یورپ سے کچھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شمالی افریقہ کے ملک مراکش کی آبادی 35 ملین نفوس پر مشتمل ہے۔ یہاں کی قومی زبان عربی جبکہ فرنچ بھی کثرت سے بولی جاتی ہے۔ مراکش کے شہر تنجیر جہاں اٹلانٹک اور میڈیٹرین دونوں سمندر آکر ملتے ہیں، سے اسپین کا فاصلہ بذریعہ بحری جہاز مختصر وقت میں طے کیا جاسکتا ہے۔ یہ ملک تاریخی لحاظ سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ابن بطوطہ اور عظیم مسلمان سپہ سالار طارق بن زیاد کا تعلق بھی مراکش سے تھا جو 711ء میں ساتھیوں کے ہمراہ مراکش کے شہر تنجیر سے کشتیوں کے ذریعے یورپی ملک اسپین پر لشکر کشی کیلئے روانہ ہوا اور اسپین سے ملحق جبرالٹر (جبل الطارق) نامی پہاڑی مقام پر پڑائو ڈالا۔ اس موقع پر طارق بن زیاد نے تمام کشتیوں کو آگ لگانے کے بعد اپنی تاریخی تقریر میں کہا کہ ’’دشمن ہمارے سامنے اور پشت پر سمندر ہے، ہم اپنی تمام کشتیاں جلاچکے ہیں اور اب ہماری واپسی ممکن نہیں۔‘‘ طارق بن زیاد کے ان الفاظ کو ان کے ساتھیوں نے شہادت یا فتح سے تعبیر کیا اور میدان کارزار میں ہمت و شجاعت کی وہ داستان رقم کی جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔ طارق بن زیاد کی یہ فتح یورپ میں اسلام کی آمد کا سبب بنی اور مسلمانوں نے اندلس جو آج اسپین اور پرتگال پر مشتمل ہے، پر تقریباً 800 سال تک حکمرانی کی۔
1912ء سے 1955ء تک مراکش پر فرانس قابض رہا تاہم ہزاروں مراکشی باشندوں کی قربانیوں کے نتیجے میں 1956ء میں مراکش نے فرانس سے آزادی حاصل کی۔ آزادی کی تحریک میں پاکستان نے بھی مراکش کا بھرپور ساتھ دیا۔ 1952ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر مراکش کے شاہ محمد پنجم کی طرف سے بھیجے گئے تحریک آزادی کے سرگرم لیڈر احمد عبدالسلام بلفرج سیکورٹی کونسل میں جب مراکش کی آزادی کے حق میں آواز بلند کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو وہاں موجود فرانسیسی نمائندے نے احمد بلفرج کو یہ کہہ کر خطاب کرنے سے روک دیا کہ ’’مراکش چونکہ فرانس کی کالونی ہے لہٰذا احمد بلفرج کو اس پلیٹ فارم سے بولنے کی اجازت نہیں۔‘‘ اجلاس میں پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان بھی شریک تھے، انہوں نے جب ایک مسلمان رہنما کے ساتھ فرانسیسی نمائندے کا ہتک آمیز سلوک دیکھا تو احمد بلفرج کو پاکستانی شہریت کی پیشکش کی اور رات گئے نیویارک میں قائم پاکستانی سفارتخانہ کھلواکر احمد بلفرج کو پاکستانی پاسپورٹ جاری کیا گیا۔ اس طرح اگلے روز احمد بلفرج نے پاکستان چیئر سے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرکے مراکش کی فرانس سے آزادی کے حق میں آواز بلند کی جس سے مراکش کی آزادی کی تحریک میں نئی روح پڑی اور بالاخر 19 نومبر 1956ء کو مراکش، فرانس کے تسلط سے آزاد ہوا۔ آزادی کے بعد مراکش کے بادشاہ محمد پنجم نے احمد عبدالسلام بلفرج کو مراکش کا پہلا وزیراعظم نامزد کیا۔ احمد بلفرج آج دنیا میں نہیں مگر وہ جب تک وزیراعظم کے منصب پر فائز رہے، انہوں نے اپنے دفتر میں پاکستانی پاسپورٹ کی کاپی آویزاں رکھی، وہ اپنے دفتر میں ملاقات کے لئے آنے والے ہر شخص کو پاکستانی پاسپورٹ دکھاتے ہوئے بڑے فخر سے بتاتے تھے کہ ’’مراکش کی آزادی کی تحریک میں پاکستان اور پاکستانی پاسپورٹ نے اُن کی بڑی مدد کی۔‘‘ شاید یہی وجہ ہے کہ ترکی کے بعد مراکش وہ ملک ہے جہاں کے لوگ پاکستانیوں سے بہت محبت و عقیدت رکھتے ہیں۔ احمد بلفرج کے تاریخی پاکستانی پاسپورٹ کی ایک کاپی آج بھی میرے پاس محفوظ ہے۔
