• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا کی سب سے باریک چاکلیٹ، منہ میں رکھتے ہی گھل جائے

دنیا کی سب سے باریک چاکلیٹ کی موٹائی صرف 0.03 ملی میٹر ہے جو جاپانی کنفیکشنر میٹے کی تخلیق ہے۔ کورٹیشیا نامی یہ چاکلیٹ ایک لپٹی ہوئی شیٹ پر مشتمل اور منفرد سوئیٹ میں شمار ہوتی ہے۔

فروری 2024 میں جاپان کے صدر مقام ٹوکیو کے علاقے ازابودائی ہلز گارڈن پلازہ میں اس کا افتتاح ہوا جس کے بعد میٹے بوٹیگا ڈیل سیاکولاٹو نے تیزی سے دنیا کی سب سے باریک چاکلیٹ کی شہرت حاصل کر لی۔ 

کورٹیشیا جس کا اطالوی زبان میں مطلب درخت کی چھال ہے۔ یہ اس کمپنی کا سب سے مشہور سوئیٹ آئٹم ہے۔ اسے انجینئرنگ کا ایک حیرت انگیز شاہکار قرار دیا جاتا ہے کیونکہ صرف 0.03 ملی میٹر موٹی چاکلیٹ تیار کرنا کوئی آسان کام نہیں۔

یورپی ملک اٹلی کی روایتی تہہ دار چاکلیٹس سے متاثر ہو کر تیار کی گئی کورٹیشیا چاکلیٹ ایک انتہائی باریک تہہ پر مشتمل ہے، جسے ایک منفرد خصوصی مشین کے ذریعے دبایا اور رول کیا جاتا ہے۔ یہ مشین مقامی مشینری ماہرین کے اشتراک سے تقریباً ڈیڑھ سال کی محنت کے بعد تیار کی گئی۔

اگرچہ دنیا میں اس نوعیت کی بہت سی مشینیں موجود ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی کورٹیشیا جتنی باریک چاکلیٹ کی تہہ تیار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ آپ غالباً سوچ رہے ہوں گے کہ آخر چاکلیٹ کو اتنا غیر معمولی حد تک باریک بنانے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ 

تو عرض یہ ہے کہ میٹے کے بانی میٹیئو سانکلیکا کا تصور ایک ایسی چاکلیٹ تخلیق کرنا تھا جو منہ میں گھل جانے والی بے مثال ساخت (ٹیکسچر) پیش کرے۔ ان کے مطابق چاکلیٹ اپنی بہترین حالت میں اس وقت ہوتی ہے جب وہ منہ میں رکھتے ہی گھلنے لگے اور کورٹیشیا کے بانی نے اس میں یہی احساس فراہم کرنے کا ہدف رکھا۔

صرف 0.03 ملی میٹر موٹی چاکلیٹ کی تہہ کو ایک ایسے سلنڈریکل ڈیزائن میں لپیٹا جو کہ بے قاعدہ درخت کی چھال سے ڈھکی ہوئی ٹہنی سے مشابہت رکھتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ میٹے کی یہ تخلیق زبان کو چھوتے ہی فوراً گھل جاتی ہے، جس کے نتیجے میں ایک نیا اور منفرد ذائقہ و احساس منہ میں حاصل ہوتا ہے۔

دلچسپ و عجیب سے مزید