خودکار ہوتے تھے اور گاڑی آٹو میٹک۔

مجھے یاد ہے جب اِن گاڑیوں میں نیا نیا ’نیویگیشن سسٹم‘ آیا تو ہم حیران ہو گئے تھے۔ اب پتا چلا ہے کہ آج سے بیس سال پہلے کی جاپانی گاڑیوں میں ایسے ایسے فیچر تھے کہ آج کی ایک کروڑ کی گاڑی میں بھی نہیں۔ 2006ماڈل کی جاپانی گاڑی میں ٹی وی، ریڈیو، نیویگیشن، کیمرہ، ریڈیو، سی ڈی پلیئر، الیکٹرک سیٹ اور وائس کمانڈ جیسے فنکشن تھے اور آج اگر آپ ایک کروڑ روپے کی گاڑی خریدیں تو اُس میں خودکار سیٹ تک نہیں ملے گی باقی تو باتیں ہی چھوڑ دیں۔

بنیادی قسم کے فیچرز جنہیں دنیا بھر میں پندرہ بیس ہزار ڈالر کی گاڑیوں میں بھی لازمی سمجھا جاتا ہے، یہاں ان کیلئےآپ کو کسی الٰہیاتی معجزے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ سب سے بڑھ کر، سیفٹی یعنی تحفظ کا معیار اس حد تک گر چکا ہے کہ اللّٰہ نہ کرے اگر کوئی حادثہ پیش آ جائے تو یہ گاڑیاں تاش کے پتوں کی طرح بکھر جاتی ہیں۔

سچ پوچھیں تو ابھی دل کی بھڑاس نہیں نکلی، کیونکہ یہ وہ ڈکیتیاں ہیں جو دن دہاڑے ہو رہی ہیں اور انکی کوئی ایف آئی آر بھی نہیں کٹوائی جا سکتی۔ متوسط طبقے کا عام آدمی اِن ڈکیتیوں کا شکار ہوتا ہے، امیر آدمی یا تو ہاؤسنگ اسکیم کا مالک ہے یا پھر اُس نے جرمن گاڑی رکھی ہے، بیمے کی اسے ضرورت نہیں، لہٰذا برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر!

تازہ ترین