• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا کی بدصورت ترین شارک کی پہلی جھلک منظرِ عام پر

فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا
فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا

بڑی ناک اور پھیلے ہوئے جبڑوں والی دنیا کی بدصورت شارک کی پہلی جھلک سامنے آ گئی۔

سائنسدانوں نے سمندر کی گہرائیوں میں موجود دنیا کی بدصورت ترین سمجھی جانے والی گوبلن شارک کی ویڈیو ریکارڈ کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔

گوبلن شارک کو ’لونگ فوسل‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ شارک کی یہ نسل 12 کروڑ 50 لاکھ سال سے اس کرۂ ارض پر موجود ہے۔

اس شارک کو پہلی بار 2019ء میں ہوائی کے قریب موجود جزیرے جارویس اور 2024ء میں ٹونگا ٹرینچ میں پانی کی گہرائیوں میں تیرتے ہوئے فلمایا گیا تھا۔

گوبلن شارک سے متعلق یہ حیرت انگیز انکشافات حال ہی میں ’جرنل آف فش بائیولوجی‘ میں شائع ہوئے ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق عام حالات میں اس شارک کا منہ اندر کی طرف ہوتا ہے لیکن شکار کرتے وقت یہ گولی کی رفتار سے اپنے جبڑوں کو تیزی سے آگے کی طرف نکال کر شکار کو جکڑ لیتی ہے۔

سائنسدانوں نے مزید بتایا ہے کہ گوبلن شارک کا رنگ سرمئی ہوتا ہے، ناک طوطے کی چونچ کی طرح لمبی ہوتی ہے اور اس کا جسم کسی ہارر فلم کے کردار جیسا نظر آتا ہے۔

 سائنسدانوں کے مطابق یہ شارک سمندر میں 2 ہزار میٹر یعنی تقریباً 6 ہزار 500 فٹ  سے بھی زیادہ گہرائی میں رہتی ہے اور وہاں اس شارک تک پہنچنا انتہائی مشکل تھا۔

دلچسپ و عجیب سے مزید