• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشترکہ مجرمانہ مقصد ثابت نہ ہونے پر قتل کی سزا برقرار نہیں رہ سکتی، سپریم کورٹ

اسلام آباد (اے پی پی) سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی ملزم کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 149کے تحت قتل اور دیگر سنگین جرائم کا ذمہ دار ٹھہرانے کیلئے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ وہ غیر قانونی اجتماع کا حصہ تھا اور اس نے دیگر ملزمان کیساتھ مشترکہ مجرمانہ مقصد اختیار کیا تھا، اگر کسی ملزم کی شمولیت صرف بعد کے مرحلے میں ثابت ہو تو اسے پہلے مرحلے میں ہونے والے قتل اور زخمی کرنے کے واقعات کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ عدالت نے کچے کے ڈاکوؤں کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے غلام رسول عرف چھوٹو سمیت دیگر کی سزائیں برقرار رکھیں۔ تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے راجن پور کے کچے کے علاقے میں پولیس پارٹی پر حملے، چھ اہلکاروں کی شہادت اور متعدد اہلکاروں کو یرغمال بنانے کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یہ اہم قانونی اصول وضع کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ غلام رسول عرف چھوٹو، محمد خالد عرف خالدی اور اسحاق کیخلاف زخمی عینی گواہوں، طبی شواہد، فرانزک رپورٹس اور اسلحہ برآمدگیوں کی بنیاد پر قتل، دہشت گردی اور دیگر جرائم کے الزامات بلا شبہ ثابت ہوئے لہٰذا انکی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے سزائیں برقرار رکھی جاتی ہیں۔
اہم خبریں سے مزید