• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تیزاب گردی قتل سے بدتر جرم، متاثرین کی بحالی ریاست کی ذمہ داری، سپریم کورٹ

اسلام آباد (اے پی پی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے تیزاب گردی کے مقدمے میں اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ تیزاب گردی ایک ایسا سنگین جرم ہے جو بعض صورتوں میں قتل سے بھی زیادہ اذیت ناک نتائج کا باعث بنتا ہے، اس لیے متاثرین کی مکمل طبی، نفسیاتی، سماجی اور معاشی بحالی کو یقینی بنانا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ متاثرین کے معاشی تحفظ کے لیے مناسب ماہانہ معاوضے یا مالی معاونت کا نظام وضع کیا جائے۔فیصلہ جسٹس ہاشم کاکڑ نے تحریر کیا جس میں فیصل آباد کی رہائشی اقراء پروین پر تیزاب پھینکنے کے جرم میں مجرم عبدالمنان کی عمر قید کے خلاف درخواست خارج کرتے ہوئے سزا برقرار رکھی گئی۔ عدالت نے متاثرہ خاتون کو 10 لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔فیصلے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو متعدد اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا گیا کہ تیزاب گردی کے متاثرین کو معذور افراد کے کوٹے میں شامل کیا جائے تاکہ انہیں روزگار، تعلیم اور دیگر سماجی سہولیات تک رسائی حاصل ہو سکے۔

ملک بھر سے سے مزید