برطانوی ہوم آفس نے فلسطین ایکشن پر پابندی لگانے کے فیصلے کو چیلنج کیے جانے کے باوجود اعلیٰ عدالت میں اپنے موقف پر فتح حاصل کر لی۔ عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ تنظیم دہشت گردی کے مترادف غیر قانونی تشدد کو واضح طور پر فروغ دیتی ہے۔
حکومت نے فروری میں ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو کامیابی کیساتھ چیلنج کیا جس میں پایا گیا کہ اس وقت کی ہوم سیکریٹری یوویٹ کوپر نے دہشت گردی کے قانون کے تحت گروپ کو کالعدم قرار دینے میں غیر قانونی کام کیا تھا۔
گزشتہ سال 5 جولائی کو شروع ہونے والی اس پابندی نے ڈائریکٹ ایکشن گروپ کی رکنیت یا اس کی حمایت کو ایک مجرمانہ جرم بنا دیا جس کی سزا 14 سال تک قید ہے، ہوم آفس کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کی کوشش کی وجہ سے یہ نافذ العمل ہے۔
اپیل کورٹ کے 5 ججوں لیڈی چیف جسٹس بیرونس کار، سر جیفری ووس، لارڈ جسٹس ایڈیس، لیڈی جسٹس وہپل اور لارڈ جسٹس لیوس نے ہوم آفس کے حق میں فیصلہ سنایا ہے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنیکا آپشن بھی موجود ہے۔
سیکریٹری داخلہ شبانہ محمود نے کہا ہے کہ ہم اپنی قومی سلامتی کے تحفظ اور عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے ہمیشہ سخت ترین ممکنہ کارروائی کریں گے، یہ امر قابل ذکر ہے کہ پابندی کے بعد بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئی ہیں۔ 700 سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں جن میں مشتبہ افراد پر کالعدم گروپ کے رکن ہونے کا الزام ہے۔