• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سال :2025 میڈیا اور آزادیِ اظہار پر قانونی و ریاستی شکنجہ سخت

اسلام آباد (قاسم عباسی) سال 2025: میڈیا اور آزادیِ اظہار پر قانونی و ریاستی شکنجہ سخت، 2025میں صحافیوں کیخلاف 137واقعات، 30 ایف آئی آرز اور سینکڑوں سائبر تحقیقات۔ تفصیلات کے مطابق سال 2025میں پریس کے کارکنوں کے خلاف بڑے پیمانے پر ریگولیٹری اور قانونی کارروائیاں ریکارڈ کی گئیں، جن میں صحافیوں کے خلاف 137 بنیادی درج شدہ واقعات، 30 پولیس ایف آئی آر، ریاستی اداروں کے خلاف مخالفانہ سوشل میڈیا مواد پر ریاست کی جانب سے 789 انکوائریاں، اور 356 قومی سائبر کرائم کے مقدمات شامل ہیں۔ یہ جامع اعداد و شمار،جو پاکستان پریس فاؤنڈیشن کی رپورٹنگ اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کی رپورٹ میں دیے گئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے سرکاری ریکارڈ سے مرتب کیے گئے ہیں، ’’پاکستان فریڈم رپورٹ 2026‘‘ میں شائع ہونے والے ادارہ جاتی نگرانی کے ایک کثیر جہتی ماحول کو واضح کرتے ہیں۔ رپورٹ میں اس بات کو اجاگر کیا گیا ہے کہ ریاستی سطح کی سائبر انکوائریوں اور قانونی کارروائیوں کے علاوہ، ملک بھر میں میڈیا کے عملے پر براہ راست جسمانی اور انتظامی پابندیاں بھی عائد کی گئیں۔ اعداد و شمار کے مطابق صحافیوں کی آٹھ گرفتاریاں یا حراستیں، میڈیا سے وابستہ دو شخصیات کے نام نو فلائی لسٹ میں ڈالے جانے، اور انٹرنیٹ یا موبائل نیٹ ورک کی چھ معطلیاں ریکارڈ کی گئیں جن کی وجہ سے نیوز رومز کا کام متاثر ہوا۔ میڈیا کے کارکنوں کو ہراساں کیے جانے کے سات رپورٹ شدہ واقعات، سات براہ راست دھمکیوں، اور قانونی کارروائی کی تین دھمکیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ میڈیا ورکرز کے خلاف دائر کی جانے والی 30 قانونی ایف آئی آر کے ساتھ ساتھ، ان میں سے 22 پر باضابطہ طور پر پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمات چلائے گئے۔
اہم خبریں سے مزید