مراکش میں 17 ویں صدی سے علاوی خاندان کی بادشاہت چلی آرہی ہے، شاہی خاندان کا سلسلہ نسب نبی کریمﷺ سے جاملتا ہے، اِس لئے مراکش کے بادشاہ کو ’’امیر المومنین‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ موجودہ بادشاہ محمد ششم کو اُن کے والد اور مراکش کے بادشاہ حسن دوئم نے پیدائش کے پہلے دن سے ہی اپنا ولی عہد نامزد کردیا تھا اور وہ ابھی 35 سال ہی کے تھے کہ 1999ء میں اپنے والد کے اچانک انتقال کے بعد اُنہیں تخت نشینی سنبھالنا پڑی، اس طرح محمد ششم خاندان علویہ کے 18 ویں بادشاہ ہیں جن کی تخت نشینی کے دن جسے ’’عید العرش‘‘ بھی کہا جاتا ہے، کو ہر سال جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں مراکش کے بادشاہ محمد ششم کی تخت نشینی کی17 ویں سالگرہ مراکش سمیت دنیا بھر میں بڑے جوش و خروش سے منائی گئی۔ 52 سالہ محمد ششم دینی و دنیاوی دونوں طرح کی تعلیم سے آراستہ ہیں، آپ کا تعلق خانوادہ رسولﷺ سے ہے، یہی وجہ ہے کہ مراکش کے عوام اپنے دلوں میں آپ کیلئے انتہائی عقیدت و محبت رکھتے ہیں۔ بادشاہ محمد ششم کی تخت نشینی کی سالگرہ کی مناسبت سے پاکستان میں متعین مراکش کے سفیر مصطفی صلادین نے گزشتہ دنوں دارالحکومت اسلام آباد میں تقریب کا انعقاد کیا جس میں گورنر پنجاب ملک رفیق راجوانہ اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید سمیت اسلام آباد میں متعین مختلف ممالک کے سفیروں اور سیاسی و اعلیٰ شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مراکش کے اعزازی قونصل کی حیثیت سے میں نے بھی تخت نشینی کی سالگرہ کے حوالے سے کراچی کے مقامی ہوٹل میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا۔ سالگرہ کی مناسبت سے ہوٹل کے ہال کو مراکش کے بادشاہ محمد ششم کی تصاویر اور دونوں ممالک کے قومی پرچموں سے سجایا گیا۔ تقریب میں شرکت کیلئے مراکش سفارتخانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن محمد خلاقی اسلام آباد سے خصوصی طور پر کراچی تشریف لائے جبکہ تقریب میں حکومت کی نمائندگی وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی، صوبائی وزراء نثار احمد کھوڑو، ناصر علی شاہ اور شرمیلا فاروقی نے کی۔ تقریب میں نیب سندھ کے ڈائریکٹر جنرل کرنل (ر) سراج نعیم، کمانڈر نیوی ریئر ایڈمرل وسیم اکرم، فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے سینئر نائب صدر خالد تواب، کراچی چیمبرز کے صدر یونس بشیر اور یمن کے اعزازی قونصل جنرل ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ بھی شریک تھے۔ تقریب میں امریکہ، روس، چین، جاپان، جرمنی، تھائی لینڈ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بنگلہ دیش، سری لنکا، انڈونیشیا اور ملائیشیا سمیت مختلف ممالک کے سفارتکاروں کے علاوہ اعلیٰ حکومتی عہدیداروں، سیاستدانوں، بزنس لیڈروں، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات اور میڈیا کے نمائندوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب میں ایک درجن سے زائد مراکشی خواتین بھی اپنے پاکستانی شوہروں کے ہمراہ شریک تھیں جنہوں نے مراکش کے قومی لباس زیب تن کر رکھے تھے۔ یہ خواتین گزشتہ کئی سالوں سے کراچی میں مقیم ہیں اور پاکستان ان کا دوسرا گھر ہے۔
