• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چینی صدر شی جن پنگ شمالی کوریا کا دورہ کیوں کر رہے ہیں؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

چینی صدر شی جن پنگ 7 سال بعد شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ کا دورہ کر رہے ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق یہ دورہ اس بات کا اشارہ ہے کہ چین شمالی کوریا کو اپنی خارجہ اور سیکیورٹی حکمتِ عملی میں انتہائی اہم سمجھتا ہے۔

عرب میڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے دوران شمالی کوریا اور روس کے تعلقات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، شمالی کوریا روس کو اسلحہ، گولہ بارود اور فوجی افرادی قوت فراہم کر رہا ہے جبکہ بدلے میں اسے معاشی اور ممکنہ طور پر حساس فوجی ٹیکنالوجی دی جا رہی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق تجزیہ کاروں کا اس سے متعلق کہنا ہے کہ چین کو خدشہ ہے کہ روس کا بڑھتا اثر شمالی کوریا کو بیجنگ سے دور کر سکتا ہے، اسی لیے شی جن پنگ ذاتی طور پر پیانگ یانگ جا رہے ہیں۔

چین شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے فوجی اور جوہری پروگرام پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔

رواں سال شمالی کوریا 8 میزائل تجربات کر چکا ہے جبکہ حال ہی میں نئی مصنوعی ذہانت سے لیس کروز میزائل اور جوہری مواد کی پیداوار بڑھانے کے منصوبے بھی سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چین نہیں چاہتا کہ روسی تعاون کے باعث شمالی کوریا خطے میں زیادہ فوجی طاقت حاصل کرے کیونکہ اس سے جزیرہ نما کوریا میں طاقت کا توازن متاثر ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق شی جن پنگ اور کم جونگ ان کی ملاقات میں جنوبی کوریا اور جاپان کے درمیان ممکنہ دفاعی تعاون پر بھی بات چیت متوقع ہے۔

چین جاپان کی فوجی سرگرمیوں میں اضافے اور خطے میں نئی دفاعی صف بندیوں پر تحفظات رکھتا ہے۔

عرب میڈیا کی رپورٹ میں شائع کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق چینی صدر کے اس دورے کا بنیادی مقصد شمالی کوریا پر چین کا اثر برقرار رکھنا، روس کے ساتھ تعلقات کو متوازن کرنا اور خطے میں سیکیورٹی صورتِ حال پر اپنا کردار مضبوط بنانا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید