اسلام آباد (مہتاب حیدر) فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے تجویز دی ہے کہ ملک میں کام کرنے والے ہر بینکنگ سورس اور الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوٹ کے لیے ٹیکس اور بینکنگ معلومات کو الیکٹرانک طریقے سے اپ لوڈ کرنا لازمی قرار دیا جائے، تاکہ بڑے پیمانے پر ہونے والی ٹیکس چوری کا پتا لگانے کے لیے ان معلومات کا باہمی موازنہ کیا جا سکے۔ پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے فنانس بل برائے 27-2026 کے سیکشن 165AB کے تحت یہ واضح کیا گیا ہے کہ بینکنگ کمپنیز آرڈیننس 1962، اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ 1956، پروٹیکشن آف اکنامک ریفارمز ایکٹ 1992، یا اس وقت نافذ العمل کسی بھی دوسرے قانون میں درج بالا احکامات کے باوجود، ہر بینکنگ کمپنی اور الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشن کے لیے لازم ہوگا۔