صبح کنگھی کرتے ہوئے بال جس طرح پت جھڑ کی طرح گرتے ہیں اس کے کرب کا اندازہ صرف وہی لوگ لگا سکتے ہیں جو اس سانحہ عظیم سے گزرتے ہیں۔ ایک حکیم صاحب کا تیل استعمال کرنے کے بعد صورتحال یہ ہے کہ ہر دفعہ کنگھی کرتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ شاید زندگی کی آخری کنگھی ہے۔ حکیم صاحب کے بارے میں بعد میں معلوم ہوا کہ وہ سات پشتوں سے گنجے چلے آ رہے ہیں اور ان کے جد امجد نے یہ عہد کیا تھا کہ ان کا خاندان اب اس ملک میں اقلیت میں نہیں رہے گا۔ چنانچہ یہ تیل انھوں نے اپنی برادری کو اکثریت میں بدلنے کیلئے تیار کیا تھا۔ بہر حال مجھ جیسے لوگ جن کا شمار نہ گنجوں میں ہوتا ہے نہ زیادہ بال والوں میں ، وہ زیادہ عذاب کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ کم بالوں والے زیادہ بال والوں کی صحبت سے احتراز کرتے ہیں۔ اسی طرح گنجے بھی کم بالوں والے کو اپنے پاس نہیں بیٹھنے دیتے ۔ گنجا صرف گنجے کو دیکھ کر ہی خوش ہوتا ہے۔ یہاں ایک وضاحت ضروری ہے کہ میرا شمار فی الحال مستند گنجوں میں نہیں ہوتا۔ بس یوں سمجھیں کہ ابھی رنگروٹ بھرتی ہوا ہوں اور آثار بتاتے ہیں کہ ترقی کرتے کرتے بہت جلد جنرل کے عہدے پر پہنچ جاؤں گا اور پھر اس کے بعد ’’گلیاں ہو جان سنجیاں تے وچ مرزا یار پھرے‘‘والی صورت حال پیدا ہو جائیگی ۔ ویسے ابھی تک تو صورت حال یہ ہے کہ جب میں اپنے گنجے دوستوں کو یہ مژدہ سناتا ہوں کہ میں عنقریب تمہاری برادری میں شامل ہونے والا ہوں تو وہ میرے سر کی طرف دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں،’’ تمھیں طفل تسلیاں دیتے ہوئے شرم آنی چاہئے‘‘ حالانکہ بخدا اس میں طفل تسلیوں والی کوئی بات نہیں ۔ یہ اگر کمال ہے تو میری اس حکمت عملی کا کہ میں نے گزشتہ ایک برس سے حجامت نہیں بنوائی اور یوں اپنی ساکھ برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہوں ۔ اب اگر مجھ سے دل کی بات پوچھیں تو مجھے ذاتی طور پر فارغ البال لوگ اچھے لگتے ہیں بلکہ بسا اوقات تو ان پر باقاعدہ رشک آتا ہے اور دل میں یہ خواہش بھی پیدا ہوتی ہے کہ اگر مقدر میں گنجے ہونا لکھا ہی ہے تو پھر ایسے گنجے ہوں کہ سر کے ارد گرد صرف شوشا کیلئے بالوں کی جھالر سی رہ جائے۔ اس سے شخصیت کچھ باوقار سی ہو جاتی ہے۔ چنانچہ دنیا کے بعض بڑے بڑے مدبروں کی باوقار شخصیت میں ان کے ننگے سرکا بھی بہت حصہ ہے، بلکہ میں نے تو یہ بھی سنا تھا کہ جن کے سر پر بال نہیں ہوتے وہ ’’ جنسی گنجے‘‘ ہوتے ہیں۔ لیکن جب میں نے ایک گنجے دوست سے اس کی تصدیق چاہی تو اس دل جلے نے بے ساختہ کہا ’’بکواس ہے جی‘‘بہر حال میرے خیال میں سر پر سرے سے بال نہ ہونے کے فوائد میں سے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ انسان کنگھی کے بجائے کاندھے پر رکھے ہوئے رومال سے بھی کام چلا سکتا ہے۔ میرے ایک شادی شدہ دوست نے تو اپنے گنج گراں مایہ سے ایک کمال کا کام لیا ہے اور وہ جھگڑے کی صورت میں بیوی سے انتقام لینے کا ہے۔ میرے یہ دوست عام حالات میں دن کے کسی بھی لمحے ٹوپی سر سے نہیں اتارتے بلکہ رات کو سوتے وقت بھی چادر سے چہرہ ڈھانکنے کے بعد ٹوپی اتارتے ہیں، لیکن جس روز بیوی سے انکا جھگڑا ہو جائے اُس روز اسے اذیت دینے کیلئے ٹوپی سر سے اتار کر بار بار اسکے سامنے سے گزرتے ہیں۔ تاہم اتنے فوائد کے باوجود گنجا ہونے سے ڈر محض اس لیے لگتا ہے کہ سر پر موجود ایک آدھ لٹ کے ناز نخرے بہت اٹھانا پڑتے ہیں۔ اسے پتہ نہیں کہاں سے گھیر گھار کر سر کے اگلے حصے کی طرف لانا پڑتا ہے، لیکن اس کی حیثیت ریت پر بنے ہوئے گھروندے سے زیادہ نہیں ہوتی اور ہوا کا ایک جھونکا اسے واپس پہلے والی جگہ پر لے آتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میرے ایک عزیز کو یہ شعر سخت ناپسند ہے
تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
اور اب کالم کے آخر میں اپنی برادری کے لوگوں سے صرف یہ عرض کرنا ہے کہ فارسی میں گنج خزانے کو کہتے ہیں، سو اگر قدرت نے انھیں ” گنج “ دیا ہے تو اس پر یار لوگوں کی فقرے بازیوں کے باوجود ملول نہیں ، خوش ہونا چاہئے۔ بہت سے سر ایسے ہیں جن پر صرف بال ہیں چنانچہ ثبوت کے طور پر بہت سے صاحبانِ اقتدار سیاست دان، علما، دانشور اورصحافیوں کے سر ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔ اگر ان سروں میں کچھ بھی ہوتا تو ملک اس حال کو کبھی نہ پہنچتا۔ لہٰذا اگر کوئی صاحب کسی گنجے بھائی کی دل آزاری کی کوشش کریں تو انھیں شرمندہ ہونے کی بجائے مخاطب سے ایک فرمائش کرنی چاہئے اور وہ فرمائش اس شعر کی صور ت میں۔
آپ دستار اتاریں تو کوئی فیصلہ ہو
لوگ کہتے ہیں کہ سر ہوتے ہیں دستاروں میں