تقریب کا باقاعدہ آغاز مراکش اور پاکستان کے قومی ترانوں سے کیا گیا جس کے بعد مراکش اور پاکستان کے پرچم کے طرز پر بنا کیک میں نے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، دیگر مہمانوں اور سفارتکاروں کے ہمراہ مل کر کاٹا۔ اس موقع پر اپنے مختصر خطاب میں مراکش سفارتخانے کے محمد خلاقی نے ہر سال کی طرح اس سال بھی مراکش کے بادشاہ کی تخت نشینی کی سالگرہ تقریب کا کراچی میں انعقاد کرنے پر میرا اور تقریب میں شرکت کرنے پر مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اپنی اور پاکستانی عوام کی جانب سے مراکش کے بادشاہ اور عوام کو بادشاہ محمد ششم کی تخت نشینی کی 17 ویں سالگرہ پر مبارکباد دی اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی، ثقافتی اور سیاحتی تعلقات میں اہم کردار ادا کرنے پر میری کوششوں کو سراہا۔ میں نے اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، صوبائی وزراء، سفارتکاروں، بزنس مینوں اور دیگر مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تقریب میں لوگوں کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی عوام اپنے مراکشی بھائیوں کی خوشیوں میں برابر کے شریک ہیں، مراکش اور پاکستان دو برادر اسلامی ممالک ہیں جو محبت و اخوت کے رشتے سے بندھے ہوئے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ان تعلقات کی مناسبت سے تجارتی تعلقات میں بھی گرمجوشی دیکھنے میں آئے۔ بعد ازاں تقریب میں شریک مہمانوں کی تواضع مراکشی کھانوں اور پودینے سے بنی مراکش کی خصوصی چائے جو مراکش سے خصوصی طور پر بلائے گئے شیف نے تیار کئے تھے، سے کی گئی جسے مہمانوں نے بہت پسند کیا۔
مراکش اور پاکستان میں تاریخی اعتبار سے بھی مماثلت پائی جاتی ہے۔ 711ء میں جب نوجوان سپہ سالار طارق بن زیاد جبرالٹر کے مقام پر اپنی کشتیاں جلاکر فتح یا شہادت کا اعلان کررہا تھا، اُسی دوران ایک اور نوجوان سپہ سالار محمد بن قاسم برصغیر میں دیبل کے مقام پر فتح کا اسلامی پرچم گاڑ رہا تھا جس کے نتیجے میں پورے برصغیر میں اسلام پھیلا اور کئی صدیوں تک مسلمانوں نے ہندوستان پر حکمرانی کی۔
پاکستان سے ہر سال لاکھوں افراد سیاحت کی غرض سے امریکہ اور یورپی ممالک کا رخ کرتے ہیں جہاں اُن سے انتہائی ہتک آمیز سلوک کیا جاتا ہے اور اُنہیں دہشت گرد سمجھا جاتا ہے۔ اللہ تعالی نے اسلامی ممالک بالخصوص مراکش کو بے انتہا حسن سے نوازا ہے جو دنیا بھر کے سیاحوں کیلئے کشش کا باعث ہے، ہمیں چاہئے کہ ہم سیاحت کے حوالے سے اسلامی ممالک کو ترجیح دیں تاکہ ان ممالک میں نہ صرف سیاحت کو فروغ ملے بلکہ مسلمانوں کو بھی ایک دوسرے سے قریب آنے کا موقع میسر آسکے۔
نوٹ:مراکش کے بادشاہ کی جانب سے عطا کیا گیا مراکش کا قومی اعزاز ’’وسان علاوی‘‘ جو میں نے دوران تقریب پہن رکھا تھا، تقریب کے دوران کہیں گرگیا ہے۔ کالم کی وساطت سے میری گزارش ہے کہ اگر کسی کو ملے تو ای میل ishtiaq.baig@yahoo.com پر مطلع کرے، مطلع کرنے والے کو انعام سے نوازا جائے گا۔