• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یورپین یونین میں ہنر مند افرادی قوت کی کمی پوری کرنے کیلئے نئے قواعد نافذ

فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

برسلز: یورپین یونین میں ہنر مند افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنے کیلئے نئے قواعد نافذ کردیے گئے ہیں، موجود ہنر مند غیر ملکی کارکن اپنے آبائی ملک جائے بغیر یورپ میں قانونی طور پر کام و رہائش اختیار کرنے کیلئے ایک ہی پرمٹ حاصل کرسکیں گے۔

تفصیلات کے مطابق یورپین کمیشن یورپ میں بڑھتی ہوئی عمر کی حامل آبادی کے باعث مختلف شعبوں میں ورکرز کی کمی کو پورا کرنے کیلئے دنیا بھر سے قانونی طور پر نوجوان ہنرمند افرادی قوت کو متوجہ کرنے پر کام کر رہا تھا۔

اس حوالے سے یورپ بھر کی سطح پر دو اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ اول یہ کہ نئے قواعد کے ساتھ سنگل پرمٹ ڈائریکٹو نافذ العمل ہوگیا ہے۔ اس پرمٹ کے ذریعے یورپ میں موجود (شرائط پر پورا اترنے والی) ہنر مند افرادی قوت اپنے ملک جائے بغیر ایک ہی پرمٹ پر کام اور رہائشی حقوق بیک وقت حاصل کر سکیں گے۔

اس کے ساتھ ہی ڈائریکٹو میں تمام ممبر ممالک کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ سنگل پرمٹ پر درخواست کا فیصلہ 90 دن کے اندر اندر کر دیں گے۔

علاوہ ازیں دنیا کے مختلف ممالک کے بالمقابل یورپین یونین کو مسابقتی رکھنے کیلئے مخصوص شعبوں میں افرادی قوت کی کمی کو دور کرنے اور اس کمی کو غیر قانونی امیگرینٹس کی بجائے قانونی طور پر پورا کرنے کیلئے ای یو ٹیلنٹ پول کے نام سے ایک پلیٹ فارم بنا دیا گیا ہے۔

اس ماہ سے شروع ہونے والا یہ پلیٹ فارم 2027 کے اختتام تک آپریشنل ہونے کی امید ہے۔ جس کے ذریعے یورپ سے باہر کے نوجوان ماہرین اپنی تعلیمی قابلیت، اپنا ہنر ، اپنے تجربے اور جو زبان وہ جانتے ہیں، کے ساتھ اپنا پروفائل بنا لیں گے۔ جبکہ اسی پلیٹ فارم کے ذریعے ضرورت مند کمپنیاں اور افراد جاب کو مشتہر کرنے کے علاوہ ان کی خدمات حاصل کرنے کیلئے رابطہ بھی کر سکیں گے۔

یورپین کمیشن کے مطابق نئے قوانین میں غیر یورپین ورکرز کو استحصال سے بچانے، پرمٹ کے ساتھ ہی ان کے حقوق سے آگاہ کرنے، کچھ شرائط کے ساتھ اپنا آجر تبدیل کرنے اور واحد اجازت نامے کی مدت کے دوران بےروزگار رہتے ہوئے ملک میں رہنے کی اجازت دینا بھی شامل ہے۔ تاہم یہ نئے قوانین ڈنمارک اور آئرلینڈ میں لاگو نہیں ہونگے۔

یورپین لیبر اتھارٹی کے مطابق یورپین یونین میں جن سیکٹرز میں ہنرمند افرادی قوت کی کمی ہے ان میں ہیلتھ کئیر اور سوشل سروسز، انفارمیشن اور کمیونیکیشنز ٹیکنالوجیز، گرین ٹیکنالوجیز کیلئے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ میتھمیٹکس کے ماہرین، الیکٹریشنز، ویلڈرز، پلمبرز، تعمیراتی صنعت کے ماہرین، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے شعبوں میں ہیوی ٹرک اور لاری ڈرائیورز، موبائل پلانٹ آپریٹرز اور ریلوے سٹاف شامل ہیں۔

برطانیہ و یورپ سے مزید