• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
 
---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

روسی صدر پیوٹن کے ناقد روسی فنکار سیمیون اسکریپیٹسکی کو پولینڈ میں نامعلوم افراد نے گولی مار کر قتل کر دیا، جس کے بعد واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

پولش پراسیکیوٹرز کے مطابق پولینڈ میں حملے میں سیمیون اسکریپیٹسکی پر 5 گولیاں چلائی گئیں، جن میں سے ایک گولی ان کے سر میں لگی جو جان لیوا ثابت ہوئی۔

ضلع لوبلن کے پراسیکیوٹر کے ترجمان مارسن کوزاک نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ واقعے کے سلسلے میں 2 بیلاروسی شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے، تاہم تاحال ان پر باضابطہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔

مقامی میڈیا کے مطابق مقتول کی شناخت رابرٹ کُزوفکوف کے نام سے ہوئی ہے، جو اپنے فنی نام سیمیون اسکریپیٹسکی سے زیادہ معروف تھے۔ 

وہ ایک فنکار، طنز نگار اور پرفارمر تھے جو روسی حکومت اور صدر پیوٹن پر تنقید کے حوالے سے شہرت رکھتے تھے۔

پراسیکیوٹرز نے بھی تصدیق کی کہ مقتول اپنی فنی سرگرمیوں میں روسی حکام کی پالیسیوں پر تنقید کرتے تھے۔

رپورٹس کے مطابق قتل سے صرف 3 روز قبل اسکریپیٹسکی برلن گئے تھے، جہاں انہوں نے روس کے یومِ خود مختاری کے موقع پر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔

اس احتجاج میں انہوں نے سابق سوویت رہنما جوزف اسٹالن اور پیوٹن کی ایک علامتی اور طنزیہ تصویر پیش کی تھی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید