کراچی (اسٹاف رپورٹر) شہر میں اسلحے کے بے دریغانہ استعمال نے میٹرک کے دو طالب علموں اور 9ماہ کی بچی سمیت 3افراد کی زندگیاں نگل لیں، دولہا اور اس کا بھائی گرفتار،پولیس کے اسلحہ کے خلاف کارروائیوں کے دعوے ہوا ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان بازار تھانے کی حدود اورنگی ٹاؤن سیکٹر بی 14جوہر چوک کے قریب شادی کی تقریب میں ہونے والی ہوائی فائرنگ سے دو نوجوان جاں بحق ہو گئے۔ فائرنگ سے 17سالہ سیف اللہ ولد شمشاد موقع پر جاں بحق ہوگیا جبکہ 15سالہ انس حسن شدید زخمی ہوا جو بعد ازاں دوران علاج اسپتال میں دم توڑ گیا۔ دونوں کی عباسی شہید اسپتال میں دونوں نوجوانوں کی لاشیں پہنچیں تواہل خانہ کی بڑی تعداد بھی وہاں پہنچ گئی۔ مقتول سیف اللہ کے چچا شاہین پرویز کے مطابق سیف اللہ چار بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھا اور میٹرک کا طالب علم تھا۔ وہ شادی کی خوشی میں شریک ہونے گیا تھا لیکن ہوائی فائرنگ نے اس کی زندگی کا چراغ گل کر دیا۔جاں بحق انس حسن کے والد نے بتایا کہ دونوں نوجوان میٹرک کے طالب علم تھے۔ انس بھی اسی شادی کی تقریب میں شریک تھا۔ بارات واپس آئی اور فائرنگ کی گئی، اس دوران ایک گولی انس کو بھی لگی۔انس کے والد کا کہنا تھا کہ میں کسی کو معاف نہیں کروں گا۔میں کرایہ کے گھر میں رہتا ہوں، میرے 11بچے ہیں۔ حکومت کو دیکھنا چاہئے کہ ہر کسی کو اسلحہ لائسنس دے دیتے ہیں۔ مجھے انصاف چاہئے، میری دنیا ختم ہو گئی۔ ریسکیو حکام کے مطابق 15سالہ انس کے سر پر گولی لگی جبکہ 17سال کے سیف اللہ کے سینے پر گولی کا نشان ہے۔ پولیس کے مطابق فائرنگ میں ملوث دولہا اور اس کے بھائی کو گرفتار کر کے 9ایم ایم پستول بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